Thursday, 2 April 2020

کچھ کھلونے خریدنے تھے مجھے جا فقیرا! تجھے خدا پوچھے

کن اشاروں سے مدعا پوچھے
گونگا کوا گھڑے سے کیا پوچھے..

کچھ کھلونے خریدنے تھے  مجھے
جا  فقیرا!  تجھے  خدا  پوچھے...

اب میں دیوار ہونے والا ہوں
اب کوئی مجھ سے بے بہا پوچھے۔۔👌

ایک چھتری تو کھل نہیں پائی
کون بارش کی ابتلا پوچھے۔۔

دو برے لوگ پکا یارانہ
آئنہ، آئنے سے کیا پوچھے۔۔۔🔥

فرزاد علی زیرک

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...