Tuesday, 7 April 2020

دیوارِ خستگی ہوں ٫ مجھے ہاتھ مت لگا میں گِر پڑوں گا ٫ دیکھ مجھے آسرا نہ دے

اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے
اے دل ٫ طلسمِ گنبدِ شب میں صدا نہ دے

دیوارِ خستگی ہوں ٫ مجھے ہاتھ مت لگا
میں گِر پڑوں گا ٫ دیکھ مجھے آسرا نہ دے

گُل کر نہ دے چراغِ وفا ٫ ہجر کی ہوا
طولِ شبِ الم مجھے پتھر بنا نہ دے

ہم سب اسیرِ دشتِ ہویدا ہیں دوستو
ہم میں کوئی کسی کو کسی کا پتا نہ دے

سب محوِ نقشِ پردہؑ رنگیں تو ہیں ٫مگر
کوئی ستم ظریف یہ پردہ ہٹا نہ دے

اک زندگی گزیدہ سے یہ دشمنی نہ کر
اے دوست ٫ مجھ کو عمرِ ابد کی دعا نہ دے

ڈرتا ہوں ٫ آئینہ ہوں٫کہیں ٹوٹ ہی نہ جاؤں
اک لَو سی ہوں چراغ کی٫ کوئی بجھا نہ دے

ہاں ٫ مجھ پہ فیضِ میرؔ و فراقؔ و ندیمؔ ہے
لیکن تو ہم سخن مجھے اتنی ہوا نہ دے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...