اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے
اے دل ٫ طلسمِ گنبدِ شب میں صدا نہ دے
دیوارِ خستگی ہوں ٫ مجھے ہاتھ مت لگا
میں گِر پڑوں گا ٫ دیکھ مجھے آسرا نہ دے
گُل کر نہ دے چراغِ وفا ٫ ہجر کی ہوا
طولِ شبِ الم مجھے پتھر بنا نہ دے
ہم سب اسیرِ دشتِ ہویدا ہیں دوستو
ہم میں کوئی کسی کو کسی کا پتا نہ دے
سب محوِ نقشِ پردہؑ رنگیں تو ہیں ٫مگر
کوئی ستم ظریف یہ پردہ ہٹا نہ دے
اک زندگی گزیدہ سے یہ دشمنی نہ کر
اے دوست ٫ مجھ کو عمرِ ابد کی دعا نہ دے
ڈرتا ہوں ٫ آئینہ ہوں٫کہیں ٹوٹ ہی نہ جاؤں
اک لَو سی ہوں چراغ کی٫ کوئی بجھا نہ دے
ہاں ٫ مجھ پہ فیضِ میرؔ و فراقؔ و ندیمؔ ہے
لیکن تو ہم سخن مجھے اتنی ہوا نہ دے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment