Tuesday, 7 April 2020

آوارگی یہ سر پہ میرے یوں سوار ہے اکثر تو تیرے در سے بھی آگے نِکل گیا


اک جسم بحر و بر سے بھی آگے نِکل گیا
یعنی حدِ سفر سے بھی آگے نِکل گیا

شہبازِ عقل ، سدرہ تلک ہی نہیں رہا
توفیقِ بال و پَر سے بھی آگے نِکل گیا

آوارگی  یہ  سر  پہ میرے یوں سوار ہے
اکثر  تو  تیرے  در سے بھی آگے نِکل گیا

کر کے وضو میں ہاتھ لگاؤں شراب کو
تفریقِ  خیر و شر سے بھی آگے نِکل گیا

رونے سے میرے یوں تو کئی بار ہے ہوا
بادل بغیر  برسے  بھی  آگے نِکل گیا

آتا نہیں غُبارِ روشؔ بھی نظر کہیں
شاید وہ رہگُزر سے بھی آگے نِکل گیا

علی روشؔ

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...