Tuesday, 7 April 2020

سانس رُکتی ہے وہیں وقت بھی رُک جاتا ہے، بات کرتے ہُوئے تُو جان __ جہاں رُکتا ہے،

ہونٹ دُکھتے ہیں بیاں ہوتے بیاں رُکتا ہے،
شاعری درد ہے اور درد کہاں رُکتا ہے،

سانس رُکتی ہے وہیں وقت بھی رُک جاتا ہے،
بات کرتے ہُوئے تُو جان __ جہاں رُکتا ہے،

تِل تری گال کا ہے سُرخ اشارے جیسا،
دل کہیں پر نہیں رُکتا جو __ یہاں رُکتا ہے،

وقت رُکتا نہیں یہ بات خُدا سے کہہ دی،
اُس نے روکا ہے تو کہتے ہیں کہ __ ہاں رُکتا ہے،

آگ جلتی ہے تو رفتار پکڑ لیتا ہے،
دل سلگھتا ہے تو رُک رُک کے دھواں رُکتا ہے،

وقت نے وقت ہمارے کو کہیں پھینکا ہے،
ہم کھڑے دیکھ رہے ہیں کہ کہاں رُکتا ہے،

بارہا جھیل رہا ہوں رُکے لمحے عالیؔ،
میں نے سوچا ہی نہیں تھا کے زماں رُکتا ہے،

علی پیر عالیؔ

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...