Sunday, 5 April 2020

اب شام ہوگئی ہے تو سورج کو رویئے ہم نے کہا نہ تھا کہ جوانی فریب ہے

پس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے
جو کچھ بھی ہے زمینی زمانی فریب ہے

رنگ اپنے اپنے وقت پر کھُلتے ہیں آنکھ پر
اوّل  فریب  ہے  کوئی  ثانی  فریب  ہے

سوداگرانِ  شعلگئِ  شر  کے  دوش  پر
مشکیزگاں سے جھانکتا پانی فریب ہے

اب شام ہوگئی ہے تو سورج کو رویئے
ہم نے کہا نہ تھا کہ جوانی فریب ہے

اِس گھومتی زمیں پہ دوبارہ ملیں گے ہم
ہجرت فرار ، نقل مکانی فریب ہے

بارِ دگر سمے سے کسی کا گُزر نہیں
آئندگاں کے حق میں نشانی فریب ہے

علم اک حجاب اور حواس آئنے کا زنگ
نسیان حق ہے ، یاد دہانی فریب ہے

دریا کی اصل تیرتی لاشوں سے پوچھئے
ٹھہراوؑ ایک چال ، روانی فریب ہے

تجسیم کر کہ خواب کی دنیا ہے جاوداں
تسلیم کر کہ عالمِ فانی فریب ہے

شاہد  دروغ  گوئیِ  گلزار  پر  نہ  جا
تتلی سے پوچھ رنگ فشانی فریب ہے

شاہد ذکی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...