پس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے
جو کچھ بھی ہے زمینی زمانی فریب ہے
رنگ اپنے اپنے وقت پر کھُلتے ہیں آنکھ پر
اوّل فریب ہے کوئی ثانی فریب ہے
سوداگرانِ شعلگئِ شر کے دوش پر
مشکیزگاں سے جھانکتا پانی فریب ہے
اب شام ہوگئی ہے تو سورج کو رویئے
ہم نے کہا نہ تھا کہ جوانی فریب ہے
اِس گھومتی زمیں پہ دوبارہ ملیں گے ہم
ہجرت فرار ، نقل مکانی فریب ہے
بارِ دگر سمے سے کسی کا گُزر نہیں
آئندگاں کے حق میں نشانی فریب ہے
علم اک حجاب اور حواس آئنے کا زنگ
نسیان حق ہے ، یاد دہانی فریب ہے
دریا کی اصل تیرتی لاشوں سے پوچھئے
ٹھہراوؑ ایک چال ، روانی فریب ہے
تجسیم کر کہ خواب کی دنیا ہے جاوداں
تسلیم کر کہ عالمِ فانی فریب ہے
شاہد دروغ گوئیِ گلزار پر نہ جا
تتلی سے پوچھ رنگ فشانی فریب ہے
شاہد ذکی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment