Saturday, 11 April 2020

اسے معاف کیا کہ وہ اس کو چاہتا تھا وگرنہ ہم جو حریفوں کا حال کرتے ہیں

کمینہ پن بھی دکھاؤں تو ہنسنے لگتے ہیں
جو گہرے دوست ہیں میرے ، مجھے سمجھتے ہیں

اسے معاف کیا کہ وہ اس کو چاہتا تھا
وگرنہ ہم جو حریفوں کا حال کرتے ہیں

بس ایک بار مجھے ماضی بھول جانے دے
وہ خود پہ آہیں بھریں گے جو کان بھرتے ہیں

تعلقات بڑھانے سے ایک راز کھلا
جنہیں گلے سے لگاؤ گلے ہی پڑتے ہیں

جو تیرے سامنے الحمدللہ کہتے رہے
وہ تیرے بعد خدا سے بہت جھگڑتے ہیں

ہمارے گاؤں کی سڑکوں پہ ریت ناچتی ہے
اور اسکے ذرے بہت دور تک بکھرتے ہیں

افکار علوی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...