Saturday, 11 April 2020

للہ جٙبیں بھی آنکھ بھی رخسار بھی تو ہیں یہ کیا کہ ایک دم سے کمر چوم لی جیے

جان و جہان قلب و نظر چوم لی جیے
مرضی جناب کی ہے جدھر چوم لی جیے۔۔۔

جی تو یہ چاہتا کہ بس دیکھ کر تجھے
یہ آنکھ یہ نگاہ یہ نظر چوم لی جیے۔۔۔

للہ جٙبیں بھی آنکھ بھی رخسار بھی تو ہیں
یہ کیا کہ ایک دم سے کمر چوم لی جیے۔۔

اُٹھیے بھی کیا کریں گے فصاحت، کہ آپ سے
منہ تک نہ کُھل سکے گا اگر چوم لی جیے..

اِس بے قراری سے نہ مجھے دیجے دادِ فٙن
یہ لیجے میرا گال، اِدَھر چوم لی جیے۔۔۔

اللہ رے حمزہ شوخ بیانی تیری کہ بس
ہر جا تو چوما اور کِدھر چوم لی جیے۔۔

حمزہ عمران

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...