جان و جہان قلب و نظر چوم لی جیے
مرضی جناب کی ہے جدھر چوم لی جیے۔۔۔
جی تو یہ چاہتا کہ بس دیکھ کر تجھے
یہ آنکھ یہ نگاہ یہ نظر چوم لی جیے۔۔۔
للہ جٙبیں بھی آنکھ بھی رخسار بھی تو ہیں
یہ کیا کہ ایک دم سے کمر چوم لی جیے۔۔
اُٹھیے بھی کیا کریں گے فصاحت، کہ آپ سے
منہ تک نہ کُھل سکے گا اگر چوم لی جیے..
اِس بے قراری سے نہ مجھے دیجے دادِ فٙن
یہ لیجے میرا گال، اِدَھر چوم لی جیے۔۔۔
اللہ رے حمزہ شوخ بیانی تیری کہ بس
ہر جا تو چوما اور کِدھر چوم لی جیے۔۔
حمزہ عمران
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment