امیرِ شہر کے حالات جب خراب ہوئے
بڑی خرابی ہوئ اور سب خراب ہوۓ
ہمارے چہروں کی الجھن بتا رہی ہے کہ ہم
بلا جواز بنے ؛ بے سبب خراب ہوئے
یہی تو دکھ ہے کہ موجودگاں کی غفلت سے
گزشتگان کے نام و نسب خراب ہوئے
جو رات دن مجھے جینا سکھایا کرتا تھا
چلا گیا تو مرے روز و شب خراب ہوئے
ہم ایسے لوگ نہ دیں کے رہے نہ دنیا کے
تمہارے چاہنے والے عجب خراب ہوئے
تمہاری چڑھتی جوانی کا فیض ہے ورنہ
ہم ایسے پہلے نہ تھے جیسے اب خراب ہوئے
بقدرٍ شوق یہاں ہر کسی نے پیار کیا
بفضلٍ عشق یہاں سب کے سب خراب ہوئے
راکب مختار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment