Thursday, 9 April 2020

امیرِ شہر کے حالات جب خراب ہوئے بڑی خرابی ہوئ اور سب خراب ہوۓ

امیرِ شہر کے حالات جب خراب ہوئے
بڑی خرابی ہوئ اور سب خراب ہوۓ

ہمارے چہروں کی الجھن بتا رہی ہے کہ ہم
بلا جواز بنے ؛ بے سبب خراب ہوئے

یہی تو دکھ ہے کہ موجودگاں کی غفلت سے
گزشتگان کے نام و نسب خراب ہوئے

جو رات دن مجھے جینا سکھایا کرتا تھا
چلا گیا تو مرے روز و شب خراب ہوئے

ہم ایسے لوگ نہ دیں کے رہے نہ دنیا کے
تمہارے چاہنے والے عجب خراب ہوئے

تمہاری چڑھتی جوانی کا فیض ہے ورنہ
ہم ایسے پہلے نہ تھے جیسے اب خراب ہوئے

بقدرٍ شوق یہاں ہر کسی نے پیار کیا
بفضلٍ عشق یہاں سب کے سب خراب ہوئے

راکب مختار

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...