Friday, 3 April 2020

کیا جانے تو کہ کیسے گزرتی ہے زندگی کیف ملال پوچھ کسی دل ملول سے

واقف نہیں جو لوگ سفر کے اصول سے
سائے کی بھیک مانگ رہے ہیں ببول سے

کیا جانے تو کہ کیسے گزرتی ہے زندگی
کیف ملال پوچھ کسی دل ملول سے

میں آج تک سفر میں ہوں اس اعتماد پر
ابھریں گی منزلیں مرے قدموں کی دھول سے

اب ڈس رہا ہے ان کے گزرنے کا غم مجھے
جو لمحے میں گزار چکا ہوں فضول سے
                 
                   ساقی امروہی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...