Friday, 3 April 2020

وہ مسکراتا ہے اس واسطے تواتر سے کہ اُس نے میری طرح دن ابھی گزارے نہیں

یہ چند لوگ ہمارے ہیں سب ہمارے نہیں
چمک رہے ہیں جو سارے سبھی ستارے نہیں

نجانے جلتے ہیں کیوں ہم سے یہ جہاں والے
ہمارے پاس تو اشعار ہیں شرارے نہیں

وہ مسکراتا ہے اس واسطے تواتر سے
کہ اُس نے میری طرح دن ابھی گزارے نہیں

کچھ اس لیے بھی ہم ایسوں کو موت کا ڈر ہے
ہمارے سر ہیں کئی قرض جو اتارے نہیں

نصیب کیسے سنواریں گے ہم سے خانہ بدوش
جنہوں نے بال بھی اپنے کبھی سنوارے نہیں

میں شہسوار ہوں اونچی مہیب لہروں کا
بھنور لبھاتے رہیں گے مجھے کنارے نہیں

فرخ عدیل

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...