یہ چند لوگ ہمارے ہیں سب ہمارے نہیں
چمک رہے ہیں جو سارے سبھی ستارے نہیں
نجانے جلتے ہیں کیوں ہم سے یہ جہاں والے
ہمارے پاس تو اشعار ہیں شرارے نہیں
وہ مسکراتا ہے اس واسطے تواتر سے
کہ اُس نے میری طرح دن ابھی گزارے نہیں
کچھ اس لیے بھی ہم ایسوں کو موت کا ڈر ہے
ہمارے سر ہیں کئی قرض جو اتارے نہیں
نصیب کیسے سنواریں گے ہم سے خانہ بدوش
جنہوں نے بال بھی اپنے کبھی سنوارے نہیں
میں شہسوار ہوں اونچی مہیب لہروں کا
بھنور لبھاتے رہیں گے مجھے کنارے نہیں
فرخ عدیل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment