Monday, 1 June 2020

اس نے چوما تھا ہتھیلی پہ سو مُٹھی میں مری تتلیاں قید ہیں _____ آزاد نہیں کرتا میں

شام کے بعد تجھے یاد نہیں کرتا میں
یوں چراغوں کی بھی امداد نہیں کرتا میں

ہاتھ میں کاسہ کوئی دیکھ کے پہچان نہ لے
دھند چَھٹ جائے تو فریاد نہیں کرتا میں

اس نے چوما تھا ہتھیلی پہ سو مُٹھی میں مری
تتلیاں قید ہیں _____ آزاد نہیں کرتا میں

میری آنکھیں بھلے چہروں کی گزرگاہیں ہیں
رو کے ان گلیوں کو برباد نہیں کرتا میں 

اس قدر لذتِ یکتائی ہے یارو سرِ ہجر
وصل کے ذائقے بھی یاد نہیں کرتا میں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...