شام کے بعد تجھے یاد نہیں کرتا میں
یوں چراغوں کی بھی امداد نہیں کرتا میں
ہاتھ میں کاسہ کوئی دیکھ کے پہچان نہ لے
دھند چَھٹ جائے تو فریاد نہیں کرتا میں
اس نے چوما تھا ہتھیلی پہ سو مُٹھی میں مری
تتلیاں قید ہیں _____ آزاد نہیں کرتا میں
میری آنکھیں بھلے چہروں کی گزرگاہیں ہیں
رو کے ان گلیوں کو برباد نہیں کرتا میں
اس قدر لذتِ یکتائی ہے یارو سرِ ہجر
وصل کے ذائقے بھی یاد نہیں کرتا میں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment