Monday, 1 June 2020

نظر ٹھہرتی نہ تھی اس پہ اور خود پر بھی میں آئینے میں تھی کل ایک لالہ فام کے ساتھ


ترے خیال، ترے خواب، تیرے نام کے ساتھ
بنی ہے خاک مری کتنے اہتمام کے ساتھ

بہت سے پھول تھے اور سارے اچھے رنگوں کے
صبا نے بھیجے تھے جو کل ترے پیام کے ساتھ

نظر ٹھہرتی نہ تھی اس پہ اور خود پر بھی
میں آئینے میں تھی کل ایک لالہ فام کے ساتھ

ترے خیال سے روشن ہے سر زمین سخن
کہ جیسے زینت شب ہو مہ تمام کے ساتھ

پھر آ گئی ہے مرے در پہ کیا وہی دنیا؟
میں کر کے آئی تھی رخصت جسے سلام کے ساتھ

سنا ہے پھول جھڑے تھے جہاں ترے لب سے
وہاں بہار اترتی ہے روز شام کے ساتھ

خوشی کے واسطے کب کوئی دن مقرر تھا
مگر یہ دل میں رکی ہے ترے خرام کے ساتھ

نرجس افروز زیدی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...