Tuesday, 2 June 2020
پہلی قسطوں میں تری موت نہیں ہو سکتی اپنے تھیٹر کو میں ویران نہیں کر سکتا
دوسرا عشق مری جان! نہیں کر سکتا
یہ ترا حافظِ قرآن نہیں کر سکتا
دسترس میں ہے مری کیف بھی کیفیت بھی
زخم بھر کر مجھے حیران نہیں کر سکتا
ان پہ غالب ہے کئی چہروں کے اشراک کا دین
تو ان آنکھوں کو مسلمان نہیں کر سکتا
پہلی قسطوں میں تری موت نہیں ہو سکتی
اپنے تھیٹر کو میں ویران نہیں کر سکتا
یہ مرا آخری پتھر ہے تری یاد میں دوست
اب میں پانی کو پریشان نہیں کر سکتا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment