Tuesday, 2 June 2020

پہلی قسطوں میں تری موت نہیں ہو سکتی اپنے تھیٹر کو میں ویران نہیں کر سکتا


دوسرا عشق مری جان! نہیں کر سکتا
یہ ترا حافظِ قرآن نہیں کر سکتا

دسترس میں ہے مری کیف بھی کیفیت بھی
زخم بھر کر مجھے حیران نہیں کر سکتا

ان پہ غالب ہے کئی چہروں کے اشراک کا دین
تو ان آنکھوں کو مسلمان نہیں کر سکتا

پہلی قسطوں میں تری موت نہیں ہو سکتی
اپنے تھیٹر کو میں ویران نہیں کر سکتا

یہ مرا آخری پتھر ہے تری یاد میں دوست
اب میں پانی کو پریشان نہیں کر سکتا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...