آلِ عمر
کرونگا عشق وراثت کا کچھ بتاؤں گا نئیں
میں اک غریب کی بیٹی کو آزماؤں گا نئیں
انہیں کہو کہ بہت ڈھیر شور و شر نہ کریں
میں ڈر گیا تو کئی روز مسکراؤں گا نئیں
تسلی دونگا تو مر جائے گی، وہ لڑکی ہے
میں جانے دونگا گلے سے اسے لگاؤں گا نئیں
اسے خبر بھی نہیں ہوگی اتنا چاہوں گا
اسے پتہ بھی نہیں ہوگا، میں بتاؤں گا نئیں
یہ راستہ بڑی مشکل سے طے کیا میں نے
یہ فاصلہ ہے دلوں کا اسے مٹاؤں گا نئیں
ترا مطالبہ ہے _____ تیری یاد کے آنسو
میں اب کے رویا تو آنکھوں کو بھی بچاؤں گا نئیں
اور اب کی سالگرہ پر پلان کیا ہے ترا۔۔؟؟؟
اور اب کی بار تو میں سامنے بھی آؤں گا نئیں
میں تجھ سے آنکھ ملا کر غزل سناؤں گا
میں خود کو ڈوبتا دیکھوں گا اور بچاؤں گا نئیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment