Tuesday, 2 June 2020

میں تجھ سے آنکھ ملا کر غزل سناؤں گا میں خود کو ڈوبتا دیکھوں گا اور بچاؤں گا نئیں

آلِ عمر

کرونگا عشق وراثت کا کچھ بتاؤں گا نئیں
میں اک غریب کی بیٹی کو آزماؤں گا نئیں

انہیں کہو کہ بہت ڈھیر شور و شر نہ کریں
میں ڈر گیا تو کئی روز مسکراؤں گا نئیں

تسلی دونگا تو مر جائے گی، وہ لڑکی ہے
میں جانے دونگا گلے سے اسے لگاؤں گا نئیں

اسے خبر بھی نہیں ہوگی اتنا چاہوں گا
اسے پتہ بھی نہیں ہوگا، میں بتاؤں گا نئیں

یہ راستہ بڑی مشکل سے طے کیا میں نے
یہ فاصلہ ہے دلوں کا اسے مٹاؤں گا نئیں

ترا مطالبہ ہے _____ تیری یاد کے آنسو
میں اب کے رویا تو آنکھوں کو بھی بچاؤں گا نئیں

اور اب کی سالگرہ پر پلان کیا ہے ترا۔۔؟؟؟
اور اب کی بار تو میں سامنے بھی آؤں گا نئیں

میں تجھ سے آنکھ ملا کر غزل سناؤں گا
میں خود کو ڈوبتا دیکھوں گا اور بچاؤں گا نئیں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...