ابراہیم زوق
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے
تم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہے
نہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے
لوٹتے سیکڑوں نخچیر ہیں کیا یاد رہے
چیر دو سینے میں دل کو کہ پتا یاد رہے
رات کا وعدہ ہے بندے سے اگر بندہ نواز
بند میں دے لو گرہ تا کہ ذرا یاد رہے
قاصد عاشق سودا زدہ کیا لائے جواب
جب نہ معلوم ہو گھر اور نہ پتا یاد رہے
دیکھ بھی لینا ہمیں راہ میں اور کیوں صاحب
ہم سے منہ پھیر کے جانا یہ بھلا یاد رہے
تیرے مدہوش سے کیا ہوش و خرد کی ہو امید
رات کا بھی نہ جسے کھایا ہوا یاد رہے
کشتۂ ناز کی گردن پہ چھری پھیرو جب
کاش اس وقت تمہیں نام خدا یاد رہے
خاک برباد نہ کرنا مری اس کوچے میں
تجھ سے کہہ دیتا ہوں میں باد صبا یاد رہے
گور تک آئے تو چھاتی پہ قدم بھی رکھ دو
کوئی بیدل ادھر آئے تو پتا یاد رہے
تیرا عاشق نہ ہو آسودہ بہ زیر طوبیٰ
خلد میں بھی ترے کوچے کی ہوا یاد رہے
باز آ جائیں جفا سے جو کبھی آپ تو پھر
یاد عاشق کو نہ کیجے گا بھلا یاد رہے
داغ دل پر مرے پھاہا نہیں ہے انگارا
چارہ گر لیجو نہ چٹکی سے اٹھا یاد رہے
زخم دل بولے مرے دل کے نمک خواروں سے
لو بھلا کچھ تو محبت کا مزا یاد رہے
حضرت عشق کے مکتب میں ہے تعلیم کچھ اور
یاں لکھا یاد رہے اور نہ پڑھا یاد رہے
گر حقیقت میں ہے رہنا تو نہ رکھ خود بینی
بھولے بندہ جو خودی کو تو خدا یاد رہے
عالم حسن خدائی ہے بتوں کی اے ذوقؔ
چل کے بت خانے میں بیٹھو کہ خدا یاد رہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment