امیر مینائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وصل ھو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اُٹھا رکھا ہے
مُحتسِب پُوچھ نہ تُو شیشے میں کیا رکھا ہے
پارسائی کا لہُو اِس میں بھرا رکھا ہے
کہتے ہیں آئے جوانی تو یہ چوری نِکلے
میرے جوبن کو لڑکپن نے چُرا رکھا ہے
اِس تغافُل میں بھی سرگرمِ سِتم وہ آنکھیں
آپ تو سوتے ہیں فِتنوں کو جگا رکھا ہے
آدمی زاد ہیں دُنیا کے حسیں لیکن امیر
یار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment