Thursday, 25 June 2020

اب زمانے میں کوئی اہلِ وفا ملتا نہیں کیا وفا بھی دفن کر دی میرے دفنانے کے ساتھ

قمر جلالوی

آہ بھر کے یاد کرتے ہو ہر افسانے کے ساتھ
تم نے کیوں کی تھی محبت ایسے دیوانے کے ساتھ
.
زلف پابندِ کشاکش کیوں ہوئی شانے کے ساتھ
ٹھوکریں زنجیر بھی کھاتی ہے دیوانے کے ساتھ
.
وہ ادا ساقی کی دیکھی مے چھلک جانے کے بعد
پڑ گئی چکر میں توبہ میری پیمانے کے ساتھ
.
آس بندھ کر ٹوٹ جاتی ہے مجھے رونا یہ ہے
آپ ہنس دیتے ہیں وعدے پر قسم کھانے کے بعد
.
بزمِ ساقی میں نظر نیچی کئے بیٹھا ہوں میں
تھک گئی ہے آنکھ پھرے پھرتے پیمانے کے ساتھ
.
یہ تو اے ظالم ہوا جاتا ہے دعوے کا ثبوت
تیرا انکارِ ستم محشر میں شرمانے کے ساتھ
.
حضرتِ ناصح نصیحت تو سر آنکھوں پر مگر
آپ بھی تو کچھ سمجھتے جائیں سمجھانے کے ساتھ
.
جب سے توبہ کی ہے ملتی ہی نہیں وہ صحبتیں
چھٹ گئے یارانِ میخانہ بھی میخانے کے ساتھ
.
اب زمانے میں کوئی اہلِ وفا ملتا نہیں
کیا وفا بھی دفن کر دی میرے دفنانے کے ساتھ
.
دشتِ محفل میں کسی کو ہم بھی دیکھ آئے ہیں کل
کچھ بگولے پھر رہے تھے تیرے دیوانے کے ساتھ
.
پھول پر رونق نہیں آتی بلا سبزہ قمر
حسن کی فطرت ہے خوش رہتا ہے بیگانے کے ساتھ

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...