قمر جلالوی
آہ بھر کے یاد کرتے ہو ہر افسانے کے ساتھ
تم نے کیوں کی تھی محبت ایسے دیوانے کے ساتھ
.
زلف پابندِ کشاکش کیوں ہوئی شانے کے ساتھ
ٹھوکریں زنجیر بھی کھاتی ہے دیوانے کے ساتھ
.
وہ ادا ساقی کی دیکھی مے چھلک جانے کے بعد
پڑ گئی چکر میں توبہ میری پیمانے کے ساتھ
.
آس بندھ کر ٹوٹ جاتی ہے مجھے رونا یہ ہے
آپ ہنس دیتے ہیں وعدے پر قسم کھانے کے بعد
.
بزمِ ساقی میں نظر نیچی کئے بیٹھا ہوں میں
تھک گئی ہے آنکھ پھرے پھرتے پیمانے کے ساتھ
.
یہ تو اے ظالم ہوا جاتا ہے دعوے کا ثبوت
تیرا انکارِ ستم محشر میں شرمانے کے ساتھ
.
حضرتِ ناصح نصیحت تو سر آنکھوں پر مگر
آپ بھی تو کچھ سمجھتے جائیں سمجھانے کے ساتھ
.
جب سے توبہ کی ہے ملتی ہی نہیں وہ صحبتیں
چھٹ گئے یارانِ میخانہ بھی میخانے کے ساتھ
.
اب زمانے میں کوئی اہلِ وفا ملتا نہیں
کیا وفا بھی دفن کر دی میرے دفنانے کے ساتھ
.
دشتِ محفل میں کسی کو ہم بھی دیکھ آئے ہیں کل
کچھ بگولے پھر رہے تھے تیرے دیوانے کے ساتھ
.
پھول پر رونق نہیں آتی بلا سبزہ قمر
حسن کی فطرت ہے خوش رہتا ہے بیگانے کے ساتھ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment