Thursday, 25 June 2020

جو تیرے ساتھ محبت تھی مر گئی ہے وہ مگر جو تجھ سے عقیدت ہے کم نہیں ہوتی

جہانزیب ساحر

خوشی بھی کس نے کہا وجہِ غم نہیں ہوتی
بتا وہ شام جو شامِ الم نہیں ہوتی

ہم اس جگہ پہ کرایے کے گھر میں رہتے ہیں
ہماری رائے کبھی محترم نہیں ہوتی

ترے خیال کے آتے ہی لوٹنے سے لگا
ہرایک چیز اداسی میں ضم نہیں ہوتی

جھکے ہوئے ہیں یہ سر تو کسی مصیبت میں
یہ اک فقیر کی گردن ہے خم نہیں ہوتی

جو تیرے ساتھ محبت تھی مر گئی ہے وہ
مگر جو تجھ سے عقیدت ہے کم نہیں ہوتی

میں اپنے دکھ میں برابر شریک ہوں لیکن
بس ایک مسئلہ ہے آنکھ نم نہیں ہوتی

بتا رہی ہیں پرندوں کی ہجرتیں ساحر
کوئی تباہی کبھی ایک دم نہیں ہوتی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...