جہانزیب ساحر
خوشی بھی کس نے کہا وجہِ غم نہیں ہوتی
بتا وہ شام جو شامِ الم نہیں ہوتی
ہم اس جگہ پہ کرایے کے گھر میں رہتے ہیں
ہماری رائے کبھی محترم نہیں ہوتی
ترے خیال کے آتے ہی لوٹنے سے لگا
ہرایک چیز اداسی میں ضم نہیں ہوتی
جھکے ہوئے ہیں یہ سر تو کسی مصیبت میں
یہ اک فقیر کی گردن ہے خم نہیں ہوتی
جو تیرے ساتھ محبت تھی مر گئی ہے وہ
مگر جو تجھ سے عقیدت ہے کم نہیں ہوتی
میں اپنے دکھ میں برابر شریک ہوں لیکن
بس ایک مسئلہ ہے آنکھ نم نہیں ہوتی
بتا رہی ہیں پرندوں کی ہجرتیں ساحر
کوئی تباہی کبھی ایک دم نہیں ہوتی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment