Saturday, 27 June 2020

غلط تو خیر محبت میں اور کیا ہوتا مگر یہ ہے کہ طبیعت درست ہو گئی ہے

سنبھل نہیں گئی حضرت !! درست ہو گئی ہے
بگڑ کے اور بھی حالت درست ہو گئی ہے

عجیب بات سُنی ہے خدا معاف کرے
کہ آں جناب کی صحبت درست ہو گئی ہے

خراب شے ہوا کرتی تھی کوئی دن پہلے
تجھے ملی ہے تو شہرت درست ہو گئی ہے

نجانے کون مخاطب ہے اِن دنوں تجھ سے
کوئی بھی ہو  ، مری لکنت درست ہو گئی ہے

غلط تو خیر محبت میں اور کیا ہوتا
مگر یہ ہے کہ طبیعت درست ہو گئی ہے

ابھی گیا ہے مجھے کوستے ہوئے کوئی
کہ اُس تئیں مری نیّت درست ہو گئی ہے

کھلا کہ اُس سے بچھڑنے کی دیر تھی جواد 
مری اِک اور بھی عادت درست ہو گئی ہے

جواد شیخ

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...