Friday, 5 June 2020

کمال یہ ہے عدم کو بھی ملے اعزاز کسی بھی اور کی دستار کو اُتارے بغیر

میں صاف صاف  یہ کہتا ہوں اِستعارے بغیر
مجھے بہشت بھی جانا نہیں تمہارے بغیر

 مِرا یہ فیصلہ ہے اور تم  یہ جانتے ہو
میں فیصلے نہیں کرتا ہوں  اِستخارے بغیر

 تو اُس کو  چاہئے جا کر دکان داری کرے
جو شخص چاہتا ہو  عشق  بھی خَسارے بغیر

 سنَد بھی چاہتے ہو اور اِمتحاں سے گُریز
سَحَر کی آرزو رکھتے ہو  شب گزارے بغیر

 میں اِس لئے بھی دعا پر یقین رکھتا ہوں
کہ تم بھی سُنتے نہیں ہو مِری،  پکارے بغیر

 وہ ماہ تاب ہے،  ملنا تو با وُضو ہو کر
وہ جاں نِکال بھی لیتا ہے جاں سے مارے بغیر

میں چاہتا ہوں کہ دونوں ہی جیت جائیں ہم
میں چاہتا ہوں یہی ہو کسی کے ہارے بغیر

 تو کیا یہ کم ہے کرامت، کہ جان لیتا ہوں
 رضائے یار کو میں یار  کے اِشارے بغیر 

پڑا جو دشت سے پالا تو پھر یہ یاد آیا
 کہ ایک شخص تھا دریا سا اور  کِنارے بغیر

کھڑا ہوں پاوں پہ جو میں تو تیری ستّاری
میں مُشتِ خاک ہوں مولا تِرے سہارے بغیر

کمال یہ  ہے عدم کو بھی ملے اعزاز
 کسی بھی اور کی دستار کو اُتارے بغیر

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...