میں صاف صاف یہ کہتا ہوں اِستعارے بغیر
مجھے بہشت بھی جانا نہیں تمہارے بغیر
مِرا یہ فیصلہ ہے اور تم یہ جانتے ہو
میں فیصلے نہیں کرتا ہوں اِستخارے بغیر
تو اُس کو چاہئے جا کر دکان داری کرے
جو شخص چاہتا ہو عشق بھی خَسارے بغیر
سنَد بھی چاہتے ہو اور اِمتحاں سے گُریز
سَحَر کی آرزو رکھتے ہو شب گزارے بغیر
میں اِس لئے بھی دعا پر یقین رکھتا ہوں
کہ تم بھی سُنتے نہیں ہو مِری، پکارے بغیر
وہ ماہ تاب ہے، ملنا تو با وُضو ہو کر
وہ جاں نِکال بھی لیتا ہے جاں سے مارے بغیر
میں چاہتا ہوں کہ دونوں ہی جیت جائیں ہم
میں چاہتا ہوں یہی ہو کسی کے ہارے بغیر
تو کیا یہ کم ہے کرامت، کہ جان لیتا ہوں
رضائے یار کو میں یار کے اِشارے بغیر
پڑا جو دشت سے پالا تو پھر یہ یاد آیا
کہ ایک شخص تھا دریا سا اور کِنارے بغیر
کھڑا ہوں پاوں پہ جو میں تو تیری ستّاری
میں مُشتِ خاک ہوں مولا تِرے سہارے بغیر
کمال یہ ہے عدم کو بھی ملے اعزاز
کسی بھی اور کی دستار کو اُتارے بغیر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment