آلِ عمر
یہ کیا معمہ ہے میری درویشی اس کی آنکھوں میں آ رہی ہے
میں جب سے اوجھل ہوا ہوں وہ مجھ کو ٹھیک سے دیکھ پا رہی ہے
میں سچ بتاؤں تو میں محبت کا اور لڑکی کا آدمی نئیں
شروع سے پہلی مجھ کو سُرمہ تو دوجی چونا لگا رہی ہے
یہ روز رونا بھی کون چاہے گا اور رونا بھی دوستی میں
پر آنسو پی پی کے میرے لہجے کی سالا شیرینی جا رہی ہے
وہ شاعرہ تو نہیں مگر جانتی ہے نظموں کا رزق کیا ہے
بہت ہی نازک ہے پر رلانے میں زور پورا لگا رہی ہے
مجھے وہ کل شب منا رہی تھی تو امی یہ کہہ کے مسکرائیں
تم اپنا سیل فون چینج کر لو مجھے بھی آواز آ رہی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment