Saturday, 6 June 2020

مجھے وہ کل شب منا رہی تھی تو امی یہ کہہ کے مسکرائیں تم اپنا سیل فون چینج کر لو مجھے بھی آواز آ رہی ہے

آلِ عمر

یہ کیا معمہ ہے میری درویشی اس کی آنکھوں میں آ رہی ہے
میں جب سے اوجھل ہوا ہوں وہ مجھ کو ٹھیک سے دیکھ پا رہی ہے

میں سچ بتاؤں تو میں محبت کا اور لڑکی کا آدمی نئیں
شروع سے پہلی مجھ کو سُرمہ تو دوجی چونا لگا رہی ہے

یہ روز رونا بھی کون چاہے گا اور رونا بھی دوستی میں
پر آنسو پی پی کے میرے لہجے کی سالا شیرینی جا رہی ہے

وہ شاعرہ تو نہیں مگر جانتی ہے نظموں کا رزق کیا ہے
بہت ہی نازک ہے پر رلانے میں زور پورا لگا رہی ہے

مجھے وہ کل شب منا رہی تھی تو امی یہ کہہ کے مسکرائیں
تم اپنا سیل فون چینج کر لو مجھے بھی آواز آ رہی ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...