لذت وصل کہاں درد جفا سے پہلے
چاندنی شب میں کہیں زلف سیہ سے پہلے
میں نے بت خانہ میں دیکھیں ہیں بہت سجدہ کناں
وہ تو جھک جاتے ہیں فورا ہی ندا سے پہلے
بن کے سائل یوں زمانے کے پھرو گے کب تک
کیا کوئی اور بھی سنتا ہے خدا سے پہلے
اب نہ دیکھیں گے گلستاں میں کبھی دور بہار
اب قفس سے کہاں آزادی قضا سے پہلے
سو برس بھی نہ رہی زندگی انسان کا حق
موت آجاتی ہے جینے کی ادا سے پہلے
نہیں دفتر میں میرے عشق و محبت کا گناہ
کیوں بھلا دار پہ چڑھ جاؤں خطا سے پہلے
ناخدا اب تو سفینہ کو بھنور میں لے چل
دیکھیں ہم بھی تو انا کیا ہے فنا سے پہلے
یاد اغیار سے زخموں کو کریدو نہ افق
آہ بھی نکلی تو پھیلے گی ہوا سے پہلے
اشفاق غوری افق
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment