Sunday, 7 June 2020

بن کے سائل یوں زمانے کے پھرو گے کب تک کیا کوئی اور بھی سنتا ہے خدا سے پہلے

لذت وصل کہاں درد جفا سے پہلے
چاندنی شب میں کہیں زلف سیہ سے پہلے

میں نے بت خانہ میں دیکھیں ہیں بہت سجدہ کناں
وہ تو جھک جاتے ہیں فورا ہی ندا سے پہلے

بن کے سائل یوں زمانے کے پھرو گے کب تک
کیا کوئی اور بھی سنتا ہے خدا سے پہلے

اب نہ دیکھیں گے گلستاں میں کبھی دور بہار
اب قفس سے کہاں آزادی قضا سے پہلے

سو برس بھی نہ رہی زندگی انسان کا حق
موت آجاتی ہے جینے کی ادا سے پہلے

نہیں دفتر میں میرے عشق و محبت کا گناہ
کیوں بھلا دار پہ چڑھ جاؤں خطا سے پہلے

ناخدا اب تو سفینہ کو بھنور میں لے چل
دیکھیں ہم بھی تو انا کیا ہے فنا سے پہلے

یاد اغیار سے زخموں کو کریدو نہ افق
آہ بھی نکلی تو پھیلے گی ہوا سے پہلے
اشفاق غوری افق

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...