اقسان محبوب
ممکن ہے عین چوک میں اس بار کھینچتا
بیٹے کو زر نہ ملتا تو دستار کھینچتا
تھالی کے کچھ نوالے بچائے وگرنہ میں
یاروں کی گردنوں پہ بھی تلوار کھینچتا
رحم آ گیا تھا چور پہ سرمایہ دار کو
ورنہ غریب شہر کو بازار کھینچتا
غفلت سے مر رہا تھا پڑا نوجوان دوست
کیسے نہ ڈاکٹر سے میں گفتار کھینچتا
سب کو چنا گیا ہے محبت کے نام پر
یا رب مجھے بھی کوئی طلب گار کھینچتا
اچھا ہوا کہ ہوش کے ناخن لیۓ گئے
عجلت کا شر تو بیچ میں دیوار کھینچتا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment