Sunday, 7 June 2020

تھالی کے کچھ نوالے بچائے وگرنہ میں یاروں کی گردنوں پہ بھی تلوار کھینچتا

اقسان محبوب

ممکن ہے عین چوک میں اس بار کھینچتا
بیٹے کو زر نہ ملتا تو دستار کھینچتا

تھالی کے کچھ نوالے بچائے وگرنہ میں 
یاروں کی گردنوں پہ بھی تلوار کھینچتا

رحم آ گیا تھا چور پہ سرمایہ  دار کو
ورنہ غریب شہر کو بازار کھینچتا

غفلت سے مر رہا تھا پڑا نوجوان دوست
کیسے نہ ڈاکٹر سے میں گفتار کھینچتا

سب کو چنا گیا ہے محبت کے نام پر
یا رب مجھے بھی کوئی طلب گار کھینچتا

اچھا ہوا کہ ہوش کے ناخن لیۓ گئے
عجلت کا شر تو بیچ میں دیوار کھینچتا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...