ایک سنسان سڑک اور اکیلا گھر ہے
ہر مسافر یہ سمجھتا ہے کہ اپنا گھر ہے
یہیں وحشت ہے میسر یہیں راحت ہم کو
آدھے حصے میں تو صحرا ہے اور آدھا گھر ہے
یہی دنیا ہے مری اور یہی دوست مرے
اک ندی، چند پرندے ہیں، یہاں یا گھر ہے
پاؤں پھیلائیں بھلے بیٹھ کے گپیں ہانکیں۔
کیا تکلف ہے حضور آپ کا اپنا گھر ہے
یہی کافی ہے کہ سکھ چین مکمل ہے یہاں
کیا خرابی ہے اگر تھوڑا سا چھوٹا گھر ہے
خاک ہوں میں کہ مرا خاک سے اٹھا ہے خمیر
یہی ہے اصل مری یہ مرا پہلا گھر ہے
یہ کوئی شہر نہیں گاوں ہے انعام کبیر
بے خطر جاو یہاں جو بھی ہے سانجھا گھر ہے
انعام کبیر
No comments:
Post a Comment