Sunday, 1 November 2020

یہیں وحشت ہے میسر یہیں راحت ہم کو آدھے حصے میں تو صحرا ہے اور آدھا گھر ہے

 ایک سنسان سڑک اور اکیلا گھر ہے

ہر مسافر یہ سمجھتا ہے کہ اپنا گھر ہے 


یہیں وحشت ہے میسر یہیں راحت ہم کو

آدھے حصے میں تو صحرا ہے اور آدھا گھر ہے


یہی دنیا ہے مری اور یہی دوست مرے

اک ندی، چند پرندے ہیں، یہاں یا گھر ہے


پاؤں پھیلائیں بھلے بیٹھ کے گپیں ہانکیں۔

کیا تکلف ہے حضور آپ کا اپنا گھر ہے


یہی کافی ہے کہ سکھ چین مکمل ہے یہاں

کیا خرابی ہے اگر تھوڑا سا چھوٹا گھر ہے


خاک ہوں میں کہ مرا خاک سے اٹھا ہے خمیر

یہی ہے اصل مری یہ مرا پہلا گھر ہے


یہ کوئی شہر نہیں گاوں ہے انعام کبیر

بے خطر جاو یہاں جو بھی ہے سانجھا گھر ہے


انعام کبیر 

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...