Sunday, 1 November 2020

کسی جتن کی ضرورت نہیں پڑے گی تمہیں ہم ایسے لوگ محبت سے ٹوٹ جاتے ہیں

 وفورِحسن کی لذت سے ٹوٹ جاتے ہیں

کچھ آئنے ہیں جو حیرت سے ٹوٹ جاتے ہیں


کسی جتن کی ضرورت نہیں پڑے گی تمہیں

ہم ایسے لوگ محبت سے ٹوٹ جاتے ہیں


زمانہ ان کو بہت جلد مار دیتا ہے

جو لوگ اپنی روایت سے ٹوٹ جاتے ہیں

۔

کئی زمانے کی سختی بھی جھیل لیتے ہیں

کئی وجود حفاظت سے ٹوٹ جاتے ہیں


ہم ایسے لوگوں کو عِشوہ گری نہیں آتی

ہم اک ذرا سی شرارت سے ٹوٹ جاتے ہیں


کبیر جب سبھی دیواریں خستہ ہو جائیں

تو پھر مکان مرمت سے ٹوٹ جاتے ہیں

انعام کبیر 


No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...