آدمی صبر کی شدّت سے بھی مر سکتا ہے
یعنی خاکی کا شکَم خاک سے بھر سکتا ہے
جب مُفَسِّر نے ہی تَفسیر غَلَط لکھی ہو
کوئی قرآن کی آیت سے بھی ڈر سکتا ہے
اک زمیں زاد کی خاطر ہوں زمیں پر ورنہ
آسماں پر بھی مرا نقش اُبھر سکتا ہے
روز سوتا ہوں میں صدمات کے جس بستر پر
کوئی اِک رات اگر سوئے تو مر سکتا ہے
آنکھ دریا کو اٹھا لائی ہے دروازے تک
اب سمُندر بھی مرے گھر سے گزر سکتا ہے
میرے حالات مرے دوست ترے سامنے ہیں
تُو اگر چاہے محبت سے مُکر سکتا ہے
راہ سنسان ہو، ویران ہو، انجان بھی ہو
تب مسافر کو کوئی قتل بھی کر سکتا ہے
شہر میں چاروں طرف آگ لگی ہے واصفؔ
اب سہُولت سے تُو شعلوں میں اُتر سکتا ہے
واصف علی واصف