Monday, 4 January 2021

میرے حالات مرے دوست ترے سامنے ہیں تُو اگر چاہے محبت سے مُکر سکتا ہے

 آدمی صبر کی شدّت سے بھی مر سکتا ہے

یعنی خاکی کا شکَم خاک سے بھر سکتا ہے


جب مُفَسِّر نے ہی تَفسیر غَلَط لکھی ہو

کوئی قرآن کی آیت سے بھی ڈر سکتا ہے


اک زمیں زاد کی خاطر ہوں زمیں پر ورنہ

آسماں پر بھی مرا نقش اُبھر سکتا ہے


روز سوتا ہوں میں صدمات کے جس بستر پر

کوئی اِک رات اگر سوئے تو مر سکتا ہے


آنکھ دریا کو اٹھا لائی ہے دروازے تک

اب سمُندر بھی مرے گھر سے گزر سکتا ہے


میرے حالات مرے دوست ترے سامنے ہیں

تُو اگر چاہے محبت سے مُکر سکتا ہے


راہ سنسان ہو، ویران ہو، انجان بھی ہو

تب مسافر کو کوئی قتل بھی کر سکتا ہے


شہر میں چاروں طرف آگ لگی ہے واصفؔ 

اب سہُولت سے تُو شعلوں میں اُتر سکتا ہے


واصف علی واصف

پی بھی جا شیخ کہ ساقی کی عنایت ہے شراب میں ترے بدلے قیامت میں گنہ گار رہا

 یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا 

پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا


ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد 

ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا 


گر کے نظروں سے تری پھر نہ زمیں سے اٹھا 

میں سبک بھی جو ہوا تو بھی گراں بار رہا 


پی بھی جا شیخ کہ ساقی کی عنایت ہے شراب 

میں ترے بدلے قیامت میں گنہ گار رہا


میں رہا بھی تو رہا خار کی صورت کہ سدا 

تیری نظروں میں سبک دل پہ ترے یار رہا 


چشم پر نشہ ساقی جو رہی عکس فگن 

چور مستی سے ہر اک ساغر سرشار رہا


کچھ خبر ہوتی تو میں اپنی خبر کیوں رکھتا 

یہ بھی اک بے خبری تھی کہ خبردار رہا

چاک داماں کی قسم ،چاک گریباں کی قسم ہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسم

 آؤ بے پردہ! تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم 

ہم نہ چھیڑیں گے ،ہمیں زلف پریشاں کی قسم 


چاک داماں کی قسم ،چاک گریباں کی قسم 

ہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسم 


میرے ارمان سے واقف نہیں ،شرمائیں گے آپ 

آپ کیوں کھاتے ہیں ناحق مرے ارماں کی قسم 


نیند آئے نہ کبھی تجھ سے بچھڑ کر ظالم 

اپنی آنکھوں کی قسم، تیرے شبستاں کی قسم 


لب جاناں پہ فدا ،عارض جاناں کے نثار 

شام رنگیں کی قسم، صبح درخشاں کی قسم

کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا

 میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا 

ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا 


مجھ میں بسی ہوئی تھی کسی اور کی مہک 

دل بجھ گیا کہ رات وہ برہم نہیں ملا 


بس اپنے سامنے ذرا آنکھیں جھکی رہیں 

ورنہ مری انا میں کہیں خم نہیں ملا


اس سے طرح طرح کی شکایت رہی مگر 

میری طرف سے رنج اسے کم نہیں ملا 


ایک ایک کر کے لوگ بچھڑتے چلے گئے 

یہ کیا ہوا کہ وقفۂ ماتم نہیں ملا

Friday, 1 January 2021

مرا بھیگی مٹی سے اٹھتی مہک پر بہکنا بجا ہے کہ مٹی کو مٹی کا میلان اپنی طرف کھینچتا ہے

 اچانک مجھے یوں ترا دھیان اپنی طرف کھینچتا ہے

کہ جیسے پجاری کو بھگوان اپنی طرف کھینچتا ہے


میں جتنی بھی تدبیریں کرلوں مرےہاتھ رہتے ہیں خالی

مجھے اپنے حصے کا نقصان اپنی طرف کھینچتا ہے


تو کیا طے شدہ ہے دوبارہ کسی سے مجھے پیار ہوگا؟

سنا  ہے کہ مجرم کو زندان اپنی طرف کھینچتا ہے


وگرنہ مجھے میرے دل کا دھڑکنا سنائی نہ دیتا 

کوئی اسمیں ہے جو مرے کان اپنی طرف کھینچتا ہے


مرا بھیگی مٹی سے اٹھتی مہک پر بہکنا بجا ہے 

کہ مٹی کو مٹی کا میلان اپنی طرف کھینچتا ہے 


کہاں توبہ کرتے ہیں فوراً ہم ایسے گنہگار خصلت

بھٹکتے ہیں تب جا کے ایمان اپنی طرف کھینچتا ہے


سنا تھا مگر , بات کر کے , مکمل یقیں آگیا ہے 

وہ ساحر تو باتوں کے دوران اپنی طرف کھینچتا ہے


نثار محمود تاثیر

کچھ در بدری راس بہت آئی ہے مجھ کو کچھ خانہ خرابوں میں مری دھاک بہت ہے

 ہونے کی گواہی کے لیے خاک بہت ہے

یا کچھ بھی نہیں ہونے کا ادراک بہت ہے

اک بھولی ہوئی بات ہے اک ٹوٹا ہوا خواب
ہم اہل محبت کو یہ املاک بہت ہے

کچھ در بدری راس بہت آئی ہے مجھ کو
کچھ خانہ خرابوں میں مری دھاک بہت ہے

پرواز کو پر کھول نہیں پاتا ہوں اپنے
اور دیکھنے میں وسعت افلاک بہت ہے

کیا اس سے ملاقات کا امکاں بھی نہیں اب
کیوں ان دنوں میلی تری پوشاک بہت ہے

آنکھوں میں ہیں محفوظ ترے عشق کے لمحات
دریا کو خیال خس و خاشاک بہت ہے

نادم ہے بہت تو بھی جمال اپنے کیے پر
اور دیکھ لے وہ آنکھ بھی نمناک بہت ہے

جمال احسانی

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...