Friday, 1 January 2021

مرا بھیگی مٹی سے اٹھتی مہک پر بہکنا بجا ہے کہ مٹی کو مٹی کا میلان اپنی طرف کھینچتا ہے

 اچانک مجھے یوں ترا دھیان اپنی طرف کھینچتا ہے

کہ جیسے پجاری کو بھگوان اپنی طرف کھینچتا ہے


میں جتنی بھی تدبیریں کرلوں مرےہاتھ رہتے ہیں خالی

مجھے اپنے حصے کا نقصان اپنی طرف کھینچتا ہے


تو کیا طے شدہ ہے دوبارہ کسی سے مجھے پیار ہوگا؟

سنا  ہے کہ مجرم کو زندان اپنی طرف کھینچتا ہے


وگرنہ مجھے میرے دل کا دھڑکنا سنائی نہ دیتا 

کوئی اسمیں ہے جو مرے کان اپنی طرف کھینچتا ہے


مرا بھیگی مٹی سے اٹھتی مہک پر بہکنا بجا ہے 

کہ مٹی کو مٹی کا میلان اپنی طرف کھینچتا ہے 


کہاں توبہ کرتے ہیں فوراً ہم ایسے گنہگار خصلت

بھٹکتے ہیں تب جا کے ایمان اپنی طرف کھینچتا ہے


سنا تھا مگر , بات کر کے , مکمل یقیں آگیا ہے 

وہ ساحر تو باتوں کے دوران اپنی طرف کھینچتا ہے


نثار محمود تاثیر

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...