Monday, 4 January 2021

کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا

 میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا 

ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا 


مجھ میں بسی ہوئی تھی کسی اور کی مہک 

دل بجھ گیا کہ رات وہ برہم نہیں ملا 


بس اپنے سامنے ذرا آنکھیں جھکی رہیں 

ورنہ مری انا میں کہیں خم نہیں ملا


اس سے طرح طرح کی شکایت رہی مگر 

میری طرف سے رنج اسے کم نہیں ملا 


ایک ایک کر کے لوگ بچھڑتے چلے گئے 

یہ کیا ہوا کہ وقفۂ ماتم نہیں ملا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...