اک پل بھی اُسے آنکھ سے اُوجھل نہیں دیکھا
میں پھر بھی یہ کہتا ہوں مکمل نہیں دیکھا
میں پھر بھی یہ کہتا ہوں مکمل نہیں دیکھا
میں نے تو گزرتے ہوئے دیکھا تھا اسے لیکن
وہ دل کا بہت سخت تھا اک پل نہیں دیکھا
وہ دل کا بہت سخت تھا اک پل نہیں دیکھا
کچھ دن سے ہوا حبس زدہ شہر کا موسم
کچھ دن سے فلک پر کوئی بادل نہیں دیکھا
کچھ دن سے فلک پر کوئی بادل نہیں دیکھا
یوں لگتا ہے صدیاں ہوئی اُس شخص کو دیکھے
حالانکہ جسے میں نے فقط کل نہیں دیکھا
حالانکہ جسے میں نے فقط کل نہیں دیکھا
جو تجھ سے گریزاں ہے اُسی شخص کی باتیں
جرارؔ کہیں تجھ سا کوئی پاگل نہیں دیکھا
جرارؔ کہیں تجھ سا کوئی پاگل نہیں دیکھا
Bohat khoob wha wha
ReplyDelete