Monday, 15 July 2019

وقت بتلاتی نہیں یاد دلاتی ہے مجھے آپ کی یہ گھڑی سرکار مجھے کاٹتی ہے


اک تو یہ ہجر کی تلوار مجھے کاٹتی ہے
میری سگریٹ بھی لگاتار مجھے کاٹتی ہے
ایک چھت ہے جو ٹپکتی نہیں ہے روتی ہے
ایک بوسیدہ سی دیوار مجھے کاٹتی ہے
شب کا سنّاٹا شدید اس پہ گھڑی کی ٹک ٹک
ایک آواز کی تکرار مجھے کاٹتی ہے
مجھ میں کیا ہے جو نکالے گی مرے اندر سے
سو یہ تنہائی تو بے کار مجھے کاٹتی ہے
وقت بتلاتی نہیں یاد دلاتی ہے مجھے
آپ کی یہ گھڑی سرکار مجھے کاٹتی ہے

اس لیے تُجھ سے ذرا فاصلہ رکھّا مرے دوست ڈھیل گھٹ جائے تو پھر ڈور گلا کاٹتی ہے


اُس کی خاموش روی اور تو کیا کاٹتی ہے
رات بھر بین پہ رکھتی ہے گلا کاٹتی ہے
اس لیے تُجھ سے ذرا فاصلہ رکھّا مرے دوست
ڈھیل گھٹ جائے تو پھر ڈور گلا کاٹتی ہے
صرف اتنا ہے،مری اُس سے رفاقت کا وجود
ایک دیوار ہے جو در کا خلا کاٹتی ہے
ہم قفس زاد کہاں جاتے ہیں پنجرے کے سوا
حَبس کو چھوڑ کے جائیں تو ہوا کاٹتی ہے
نیم تاریک سے ماحول میں وحشت کا وفور
پھر تِری پیاس بھی اندر سے گھڑا کاٹتی ہے

Saturday, 13 July 2019

طویل قد سے نہیں آتا بڑا پن کبھی بھی عاطف انسان کو اوصاف میں کردار میں بڑا ھونا چاہئیے


پیمانہ جو بھی ھو بس بھرا ھونا چاہئیے
اور اھل ظرف کے سامنے پڑا ھونا چاہئیے
وہ ڈالیں نہ ڈالیں نگاہ الفت انکی مرضی ھے
دیوانہ ان کی راہ میں کھڑا ھونا چاہئیے
کون کہتا ھے کہ میں سلامت پار چڑھوں
دریا میں جوش اور کچا گھڑا ھونا چاہئیے
وہی چاہئیے کی گردان ھونی چاہئیے لب پر
عاشق کو اپنی ضد پہ اڑا ھونا چاہئیے
تعلق خراب کرتے ہیں سب پرانے قصے
جو مردہ جہاں گڑا ھے وھاں گڑا ھونا چاہئیے
طویل قد سے نہیں آتا بڑا پن کبھی بھی عاطف
انسان کو اوصاف میں کردار میں بڑا ھونا چاہئیے

تُو مرا ساتھ نبھا جسم سے گمراہ نہ کر یہ کھلونے مجھے بازار سے مِل جاتے ہیں


حوصلے اس لیے بنیاد سے ہل جاتے ہیں
عشق کی جنگ میں بازو نہیں دل جاتے ہیں
تُو مرا ساتھ نبھا جسم سے گمراہ نہ کر
یہ کھلونے مجھے بازار سے مِل جاتے ہیں
زخم وہ پھول ہیں جن کو نہیں درکار بہار
سخت موسم ہو تو یہ اور بھی کھل جاتے ہیں
دھوپ میں پیڑ کا کردار نبھانے والے
نم پکڑ جائیں تو پھر صورت ِ گِل جاتے ہیں
جب تلک درد ہو سینے میں زباں بولتی ہے
زخم سلتے ہیں تو پھر ہونٹ بھی سل جاتے ہیں

فقیر قول نبھاتا ہے پریم کرتا ہے فقیر کوئی کرامت دِکھانے والا نہیں


جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں
میں ایسے عشق پہ ایمان لانے والا نہیں
میں پاؤں دھو کے پئیوں یار بن کے جو آئے
منافقوں کو تو میں منہ لگا نے والا نہیں
نزول کر مرے سینے پہ اے جمال ِ شدید
تری قسم میں ترا خوف کھانے والا نہیں
بس اِتنا جان لے اے پُر کشش کے دل تجھ سے
بہل تو سکتا ہے پر تجھ پہ آنے والا نہیں
یہ میری آنکھ میں بھڑکے تو پھر ہٹاؤں گا
ابھی میں آگ سے نظریں ہٹانے والا نہیں
تجھے کسی نے غلط کہہ دیا میرے بارے
نہیں میاں میں دِلوں کو دُکھانے والا نہیں
ہے ایک رمز جو تجھ پر عیاں نہیں کرنی
ہے ایک شعر جو تجھ کو سنانے والا نہیں
فقیر قول نبھاتا ہے پریم کرتا ہے
فقیر کوئی کرامت دِکھانے والا نہیں
سن اے قبیلہء ِ کوفی دِلاں مُکرر سن
علی کبھی بھی حزیمت اُٹھانے والا نہیں
علی زریون

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...