رات بھر درد بھری رات ہمیں کاٹتی ہے
وہ ہے تنہائی کہ برسات ہمیں کاٹتی ہے
تم جوکہتے ہو کہ بس رات گئی بات گئی
تم کو معلوم ہے یہ بات ہمیں کاٹتی ہے
اس نے سمجھا ہی نہیں وصل کا مطلب کیا ہے
اجنبی بن کے ملاقات ہمیں کاٹتی ہے
ہم نے اشکوں سے یہ دیکھا تھا عبارت ہوتے
چاند تاروں سے بھری رات ہمیں کاٹتی ہے
شکریہ آپ نے اوقات بڑھا دی لیکن
بعض اوقات یہ اوقات ہمیں کاٹتی ہے
وہ جو کہتے تھے، کرو بات کہ خوشبو بکھرے
اب وہ کہتے ہیں، تری بات ہمیں کاٹتی ہے
پوچھنے آتے ہیں حالات کسی غیر کے ساتھ
اور یہ صورتِ حالات ہمیں کاٹتی ہے
(صغیر احمد صغیر).
Sunday, 24 November 2019
دونوں ہاتھوں سے لگاتی ہے وہ قوسین کی حد طیش میں آتے ہی پھر اپنا لکھا کاٹتی ہے
پسِ زندانِ انا قیدِ جفا کاٹتی ہے
زندگی روشنی ہے اور خلا کاٹتی ہے
دونوں ہاتھوں سے لگاتی ہے وہ قوسین کی حد
طیش میں آتے ہی پھر اپنا لکھا کاٹتی ہے
تُو نے اس دشت کا زنداں ابھی دیکھا ہی نہیں
دن کو جلتا ہے بدن شب کو ہوا کاٹتی ہے
کیسے ناکردہ گناہوں میں اٹھائی گئی ہے
کیسے کرموں کا کیا خلقِ خدا کاٹتی ہے
زخمِ ناسور سے اٹھتی ہے جونہی باسِ ہوس
تب طوائف اسے ڈھکنے کو ردا کاٹتی ہے
ہم نے تو دیکھا فقط نجمی ہے خستہ دیوار
کبھی سوچا ہی نہیں کون ہے؟ کیا کاٹتی ہے؟
*سیّد نجم الحسن نجمی فرام کہوٹ*
زندگی روشنی ہے اور خلا کاٹتی ہے
دونوں ہاتھوں سے لگاتی ہے وہ قوسین کی حد
طیش میں آتے ہی پھر اپنا لکھا کاٹتی ہے
تُو نے اس دشت کا زنداں ابھی دیکھا ہی نہیں
دن کو جلتا ہے بدن شب کو ہوا کاٹتی ہے
کیسے ناکردہ گناہوں میں اٹھائی گئی ہے
کیسے کرموں کا کیا خلقِ خدا کاٹتی ہے
زخمِ ناسور سے اٹھتی ہے جونہی باسِ ہوس
تب طوائف اسے ڈھکنے کو ردا کاٹتی ہے
ہم نے تو دیکھا فقط نجمی ہے خستہ دیوار
کبھی سوچا ہی نہیں کون ہے؟ کیا کاٹتی ہے؟
*سیّد نجم الحسن نجمی فرام کہوٹ*
Thursday, 14 November 2019
ایک ہی شخص مصیبت میں مرے ساتھ رہا اور وہ شخص کوئی اور نہیں تھا میں تھا
وہ جو بے یارو مددگار کہیں تھا میں تھا
دُور اک شخص کو یہ پھر بھی یقیں تھا، میں تھا
ایک ہی شخص مصیبت میں مرے ساتھ رہا
اور وہ شخص کوئی اور نہیں تھا میں تھا
پورے گاوں میں اگر سب سے الگ تھی، وہ تھی
اُن دنوں گاوں میں جو سب سے حسیں تھا میں تھا
جب محبت میں وظیفے بھی لگا کرتے تھے
یاد ہے! کون یہاں تخت نشیں تھا؟ میں تھا
میں نہیں مانتا میں تجھ سے بچھڑ سکتا ہوں
تُو جو کہتا ہے میں اُس وقت وہیں تھا، میں تھا؟
آپ اس گھر کی تباہی پہ ہیں افسردہ کیوں؟
جانتے ہیں کہ یہاں کون مکیں تھا؟ میں تھا
مجھ پہ مجھ سے بھی زیادہ اسے حق تھا ساحر
اُس سے بڑھ کر بھی کوئی اُس کے قریں تھا، میں تھا
جہانزیب ساحر
دُور اک شخص کو یہ پھر بھی یقیں تھا، میں تھا
ایک ہی شخص مصیبت میں مرے ساتھ رہا
اور وہ شخص کوئی اور نہیں تھا میں تھا
پورے گاوں میں اگر سب سے الگ تھی، وہ تھی
اُن دنوں گاوں میں جو سب سے حسیں تھا میں تھا
جب محبت میں وظیفے بھی لگا کرتے تھے
یاد ہے! کون یہاں تخت نشیں تھا؟ میں تھا
میں نہیں مانتا میں تجھ سے بچھڑ سکتا ہوں
تُو جو کہتا ہے میں اُس وقت وہیں تھا، میں تھا؟
آپ اس گھر کی تباہی پہ ہیں افسردہ کیوں؟
جانتے ہیں کہ یہاں کون مکیں تھا؟ میں تھا
مجھ پہ مجھ سے بھی زیادہ اسے حق تھا ساحر
اُس سے بڑھ کر بھی کوئی اُس کے قریں تھا، میں تھا
جہانزیب ساحر
Subscribe to:
Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...