Saturday, 28 December 2019

فطرت کو کئی چہروں کی پرتوں میں چھپا کر جانے یہ سزا کیسی بشر کاٹ رہا ہے

جو شخص مرا دست ہنر کاٹ رہا ہے
نادان ہے شاداب شجر کاٹ رہا ہے
کیا یاد نہیں ظلم کا انجام زمانے
کیا سوچ کے سچائی کا سر کاٹ رہا ہے
فطرت کو کئی چہروں کی پرتوں میں چھپا کر
جانے یہ سزا کیسی بشر کاٹ رہا ہے
تعریف غم ہجر کی کیا مجھ سے بیاں ہو
اک زہر ہے جو قلب و جگر کاٹ رہا ہے
دل آج ترے عہد محبت کے بھروسے
تنہائی کا دشوار سفر کاٹ رہا ہے
کل ساتھ تھا کوئی تو در و بام تھے روشن
تنہا ہوں وسیمؔ آج تو گھر کاٹ رہا ہے

یے ماں کی دعائیں حفاظت کریں گی یے تعویذ سب کی نظر کاٹتا ہے

وہ نظروں سے میری نظر کاٹتا ہے
محبت کا پہلا اثر کاٹتا ہے
مجھے گھر میں بھی چین پڑتا نہیں تھا
سفر میں ہوں اب تو سفر کاٹتا ہے
یے ماں کی دعائیں حفاظت کریں گی
یے تعویذ سب کی نظر کاٹتا ہے
تمہاری جفا پر میں غزلیں کہوں گا
صنع ہے ہنر کو ہنر کاٹتا ہے
یے فرقہ پرستی یے نفرت کی آندھی
پڑوسی پڑوسی کا سر کاٹتا ہے

توجہ چاہتا ہے غم پرانا سو رہ رہ کر نئے کو کاٹتا ہے

مرے کچھ بھی کہے کو کاٹتا ہے
وہ اپنے دائرے کو کاٹتا ہے
میں اس بازار کے قابل نہیں ہوں
یہاں کھوٹا کھرے کو کاٹتا ہے
اداس آنکھیں پہنتی ہیں ہنسی کو
پھر آنسو قہقہے کو کاٹتا ہے
نہ مجھ کو ہیں قبول اپنی خطائیں
نہ وہ اپنے لکھے کو کاٹتا ہے
توجہ چاہتا ہے غم پرانا
سو رہ رہ کر نئے کو کاٹتا ہے
وہی آنسو وہی ماضی کے قصے
جسے دیکھو کٹے کو کاٹتا ہے

یونہی گرتی نہیں اشکوں کی سیاہی دل پر ان کہا لکھتی کبھی لکھا ہوا کاٹتی ہے

سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہے
کیا درانتی ہے کہ خود فصلِ فنا کاٹتی ہے
ایک تصویر جو دیوار سے الجھی تھی کبھی
اب مری نظروں میں رہنے کی سزا کاٹتی ہے
تیری سرگوشی سے کٹ جاتا ہے یوں سنگِ سکوت
جس طرح حبس کے پتھر کو ہوا کاٹتی ہے
قطع کرتا ہے مرے حلقۂ ویرانی کو
نیند جو موڑ، پسِ خواب سرا، کاٹتی ہے
یونہی گرتی نہیں اشکوں کی سیاہی دل پر
ان کہا لکھتی کبھی لکھا ہوا کاٹتی ہے
چیخنا چاہوں تو ڈستی ہے خموشی، شارقؔ
چپ رہوں تو مجھے زہریلی صدا کاٹتی ہے

سعید شارق

کہ راجہ مر چکا ہے اور شہزادے جواں ہیں یہ رانی کس طرح اپنی جوانی کاٹتی ہے



کوئی سمجھاؤ دریا کی روانی کاٹتی ہے
کہ میرے سانس کو تشنہ دہانی کاٹتی ہے
میں باہر تو بہت اچھا ہوں پر اندر ہی اندر
مجھے کوئی بلائے ناگہانی کاٹتی ہے
میں دریا ہوں مگر کتنا ستایا جا رہا ہوں
کہ بستی روز آ کے میرا پانی کاٹتی ہے
زمیں پر ہوں مگر کٹ کٹ کے گرتا جا رہا ہوں
مسلسل اک نگاہ آسمانی کاٹتی ہے
میں کچھ دن سے اچانک پھر اکیلا پڑ گیا ہوں
نئے موسم میں اک وحشت پرانی کاٹتی ہے
کہ راجہ مر چکا ہے اور شہزادے جواں ہیں
یہ رانی کس طرح اپنی جوانی کاٹتی ہے
نظر والو تمہاری آنکھ سے شکوہ ہے مجھ کو
زباں والو تمہاری بے زبانی کاٹتی ہے

Wednesday, 25 December 2019

کچے دھاگے کے تعلق کا یہی رونا ہے کھینچا تانی میں ذرا جھٹکا لگا ٹوٹ گیا


چاہے پتھر تھا کہ فولاد نما ٹوٹ گیا
دل کے بت خانے کا ہر ایک خدا ٹوٹ گیا

مشورہ ہے کہ مری راہ کی دیوار نہ بن
جو مری راہ کی دیوار بنا ٹوٹ گیا

کچے دھاگے کے تعلق کا یہی رونا ہے
کھینچا تانی میں ذرا جھٹکا لگا ٹوٹ گیا

آخرکار لڑائی کا ...........یہ انجام ہوا
سامری مارا گیا میرا عصا ٹوٹ گیا

دل پہ اب مجھ سے زیادہ نہیں رویا جاتا
اک کھلونا تھا جو بس ٹوٹ گیا ٹوٹ گیا

    مصطفے جاذب

Sunday, 15 December 2019

ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں : یار! اب مر جائیں


نہیں ہے وَجہہ ضروری کہ جب ہو ' تب مر جائیں
اداس لوگ ہیں '  ممکن ہے ۔۔۔۔۔ بے سبب مر جائیں
ہماری نیند کا دورانیـہ ہے رُوز افــزُوں
کوئی بعـیـد نہیں ہے کہ ایک شب مر جائیں
یہ مرنے والوں کو رونے کا سـلسـلہ نہ رہے
کچھ ایسا ہو کہ بَہ یک وقت  ۔۔۔ سب کے سب مر جائیں
یہ اہل ہجـر ۔۔۔۔۔  شـفا یاب تو نہیں ہوں گے
کوئی دَوا ہو کہ جس سے یہ جاں بَہ لب ' مر جائیں
یہ موتیـا تو نہیں ہے'  سـفیـد لاشـیں ہیں
ابُھر کے سطح پَہ آتے ہیں خواب '  جب مر جائیں
ہماری نبض ۔۔۔۔ سمجھ لے'  ہمارے ہاتھ میں ہے
تو صِرف حُکم دے ' بَس دن بتا کہ کب مر جائیں
نہ کوئی روکنے والا '  نہ دریا دُور ۔۔  مگر
سنا ہے'  پیاس سے مرنا ہے مسـتحَب'  مر جائیں؟
یقین کر کہ کئی بار ۔۔۔۔  ایک دن میں ' عمیــرؔ !
ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں :   یار! اب مر جائیں
عُمیــرؔ نجــمـی

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...