جو شخص مرا دست ہنر کاٹ رہا ہے
نادان ہے شاداب شجر کاٹ رہا ہے
کیا یاد نہیں ظلم کا انجام زمانے
کیا سوچ کے سچائی کا سر کاٹ رہا ہے
فطرت کو کئی چہروں کی پرتوں میں چھپا کر
جانے یہ سزا کیسی بشر کاٹ رہا ہے
تعریف غم ہجر کی کیا مجھ سے بیاں ہو
اک زہر ہے جو قلب و جگر کاٹ رہا ہے
دل آج ترے عہد محبت کے بھروسے
تنہائی کا دشوار سفر کاٹ رہا ہے
کل ساتھ تھا کوئی تو در و بام تھے روشن
تنہا ہوں وسیمؔ آج تو گھر کاٹ رہا ہے
Saturday, 28 December 2019
یے ماں کی دعائیں حفاظت کریں گی یے تعویذ سب کی نظر کاٹتا ہے
وہ نظروں سے میری نظر کاٹتا ہے
محبت کا پہلا اثر کاٹتا ہے
مجھے گھر میں بھی چین پڑتا نہیں تھا
سفر میں ہوں اب تو سفر کاٹتا ہے
یے ماں کی دعائیں حفاظت کریں گی
یے تعویذ سب کی نظر کاٹتا ہے
تمہاری جفا پر میں غزلیں کہوں گا
صنع ہے ہنر کو ہنر کاٹتا ہے
یے فرقہ پرستی یے نفرت کی آندھی
پڑوسی پڑوسی کا سر کاٹتا ہے
محبت کا پہلا اثر کاٹتا ہے
مجھے گھر میں بھی چین پڑتا نہیں تھا
سفر میں ہوں اب تو سفر کاٹتا ہے
یے ماں کی دعائیں حفاظت کریں گی
یے تعویذ سب کی نظر کاٹتا ہے
تمہاری جفا پر میں غزلیں کہوں گا
صنع ہے ہنر کو ہنر کاٹتا ہے
یے فرقہ پرستی یے نفرت کی آندھی
پڑوسی پڑوسی کا سر کاٹتا ہے
توجہ چاہتا ہے غم پرانا سو رہ رہ کر نئے کو کاٹتا ہے
مرے کچھ بھی کہے کو کاٹتا ہے
وہ اپنے دائرے کو کاٹتا ہے
میں اس بازار کے قابل نہیں ہوں
یہاں کھوٹا کھرے کو کاٹتا ہے
اداس آنکھیں پہنتی ہیں ہنسی کو
پھر آنسو قہقہے کو کاٹتا ہے
نہ مجھ کو ہیں قبول اپنی خطائیں
نہ وہ اپنے لکھے کو کاٹتا ہے
توجہ چاہتا ہے غم پرانا
سو رہ رہ کر نئے کو کاٹتا ہے
وہی آنسو وہی ماضی کے قصے
جسے دیکھو کٹے کو کاٹتا ہے
وہ اپنے دائرے کو کاٹتا ہے
میں اس بازار کے قابل نہیں ہوں
یہاں کھوٹا کھرے کو کاٹتا ہے
اداس آنکھیں پہنتی ہیں ہنسی کو
پھر آنسو قہقہے کو کاٹتا ہے
نہ مجھ کو ہیں قبول اپنی خطائیں
نہ وہ اپنے لکھے کو کاٹتا ہے
توجہ چاہتا ہے غم پرانا
سو رہ رہ کر نئے کو کاٹتا ہے
وہی آنسو وہی ماضی کے قصے
جسے دیکھو کٹے کو کاٹتا ہے
یونہی گرتی نہیں اشکوں کی سیاہی دل پر ان کہا لکھتی کبھی لکھا ہوا کاٹتی ہے
سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہے
کیا درانتی ہے کہ خود فصلِ فنا کاٹتی ہے
ایک تصویر جو دیوار سے الجھی تھی کبھی
اب مری نظروں میں رہنے کی سزا کاٹتی ہے
تیری سرگوشی سے کٹ جاتا ہے یوں سنگِ سکوت
جس طرح حبس کے پتھر کو ہوا کاٹتی ہے
قطع کرتا ہے مرے حلقۂ ویرانی کو
نیند جو موڑ، پسِ خواب سرا، کاٹتی ہے
یونہی گرتی نہیں اشکوں کی سیاہی دل پر
ان کہا لکھتی کبھی لکھا ہوا کاٹتی ہے
چیخنا چاہوں تو ڈستی ہے خموشی، شارقؔ
چپ رہوں تو مجھے زہریلی صدا کاٹتی ہے
سعید شارق
کیا درانتی ہے کہ خود فصلِ فنا کاٹتی ہے
ایک تصویر جو دیوار سے الجھی تھی کبھی
اب مری نظروں میں رہنے کی سزا کاٹتی ہے
تیری سرگوشی سے کٹ جاتا ہے یوں سنگِ سکوت
جس طرح حبس کے پتھر کو ہوا کاٹتی ہے
قطع کرتا ہے مرے حلقۂ ویرانی کو
نیند جو موڑ، پسِ خواب سرا، کاٹتی ہے
یونہی گرتی نہیں اشکوں کی سیاہی دل پر
ان کہا لکھتی کبھی لکھا ہوا کاٹتی ہے
چیخنا چاہوں تو ڈستی ہے خموشی، شارقؔ
چپ رہوں تو مجھے زہریلی صدا کاٹتی ہے
سعید شارق
کہ راجہ مر چکا ہے اور شہزادے جواں ہیں یہ رانی کس طرح اپنی جوانی کاٹتی ہے
کوئی سمجھاؤ دریا کی روانی کاٹتی ہے
کہ میرے سانس کو تشنہ دہانی کاٹتی ہے
میں باہر تو بہت اچھا ہوں پر اندر ہی اندر
مجھے کوئی بلائے ناگہانی کاٹتی ہے
میں دریا ہوں مگر کتنا ستایا جا رہا ہوں
کہ بستی روز آ کے میرا پانی کاٹتی ہے
زمیں پر ہوں مگر کٹ کٹ کے گرتا جا رہا ہوں
مسلسل اک نگاہ آسمانی کاٹتی ہے
میں کچھ دن سے اچانک پھر اکیلا پڑ گیا ہوں
نئے موسم میں اک وحشت پرانی کاٹتی ہے
کہ راجہ مر چکا ہے اور شہزادے جواں ہیں
یہ رانی کس طرح اپنی جوانی کاٹتی ہے
نظر والو تمہاری آنکھ سے شکوہ ہے مجھ کو
زباں والو تمہاری بے زبانی کاٹتی ہے
Wednesday, 25 December 2019
کچے دھاگے کے تعلق کا یہی رونا ہے کھینچا تانی میں ذرا جھٹکا لگا ٹوٹ گیا
چاہے پتھر تھا کہ فولاد نما ٹوٹ گیا
دل کے بت خانے کا ہر ایک خدا ٹوٹ گیا
مشورہ ہے کہ مری راہ کی دیوار نہ بن
جو مری راہ کی دیوار بنا ٹوٹ گیا
کچے دھاگے کے تعلق کا یہی رونا ہے
کھینچا تانی میں ذرا جھٹکا لگا ٹوٹ گیا
آخرکار لڑائی کا ...........یہ انجام ہوا
سامری مارا گیا میرا عصا ٹوٹ گیا
دل پہ اب مجھ سے زیادہ نہیں رویا جاتا
اک کھلونا تھا جو بس ٹوٹ گیا ٹوٹ گیا
مصطفے جاذب
Sunday, 15 December 2019
ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں : یار! اب مر جائیں
نہیں ہے وَجہہ ضروری کہ جب ہو ' تب مر جائیں
اداس لوگ ہیں ' ممکن ہے ۔۔۔۔۔ بے سبب مر جائیں
اداس لوگ ہیں ' ممکن ہے ۔۔۔۔۔ بے سبب مر جائیں
ہماری نیند کا دورانیـہ ہے رُوز افــزُوں
کوئی بعـیـد نہیں ہے کہ ایک شب مر جائیں
کوئی بعـیـد نہیں ہے کہ ایک شب مر جائیں
یہ مرنے والوں کو رونے کا سـلسـلہ نہ رہے
کچھ ایسا ہو کہ بَہ یک وقت ۔۔۔ سب کے سب مر جائیں
کچھ ایسا ہو کہ بَہ یک وقت ۔۔۔ سب کے سب مر جائیں
یہ اہل ہجـر ۔۔۔۔۔ شـفا یاب تو نہیں ہوں گے
کوئی دَوا ہو کہ جس سے یہ جاں بَہ لب ' مر جائیں
کوئی دَوا ہو کہ جس سے یہ جاں بَہ لب ' مر جائیں
یہ موتیـا تو نہیں ہے' سـفیـد لاشـیں ہیں
ابُھر کے سطح پَہ آتے ہیں خواب ' جب مر جائیں
ابُھر کے سطح پَہ آتے ہیں خواب ' جب مر جائیں
ہماری نبض ۔۔۔۔ سمجھ لے' ہمارے ہاتھ میں ہے
تو صِرف حُکم دے ' بَس دن بتا کہ کب مر جائیں
تو صِرف حُکم دے ' بَس دن بتا کہ کب مر جائیں
نہ کوئی روکنے والا ' نہ دریا دُور ۔۔ مگر
سنا ہے' پیاس سے مرنا ہے مسـتحَب' مر جائیں؟
سنا ہے' پیاس سے مرنا ہے مسـتحَب' مر جائیں؟
یقین کر کہ کئی بار ۔۔۔۔ ایک دن میں ' عمیــرؔ !
ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں : یار! اب مر جائیں
ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں : یار! اب مر جائیں
عُمیــرؔ نجــمـی
Subscribe to:
Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...