نقش ِ بر آب کناروں کےمیاں ڈوبتا ہے
آنکھ سیلاب اٹھائے تو سماں ڈوبتا ہے
مردہ اجسام تہہِ آب نہیں رہ سکتے
ابھی زندہ ہے مرا دل کہ یہاں ڈوبتا ہے
حکم آیا ہے کہ چڑیاں نہ چہکنے پائیں
یہ چہکتی ہیں تو پھر شورِ سگاں ڈوبتا ہے
سیلِ ادراک ہے یہ اور یہاں موجوں میں
وہ تموج ہے کہ مینارِ گماں ڈوبتا ہے
ڈوب جاتا ہوں کسی موج کی طغیانی میں
ایسے جیسے کسی دریا میں جواں ڈوبتا یے
تیرنے والے بچاتے ہی نہیں ڈوبتے کو
فقط آواز لگاتے ہیں فلاں ڈوبتا ہے
زن زمیں زر سے بناتا ہے وہ برمودہ تکون
جو بھی جاتا ہے مری جان وہاں ڈوبتا ہے
عصمت اللہ نیازی