Saturday, 6 February 2021

زن زمیں زر سے بناتا ہے وہ برمودہ تکون جو بھی جاتا ہے مری جان وہاں ڈوبتا ہے

 نقش ِ بر آب کناروں کےمیاں ڈوبتا ہے

آنکھ سیلاب اٹھائے تو سماں ڈوبتا ہے


مردہ اجسام تہہِ آب نہیں رہ سکتے

ابھی زندہ ہے مرا دل کہ یہاں ڈوبتا ہے


حکم آیا ہے کہ چڑیاں نہ چہکنے پائیں

یہ چہکتی ہیں تو پھر شورِ سگاں ڈوبتا ہے


سیلِ ادراک ہے یہ اور یہاں موجوں میں

وہ تموج ہے کہ مینارِ گماں ڈوبتا ہے


ڈوب جاتا ہوں کسی موج کی طغیانی میں 

ایسے جیسے کسی دریا میں جواں ڈوبتا یے


تیرنے والے بچاتے ہی نہیں ڈوبتے کو

فقط آواز لگاتے ہیں فلاں ڈوبتا ہے


زن زمیں زر سے بناتا ہے وہ برمودہ تکون

جو بھی جاتا ہے مری جان وہاں ڈوبتا ہے


عصمت اللہ نیازی

میری سیماب طبیعت سے مجھے دوستوں نے بیوقوف اتنا بنایا کہ میں چالاک ہوا

 پھول کا رنگ اڑا اڑتے ہی خاشاک ہوا

میں نے پوچھا کہ تعلق تو کہا خاک ہوا


وہ سیہ رات تھی، جلتا تھا فقط ایک چراغ

میں اسے پھونکنے والا تھا کہ ادراک ہوا


میری سیماب طبیعت سے مجھے دوستوں نے

بیوقوف اتنا بنایا کہ میں چالاک ہوا


وہ زلیخا کی سرائے ہے ادھر جا کے نہ دیکھ

ایک کرتہ ہے اگر یہ بھی وہاں چاک ہوا


عصمت اللہ نیازی

ہم اہلِ ہند اسے آفتاب کہتے ہیں جو ڈوبتا ہے ترے نور کے ظہور کی سمت

 سیہ نصیب سفر میں ہے ایک نور کی سمت

یہ لاشعور بھی چلنے لگا شعور کی سمت


پہنچ گیا ہوں مدینے میں سیدھا چلتے ہوئے

اگرچہ مجھ کو دکھائی گئی تھی دور کی سمت


ہم اہلِ ہند اسے آفتاب کہتے ہیں

جو ڈوبتا ہے ترے نور کے ظہور کی سمت


بہت غرور تھا مجھ کو غزل شعار ہوں میں

پھر ایک نعت سے بدلی مرے غرور کی سمت


خدا کا شکر ہے بڑھتی ہوئی یہ موجِ خیال

گہے خدا کی طرف ہے گہے حضور کی سمت


عصمت اللہ نیازی

اس نے گھڑیال پہ رکھے ہیں عروج اور زوال یعنی اوقات دکھانے کو یہ اوقات بنے

کس لیے ایک تسلسل میں یہ دن رات بنے
اک دھماکے سے اگر ارض و سماوات بنے

جملہ اعداد پہ بھاری ہے ابھی ایک عدد
اور کچھ جمع کرو تاکہ مساوات بنے

اس نے گھڑیال پہ رکھے ہیں عروج اور زوال
یعنی اوقات دکھانے کو یہ اوقات بنے

آتے آتے ہی مجھے خوف برتنا آیا
بنتے بنتے ہی مرے واہمے خدشات بنے

بات بنتی ہے کہاں کوئی تگ و دو کے بغیر
سو جتن میں نے کیے ہیں کہ مری بات بنے

عصمت اللہ نیازی

مشکلوں کی خیر ہو احباب سب پرکهے گئے جتنے میرے نام سے موسوم ہیں مرحوم ہیں

 چلتے پهرتے لاشے سب،معدوم ہیں، مرحوم ہیں

جو بهی تیری یاد سے محروم ہیں ،مرحوم ہیں


صبح غم سے چُور ہے شب کے بهی دکهڑے کم نہیں

تیرے بِن  شام و سحر مغموم ہیں ، مرحوم ہیں


وحشتوں کی ٹهوکریں کها کر بهی گریہ نہ کریں

ظلم پر خاموش جو مظلوم ہیں ،مرحوم ہیں


حاکم و سالار بے حس ہو چکے کشمیر !  سُن

شہ رگوں کے فقرے جو مرقوم ہیں، مرحوم ہیں


ہجرِ جاناں   مثلِ حرمل  تیر   برساتا  گیا

چھلنی خوابوں کے ہوئے حلقوم ہیں، مرحوم ہیں


مشکلوں کی خیر ہو احباب سب پرکهے گئے

جتنے میرے نام سے موسوم ہیں مرحوم ہیں


فصلِ گل الماس ہو یا رُت سہانی میگھ کی

بن ترے مضمون جو منظوم ہیں مرحوم ہیں


🌺منیر الماس🌺

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...