Saturday, 5 November 2022

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا

میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا


 غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں 

 میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ ہاتھ لگا


 وگرنہ تم پہ بھی مفہومِ دل لگی کھلتا

تمہارے بخت کہ مجھ سا بچارہ ہاتھ لگا


میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا

جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا


مجھے وہ آگ میسر ہوئی تو ٹھنڈی تھی 

بجھا چکا تھا کوئی جب شرارہ ہاتھ لگا 


تو سامنے ہے مرے، اور میں پھر بھی زندہ ہوں

مجھے یقین تو آئے...... خدارا ہاتھ لگا


گلاب دے کے کوئی ساتھ لے گیا اس کو

 اسے میں ہار چکا تو ستارہ ہاتھ لگا


مجھ ایسا دشتِ سخن میں تمام عمر پھرا

غزل ملی...... نہ کوئی نثر پارہ ہاتھ لگا


آزاد حسین آزاد

Saturday, 6 February 2021

زن زمیں زر سے بناتا ہے وہ برمودہ تکون جو بھی جاتا ہے مری جان وہاں ڈوبتا ہے

 نقش ِ بر آب کناروں کےمیاں ڈوبتا ہے

آنکھ سیلاب اٹھائے تو سماں ڈوبتا ہے


مردہ اجسام تہہِ آب نہیں رہ سکتے

ابھی زندہ ہے مرا دل کہ یہاں ڈوبتا ہے


حکم آیا ہے کہ چڑیاں نہ چہکنے پائیں

یہ چہکتی ہیں تو پھر شورِ سگاں ڈوبتا ہے


سیلِ ادراک ہے یہ اور یہاں موجوں میں

وہ تموج ہے کہ مینارِ گماں ڈوبتا ہے


ڈوب جاتا ہوں کسی موج کی طغیانی میں 

ایسے جیسے کسی دریا میں جواں ڈوبتا یے


تیرنے والے بچاتے ہی نہیں ڈوبتے کو

فقط آواز لگاتے ہیں فلاں ڈوبتا ہے


زن زمیں زر سے بناتا ہے وہ برمودہ تکون

جو بھی جاتا ہے مری جان وہاں ڈوبتا ہے


عصمت اللہ نیازی

میری سیماب طبیعت سے مجھے دوستوں نے بیوقوف اتنا بنایا کہ میں چالاک ہوا

 پھول کا رنگ اڑا اڑتے ہی خاشاک ہوا

میں نے پوچھا کہ تعلق تو کہا خاک ہوا


وہ سیہ رات تھی، جلتا تھا فقط ایک چراغ

میں اسے پھونکنے والا تھا کہ ادراک ہوا


میری سیماب طبیعت سے مجھے دوستوں نے

بیوقوف اتنا بنایا کہ میں چالاک ہوا


وہ زلیخا کی سرائے ہے ادھر جا کے نہ دیکھ

ایک کرتہ ہے اگر یہ بھی وہاں چاک ہوا


عصمت اللہ نیازی

ہم اہلِ ہند اسے آفتاب کہتے ہیں جو ڈوبتا ہے ترے نور کے ظہور کی سمت

 سیہ نصیب سفر میں ہے ایک نور کی سمت

یہ لاشعور بھی چلنے لگا شعور کی سمت


پہنچ گیا ہوں مدینے میں سیدھا چلتے ہوئے

اگرچہ مجھ کو دکھائی گئی تھی دور کی سمت


ہم اہلِ ہند اسے آفتاب کہتے ہیں

جو ڈوبتا ہے ترے نور کے ظہور کی سمت


بہت غرور تھا مجھ کو غزل شعار ہوں میں

پھر ایک نعت سے بدلی مرے غرور کی سمت


خدا کا شکر ہے بڑھتی ہوئی یہ موجِ خیال

گہے خدا کی طرف ہے گہے حضور کی سمت


عصمت اللہ نیازی

اس نے گھڑیال پہ رکھے ہیں عروج اور زوال یعنی اوقات دکھانے کو یہ اوقات بنے

کس لیے ایک تسلسل میں یہ دن رات بنے
اک دھماکے سے اگر ارض و سماوات بنے

جملہ اعداد پہ بھاری ہے ابھی ایک عدد
اور کچھ جمع کرو تاکہ مساوات بنے

اس نے گھڑیال پہ رکھے ہیں عروج اور زوال
یعنی اوقات دکھانے کو یہ اوقات بنے

آتے آتے ہی مجھے خوف برتنا آیا
بنتے بنتے ہی مرے واہمے خدشات بنے

بات بنتی ہے کہاں کوئی تگ و دو کے بغیر
سو جتن میں نے کیے ہیں کہ مری بات بنے

عصمت اللہ نیازی

مشکلوں کی خیر ہو احباب سب پرکهے گئے جتنے میرے نام سے موسوم ہیں مرحوم ہیں

 چلتے پهرتے لاشے سب،معدوم ہیں، مرحوم ہیں

جو بهی تیری یاد سے محروم ہیں ،مرحوم ہیں


صبح غم سے چُور ہے شب کے بهی دکهڑے کم نہیں

تیرے بِن  شام و سحر مغموم ہیں ، مرحوم ہیں


وحشتوں کی ٹهوکریں کها کر بهی گریہ نہ کریں

ظلم پر خاموش جو مظلوم ہیں ،مرحوم ہیں


حاکم و سالار بے حس ہو چکے کشمیر !  سُن

شہ رگوں کے فقرے جو مرقوم ہیں، مرحوم ہیں


ہجرِ جاناں   مثلِ حرمل  تیر   برساتا  گیا

چھلنی خوابوں کے ہوئے حلقوم ہیں، مرحوم ہیں


مشکلوں کی خیر ہو احباب سب پرکهے گئے

جتنے میرے نام سے موسوم ہیں مرحوم ہیں


فصلِ گل الماس ہو یا رُت سہانی میگھ کی

بن ترے مضمون جو منظوم ہیں مرحوم ہیں


🌺منیر الماس🌺

Monday, 4 January 2021

میرے حالات مرے دوست ترے سامنے ہیں تُو اگر چاہے محبت سے مُکر سکتا ہے

 آدمی صبر کی شدّت سے بھی مر سکتا ہے

یعنی خاکی کا شکَم خاک سے بھر سکتا ہے


جب مُفَسِّر نے ہی تَفسیر غَلَط لکھی ہو

کوئی قرآن کی آیت سے بھی ڈر سکتا ہے


اک زمیں زاد کی خاطر ہوں زمیں پر ورنہ

آسماں پر بھی مرا نقش اُبھر سکتا ہے


روز سوتا ہوں میں صدمات کے جس بستر پر

کوئی اِک رات اگر سوئے تو مر سکتا ہے


آنکھ دریا کو اٹھا لائی ہے دروازے تک

اب سمُندر بھی مرے گھر سے گزر سکتا ہے


میرے حالات مرے دوست ترے سامنے ہیں

تُو اگر چاہے محبت سے مُکر سکتا ہے


راہ سنسان ہو، ویران ہو، انجان بھی ہو

تب مسافر کو کوئی قتل بھی کر سکتا ہے


شہر میں چاروں طرف آگ لگی ہے واصفؔ 

اب سہُولت سے تُو شعلوں میں اُتر سکتا ہے


واصف علی واصف

پی بھی جا شیخ کہ ساقی کی عنایت ہے شراب میں ترے بدلے قیامت میں گنہ گار رہا

 یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا 

پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا


ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد 

ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا 


گر کے نظروں سے تری پھر نہ زمیں سے اٹھا 

میں سبک بھی جو ہوا تو بھی گراں بار رہا 


پی بھی جا شیخ کہ ساقی کی عنایت ہے شراب 

میں ترے بدلے قیامت میں گنہ گار رہا


میں رہا بھی تو رہا خار کی صورت کہ سدا 

تیری نظروں میں سبک دل پہ ترے یار رہا 


چشم پر نشہ ساقی جو رہی عکس فگن 

چور مستی سے ہر اک ساغر سرشار رہا


کچھ خبر ہوتی تو میں اپنی خبر کیوں رکھتا 

یہ بھی اک بے خبری تھی کہ خبردار رہا

چاک داماں کی قسم ،چاک گریباں کی قسم ہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسم

 آؤ بے پردہ! تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم 

ہم نہ چھیڑیں گے ،ہمیں زلف پریشاں کی قسم 


چاک داماں کی قسم ،چاک گریباں کی قسم 

ہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسم 


میرے ارمان سے واقف نہیں ،شرمائیں گے آپ 

آپ کیوں کھاتے ہیں ناحق مرے ارماں کی قسم 


نیند آئے نہ کبھی تجھ سے بچھڑ کر ظالم 

اپنی آنکھوں کی قسم، تیرے شبستاں کی قسم 


لب جاناں پہ فدا ،عارض جاناں کے نثار 

شام رنگیں کی قسم، صبح درخشاں کی قسم

کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا

 میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا 

ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا 


مجھ میں بسی ہوئی تھی کسی اور کی مہک 

دل بجھ گیا کہ رات وہ برہم نہیں ملا 


بس اپنے سامنے ذرا آنکھیں جھکی رہیں 

ورنہ مری انا میں کہیں خم نہیں ملا


اس سے طرح طرح کی شکایت رہی مگر 

میری طرف سے رنج اسے کم نہیں ملا 


ایک ایک کر کے لوگ بچھڑتے چلے گئے 

یہ کیا ہوا کہ وقفۂ ماتم نہیں ملا

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...