Thursday, 13 June 2019

کچھ اس طرح سے ترے غم کو کال کاٹتا ہے کسی کی جیب کو جیسے دلال کاٹتا ہے


کچھ اس طرح سے ترے غم کو کال کاٹتا ہے
کسی کی جیب کو جیسے دلال کاٹتا ہے
جئے کے عیب کو برتا ہے اس نے فن کی طرح
حرام کام سے روٹی حلال کاٹتا ہے
کسی غریب کا جینا بڑا کٹھن ہے میاں
یہاں وزیر پیادے کی چال کاٹتا ہے
مرے قبیلے پہ شب خون مارنے والے
یہاں تو موم بھی لوہے کی ڈھال کاٹتا ہے
میں جنگ جیت کے محفوظ لوٹ تو آیا
مگر غنیم کا مجھ کو ملال کاٹتا ہے
روایتوں کی صفیں ٹوٹتی نہیں سب سے
کئی برس میں کوئی ایک جال کاٹتا ہے
خموشی توڑ نہ دے ڈور کو تعلق کی
جواب دیجیے صاحب سوال کاٹتا ہے
ترے فراق میں یوں زندگی کٹی اپنی
غلام جیسے کسی گھر میں سال کاٹتا ہے
کچھ ایک روز تو لگتے ہیں سچ کی عادت میں
طفیلؔ جوتا نیا ہو تو کھال کاٹتا ہے

زندگی تیری امانت ہے مگر کیا کیجئے لوگ یہ بوجھ بھی تھک ہار کے رکھ دیتے ہیں


سب قرینے اُسی دلدار کے رکھ دیتے ہیں
ہم غزل میں بھی ہنر یار کے رکھ دیتے ہیں
شاید آ جائیں کبھی چشم ِخریدار میں ہم
جان و دل بیچ میں بازار کے رکھ دیتے ہیں
ذکر ِجاناں میں یہ دنیا کو کہاں لے آئے
لوگ کیوں مسٔلے بیکار کے رکھ دیتے ہیں
زندگی تیری امانت ہے مگر کیا کیجئے
لوگ یہ بوجھ بھی تھک ہار کے رکھ دیتے ہیں
ہم تو چاہت میں بھی غالب کے مُقلد ہیں فراز
جس پہ مرتے ہیں اسے مار کے رکھ دیتے ہیں

Tuesday, 11 June 2019

کس شخص کا دل میں نے دُکھایا تھا، کہ اب تک وہ میری دعاؤں کا اثر کاٹ رہا ہے


صیّاد تو امکان سفر کاٹ رہا ہے
اندر سے بھی کوئی مرے پر کاٹ رہا ہے
اے چادر منصب، ترا شوقِ گلِ تازہ
شاعر کا ترے دستِ ہُنر کاٹ رہا ہے
جس دن سے شمار اپنا پناہگیروں میں ٹھہرا
اُس دن سے تو لگتا ہے کہ گھر کاٹ رہا ہے
کس شخص کا دل میں نے دُکھایا تھا، کہ اب تک
وہ میری دعاؤں کا اثر کاٹ رہا ہے
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے
دستار کے ہوتے ہوۓ سر کاٹ رہا ہے

جانی میں تیرے ناف پیالے پہ ہوں فدا یہ اور بات ہے ترا پیکر بھی کچھ نہیں


میں اور خود سے تجھ کو چھپاؤں گا ، یعنی میں
لے دیکھ لے میاں مرے اندر بھی کچھ نہیں
یہ شہرِ دارِ محتسب و مولوی ہی کیا
پیرِ مغان و رند و قلندر بھی کچھ نہیں
شیخِ حرم کو لقمے کی پروا ہے کیوں نہیں
مسجد بھی اس کی کچھ نہیں منبر بھی کچھ نہیں
مقدور اپنا کچھ بھی نہیں اس دیار میں
شاید وہ جبر ہے کہ مقدر بھی کچھ نہیں
جانی میں تیرے ناف پیالے پہ ہوں فدا
یہ اور بات ہے ترا پیکر بھی کچھ نہیں
بس اک غبارِ طور گماں کا بھی تہ با تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں ، منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو اک حالِ سکونِ ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا ، پر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
گزرے گی جون شہر میں رشتوں کے کس طرح
دل میں بھی کچھ نہیں ہے، زباں پر بھی کچھ نہیں

تو چاہے تو مجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے اس سے بڑھ کر میں تجھے شاد نہیں رکھ سکتا


دل فقط ہجر سے آباد نہیں رکھ سکتا
جانِ جاں اب میں تجھے یاد نہیں رکھ سکتا
تو چاہے تو مجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے
اس سے بڑھ کر میں تجھے شاد نہیں رکھ سکتا
تو اگر ہے تو کسی لمحہ موجود میں آ
وہم پر میں تیری بنیاد نہیں رکھ سکتا
پہلے خود اس کی اسیری کا طلب گار تھا میں
اور اب وہ مجھے آزاد نہیں رکھ سکتا
میرا وعدہ ہے تیرا ساتھ نبھاؤں گا ضرور
ہاں مگر میں کوئی میعاد نہیں رکھ سکتا

تیری چیخیں بھی کسی روز سنے گی دُنیا مصلحت کیش! اگر تو نے رُلایا ہے مجھے


یہ الگ بات، ہر اک دکھ نے لبھایا ہے مجھے
اے مری کاہشِ جاں! کس نے ستایا ہے مجھے
اتنی نفرت تو مرے دل میں نہ جاگی تھی کبھی
سوچ، کس شخص نے یہ زہر پلایا ہے مجھے
پھر کوئی تازہ کسک دل کی تہوں میں اُتری
پھر کسی خواب نے آئینہ دکھایا ہے مجھے
کس نے لوٹا ہے مرے ذہن کی سوچوں کا سہاگ
اے مرے قلب تپاں! کس نے چرایا ہے مجھے
تیری چیخیں بھی کسی روز سنے گی دُنیا
مصلحت کیش! اگر تو نے رُلایا ہے مجھے
میں یہی سوچ کے چپ ہوں کہ کسی طور سہی
گنبدِ درد کے کنگرہ پہ سجایا ہے مجھے
ابر تزویر ہوا جب بھی کبھی سایہ فگن
حدتِ شعلہ ادراک نے پایا ہے مجھے
میں تو سر تا بہ قدم تیرا فقط تیرا تھا
ظرفِ کم حوصلہ! خود تو نے گنوایا ہے مجھے
اُس کے گھر میں بھی کسی دُکھ کی سیاہی بھر دے
شب کی دہلیز کا پتھر تو بنایا ہے مجھے
تو مرا کیسا خدا ہے! مری لغزش تو بتا
زندگی بھر جو بلندی سے گرایا ہے مجھے
کس کے اخلاص سے کوتاہی ہوئی ہے احمد
کس نے اس ضبط کا انگارہ بنایا ہے مجھے

میں ذرا وقت سے کچھ آگے چلا جاتا ہوں لوگ کہتے ہیں کہ اوقات سے نکلا ہوا ہے

خطہ ِ اجر و مکافات سے نکلا ہوا ہے
دل سبھی طرز کے صدمات سے نکلا ہوا ہے

میں ذرا وقت سے کچھ آگے چلا جاتا ہوں
لوگ کہتے ہیں کہ اوقات سے نکلا ہوا ہے

آٹھواں رنگ ہے چہرے پہ کسی سے مل کر
قد بھی کچھ شرفِ ملاقات سے نکلا ہوا ہے

مطمئن ہوں کہ مرے گاؤں میں رونق ہے ذرا
ورنہ یہ جشن مری مات سے نکلا ہوا ہے

شاہ زادی نے مجھے مل کے یہی سوچا تھا
یہ تقدس تو خرافات سے نکلا ہوا ہے

ایسا لگتا ہے کہ اس گھر میں بڑا کوئی نہیں
خیر کا وصف ہی خیرات سے نکلا ہوا ہے

حسرتیں اور پنپتی ہیں مرے ضبط کے ساتھ
مسئلہ اب تو مرے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے

یہ تعلق تو مقدر میں لکھا تھا لیکن
تو مری روح کی آیات سے نکلا ہوا ہے

اب دعا ہے کہ خدا خیر سے واپس لائے
دل سے اک شخص گئی رات سے نکلا ہوا ہے

دو جملوں میں دروازہ جاں سب بند کیے دیتے ہیں یہاں باتیں تو سبھی کرتے ہیں میاں دیوارِ انا کو ڈھانے کی


کسی پردہ غیب سے ظاہر ہو کوئی صورت ہجر کے جانے کی
کوئی ساعت سعد نوید تو دے پھر تیرے پلٹ کرآنے کی
مری باتیں سن کر کہتے ہیں احباب مرے اغیار مرے
یہ شخص ہے کون سی دنیا کایہ بات ہے کس کے زمانے کی
جو کچھ کہنا ہے کہہ پیارے مت خواب وخیال میں رہ پیارے
یہ لمحے کم کم آتے ہیں یہ رت بھی نہیں شرمانے کی
ہر سمت ہیں شعلوں کے ہالے کہتے ہیں مگر کچھ متوالے
کوئی رستہ اس تک جانے کا کوئی صورت آگ بجھانے کی
دو جملوں میں دروازہ جاں سب بند کیے دیتے ہیں یہاں
باتیں تو سبھی کرتے ہیں میاں دیوارِ انا کو ڈھانے کی
میں وہ ضدی تھا جس کے لیے ہر کارِ زیاں تھا راحتِ جاں
ویسے تو مرے ہمدردوں نے کوشش کی بہت سمجھانے کی
کیا خرچ کروں کب خرچ کروں اس سوچ میں ڈوبا رہتاہوں
اللہ کادیا سب کچھ ہے میاں مجھے فکر نہیں ہے کمانے کی

Monday, 10 June 2019

شکریہ ! مجھ پہ کرم آپ کے فرمانے کا میں نہ آنے کا رہا اور نہ کہیں جانے کا!


حُسنِ کافر بنا عنواں مرے افسانے کا
رنگ آ ہی گیا کعبہ میں صنم خانے کا
شکریہ ! مجھ پہ کرم آپ کے فرمانے کا
میں نہ آنے کا رہا اور نہ کہیں جانے کا!
دل وہ دیوانہ کہ سنتا ہی نہ تھا بات کوئی
ہائے منظر وہ سرِ بزم بکھر جانے کا!
عشق میں ٹھیک ہے بیگانۂ دنیا ہونا
لطف کچھ اور ہے پر خود سے گزر جانے کا
دل کی دل ہی میں رہے بات، یہی ہے بہتر
”راز میخانے سے باہر نہ ہو میخانے کا“(1)
میں اسے یوں ہی تو کہتا نہیں حسرت آباد
آؤ دیکھو تو تماشا مرے ویرانے کا!
حالِ دل مجھ سے نہ پوچھو، کہ بتائے کیونکر
اک دوانہ بھلا غم دوسرے دیوانے کا؟
کیوں عبث آپ کو ہے موت کی خواہش سرور؟
زندگی نام ہے بے موت ہی مر جانے کا

بس گھڑی دو گھڑی کا تیرا ساتھ ہو، اس سے بڑھ کر محبت نہیں چاہئیے عمر بھر کے لئے بس یہی ہے بہت، عمر بھر کی یہ چاہت نہیں چاہئیے


بس گھڑی دو گھڑی کا تیرا ساتھ ہو، اس سے بڑھ کر محبت نہیں چاہئیے
عمر بھر کے لئے بس یہی ہے بہت، عمر بھر کی یہ چاہت نہیں چاہئیے
ایسی روٹھی محبت کا کیا فائدہ، جس میں شکوے نہ ہی لذتِ عشق ہو
نہ فدا ہو سکیں گرمئیےعشق میں، ایسی خستہ مروت نہیں چاہئیے
ایسی منزل کہ جسکو پا نہ سکیں، ایسا راہبر جو خود بھی بھٹکتا پھرے
ایسے رستے پہ چلنا مناسب نہیں، ایسی ناکس ہدائیت نہیں چاہئیے
جانتے ہو جہاں اجنبی ہو اگر، وہاں دل کا لگانا مناسب نہیں
جس جگہ سچ کا ذرہ اگر نہ ملے، اس وطن کی حکومت نہیں چاہئیے
عشق کی ابتدا عشق کی انتہا، عشق کی شرح کا گر نہ عامل ہوا
عشق حد سے نکالے اگر جانِ مَن، یہ جنوں ایسی رفعت نہیں چاہئیے
جسکو پڑھ کر بڑے دل کی آوارگی، جس کو پا کر سلگ جائیں دل کے زخم
چاہئیے تیری ارشد قلم کی رِدا، لیکن ایسی عبارت نہیں چاہئیے
میرا ذوقِ جنوں آزما لیجئیے، اپنی دیوانگی بھی بڑا لیجئیے
گرمحبت کا ٹھہروں نہ حق دارمیں، کہدو مجھ سے یہ الفت نہیں چاہئیے

حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرح ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا، جاتے ہوئے



تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے اِدھر آتے ہوئے
کچھ بھنور ڈوب گئے آب میں چکراتے ہوئے
ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ رکھا ہے
چھینا جھپٹی میں اُفق کھلتا گیا جاتے ہوئے
جھپ سے پانی میں اُتر جاتی ہے گلنار شفق
سُرخ ہو جاتے ہیں رُخسار بھی، شرماتے ہوئے
میں نہ ہوں گا تو خزاں کیسے کٹے گی تیری
شوخ پتے نے کہا شاخ سے مُرجھاتے ہوئے
حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرح
ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا، جاتے ہوئے
سِی لئے ہونٹ وہ پاکیزہ نگاہیں سُن کر
میلی ہو جاتی ہے آواز بھی، دُہراتے ہوئے

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...