Saturday, 30 June 2018

سانسیں اُدھار لے کے گذاری ہے زندگی حیران وہ بھی تھی کہ میں کیوں مَر نہیں گیا۔


آنکھوں سے کُوئے یار کا منظر نہیں گیا
حالانکہ دس برس سے میں اُس گھر نہیں گیا۔۔
اُس نے مذاق میں کہا میں روٹھ جاؤں گی
لیکن مِرے وجود سے یہ ڈر نہیں گیا۔۔
سانسیں اُدھار لے کے گذاری ہے زندگی
حیران وہ بھی تھی کہ میں کیوں مَر نہیں گیا۔۔
شامِ وداع ، لاکھ تسلی کے باوجود
آنکھوں سے اُس کی دُکھ کا سمندر نہیں گیا۔۔
اس گھر کی سیڑھیوں نے صدائیں تو دیں مگر
میں خواب میں رہا کبھی اوپر نہیں گیا۔۔
بچوں کے ساتھ آج اُسے دیکھا تو دُکھ ہوا
ان میں سے کوئی ایک بھی ماں پر نہیں گیا۔۔
پیروں میں نقش ایک ہی دہلیز تھی حسنؔ
اس کے سوا میں اور کسی در نہیں گیا۔۔

ﻭﮦ ﺑﻨﺠﺮ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻄﻘﯽ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺗﮏ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ
ﮐﺴﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

ﮐﺴﯽ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻭﮦ
ﮐﺴﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

ﮐﻮﺉ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ
ﻭﮦ ﺩﺳﺘﺎﻭﯾﺰ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﮧ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

ﺍﺳﮯ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺳﺎ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻧﺌﯽ ﭘﻮﺷﺎﮎ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

ﺟﻮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎﻏﺰ ﭘﮧ ﻭﮦ ﻧﻘﺸﮯ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﻨﺎ
ﮔﻤﺎﮞ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺧﻮﺵ ﮔﻤﺎﻧﯽ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

Tuesday, 26 June 2018

دستار نوچ ناچ کے احباب لے اڑے سر بچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائےگا


انصاف ظالموں کی حمایت میں جائےگا
یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائےگا

دستار نوچ  ناچ کے احباب لے اڑے
سر بچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائےگا

دوزخ کے انتظام میں الجھا ہے رات دن
دعوی یہ کر رہاہے کہ جنت میں جائےگا

خوش فہمیوں کی بھیڑ میں تو بھول کیوں گیا
پہلے مریے گا بعد میں جنت میں جائے گا

Monday, 25 June 2018

میں تو جس نام سے واقف تھا وہی نام لیا, نام سنتے ہی فلاں ابن ِ فلاں چونک پڑے.

ہجر کا حکم سنا، کون و مکاں چونک پڑے,
میں یہاں چونک پڑا ، آپ وہاں چونک پڑے.

میں تو جس نام سے واقف تھا وہی نام لیا,
نام سنتے ہی فلاں ابن ِ فلاں چونک پڑے.

وہ کسی اور ملاقات میں گم تھے شاید,
پہلے اقرار کیا بعد ازاں چونک پڑے.

جیسے آنکھوں سے کوئی عکس رواں ہونے لگے,
جیسے تصویر سے لپٹی ہوئی ماں چونک پڑے.

وہ سمجھتے تھے کہ میں صرف اذاں دیتا ہوں,
میں نے اک شعر کہا ، اہل ِ زباں چونک پڑے

مرے علاوہ ہیں چھے لوگ منحصر مجھ پر مری ہر ایک مصیبت کو ضرب سات سمجھ..


تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ
میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں، بات سمجھ..
مرے علاوہ ہیں چھے لوگ منحصر مجھ پر
مری ہر ایک مصیبت کو ضرب سات سمجھ..
فلک سے کٹ کے زمیں پر گری پتنگیں دیکھ
تو ہجر کاٹنے والوں کی نفسیات سمجھ..
شروع دن سے ادھیڑا گیا ہے میرا وجود
جو دکھ رہا ہے اسے میری باقیات سمجھ..
کتاب عشق میں ہر آہ، ایک آیت ہے
اور آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ..
کریں یہ کام تو کنبے کا دن گزرتا ہے
ہمارے ہاتھوں کو گھر کی گھڑی کے ہاتھ سمجھ..
دل و دماغ ضروری ہیں زندگی کے لئے
یہ ہاتھ پاؤں اضافی سہولیات سمجھ..

Sunday, 24 June 2018

اُس کی صورت کو بہت غور سے دیکھا میں نے سرسری طور سے جس نے تیری صورت دیکھی

دور  اندیش مریضوں  کی  یہ  عادت  دیکھی
ہر طرف دیکھ لِیا جب تیری صورت دیکھی

آئے  اور اِک نگہِ  خاص سے پھِر دیکھ گئے
جب  کہ آتے ہوئے بیمار میں طاقت دیکھی

قوتیں ضبط  کی  ہر  چند  سنبھالے تھیں  مجھے
پھر بھی ڈرتے ہوئے میں نے تیری صورت دیکھی

محفلِ  حشر  میں   یہ  کون  ہے   میر ِ   مجلس؟
یہ  تو ہم نے کوئی دیکھی ہوئی  صورت دیکھی

سب یہ  کہتے  ہیں ”اُسے اب کوئی آزار نہیں“
کیوں   ستمگاز   مرے   ضبط   کی  قوت   دیکھی؟

اُس کی  صورت کو بہت غور سے دیکھا میں نے
سرسری طور سے جس نے تیری صورت دیکھی

سونے    والوں    پہ   نہ    چمکا   کبھی   نورِ  سحری
رونے  والوں  کے  ہی  چہرے پہ صباحت  دیکھی

صفحہء  دل     پہ    جو    مقصود    تھا     گہرا   نقشہ
دیر  تک   شکل   تمہاری    دمِ    رُخصت   دیکھی

اِس  قدر  یاس  بھی  ہوتی  ہے  کہیں  دنیا    میں
رو  دئیے   ہم   جو   تری   چشمِ   عنایت     دیکھی

مجھ کو  تعلیم سے  فرصت  ہی  کہاں٬ اے  شبیرؔ
کہہ  لِیا  شعر   کوئی  جب  کبھی    فُرصت   دیکھی

Saturday, 23 June 2018

تھامیں اُس بُت کی کلائی اور کہیں اُس کو جنوُں چُوم لیں مُنہ اور اُسے انداز ِرِندانہ کہیں

🏁 ریڈ پن پوسٹ 🏁

اہلِ طُوفاں! آؤ دِل والوں کا افسانہ کہیں
موج کو گیسُو، بھنوَر کو چشمِ جانانہ کہیں

دار پر چڑھ کر، لگا ئیں نعرۂ زُلفِ صَنم!
سب، ہمیں باہوش سمجھیں چاہے دِیوانہ کہیں

یارِ نکتہ داں کدھر ہے،  پھر چلیں اُس کے حضوُر
زندگی کو دِل کہیں اور دِل کو نذرانہ کہیں

تھامیں اُس بُت کی کلائی اور کہیں اُس کو جنوُں
چُوم لیں مُنہ اور اُسے انداز ِرِندانہ کہیں

پارۂ دِل ہے وطن کی سرزِمیں، مشکل یہ ہے
شہر کو وِیران ، یا  اِس دِل کو وِیرانہ کہیں

اے رُخِ زیبا!  بتا دے اور ابھی ہم کب تلک
تِیَرگی کو شمع،  تنہائی کو پروانہ کہیں

آرزو ہی رہ گئی مجرُوحؔ ! کہتے ہم کبھی
اِک غزل ایسی، جِسے تصویرِ جانانہ کہیں
.
مجرُوؔح سُلطانپوری 🏁

ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﺷﺖ ﻭ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ


ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻮ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﺭﻭﮐﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ
ﺩﺷﺖ ﻭ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﺍﯾﮏ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﺎ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮨﺎﮞ ﻧﮕﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ میری ﺗﻮﮨﯿﻦِ ﺍﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﯽ
ﺍﺏ ﮔﺪﺍ ﮔﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﺪﺍ ﮔﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﻣﻮﻟﯽٰ
ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮯ ﮐﮧ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﭼﺎﻧﺪ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ تیرے ﻣﺎﺗﮭﮯ ﮐﺎ ﺟﮭﻮﻣﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺁﻧﮕﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﭧ ﭘﺎﯾﺎ
ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﻨﻮﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ

شعورِ مے نہ سہی کثرتِ ہوس ہی سہی شراب لاؤ کہ پینا سبھی کو آتا ہے


سپردگی کا قرینہ سبھی کو آتا ہے
سو ابتدا میں پسینہ سبھی کو آتا ہے
شعورِ مے نہ سہی کثرتِ ہوس ہی سہی
شراب لاؤ کہ پینا سبھی کو آتا ہے
یہ اپنے آپ سے بچھڑے ہوؤں کی بستی ہے
یہاں تو ہجر میں جینا سبھی کو آتا ہے
کوئی بھی اب نہیں مرتا یہاں غمِ دِل سے
یہ زہر گھول کے پینا سبھی کو آتا ہے
سعید ایک تمہی ہو کہ سرکشیدہ ہو
غلام بن کے تو جینا سبھی کو آتا ہے

Friday, 22 June 2018

روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا کہ پلٹ کر مت دیکھp


سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ
منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ
روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے
میں نے جگنو سےکہا تھا کہ پلٹ کر مت دیکھ
تاب داں کھول کے رستے کی طرف دیکھتا رہ
گھر کی دیوار پہ تصویر سمٹ کر مت دیکھ
خانۂ دہر سے یوں سیرِ طلب کو نہ اٹھا
کوزہ گر کاسہء وحشت کو الٹ کر مت دیکھ
یہ جو محرومیء گلزار میں سر پیٹتے ہیں
اپنے پہلو سے اٹھا ان سے لپٹ کر مت دیکھ

Thursday, 21 June 2018

اک تری آواز سننے کے لیے زندہ ہیں ہم تُو ہی جب خاموش ہو جائے تو پھر کیا ٹھیک ہے


بعد میں مجھ سے نہ کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے
ویسے سننے میں یہی آیا  ہے رستہ ٹھیک ہے
اس جہان ِخاک میں ہر شے کو ہے آخر زوال
اس کا مطلب سوکھ جاتا ہے تو دریا ٹھیک ہے
ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے اُس کی برتری
آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے
شاخ سے پتا گرے، بارش رکے، بادل چھٹیں
میں ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے
اُس کے آنسو قبر تک پیچھا نہ چھوڑیں گے مرا
میں اگر مر جاؤں اُس کا دھیان رکھنا،  ٹھیک ہے؟ 
اک  تری آواز  سننے  کے لیے  زندہ  ہیں  ہم
تُو ہی جب خاموش ہو جائے تو پھر کیا ٹھیک ہے

تیرا دن ہو کہ مری رات، نہیں رک سکتے اپنے محور پہ زمیں خود کو گھما سکتی ہے


دوست بن کر بھی کہیں گھات لگا سکتی ہے
موت کا کیا ہے؟ کسی روپ میں آ سکتی ہے
ان  مکانوں  میں  یہ  دھڑکا  سا لگا  رہتا  ہے
اگلی  بارش  در  و  دیوار  گرا  سکتی  ہے
تیرا دن ہو کہ مری رات، نہیں رک سکتے
اپنے محور پہ زمیں خود کو گھما سکتی ہے
ایسی ترتیب سے روشن ہیں تری محفل میں
ایک ہی پھونک چراغوں کو بجھا سکتی ہے
میرا فن میرے  خد  و خال  پہ تقسیم ہوا
میری  بینی  مری  تصویر  بنا  سکتی  ہے
فطرتاً اس کی مہک چاروں طرف پھیلے گی
پھول سے  موجِ  صبا  شرط لگا  سکتی ہے
خوش نہ ہو اتنا کہ یوں روشنیاں پھوٹ پڑیں
اس چکا چوند میں بینائی بھی جا سکتی ہے
گدگداہٹ میں نسیم اس نے نہیں سوچا تھا
یہ ہنسی  ٹوٹ  کے  بچے کو  رلا  سکتی  ہے

عکس آئینے میں نہیں ملتا پردہ تو آنکھ پر پڑا ہوا ہے

چاک پر ایک سر پڑا ہوا ہے
یعنی بارِ ہنر پڑا ہوا ہے

ڈھونڈتا پھر رہا ہوں گلیوں میں
اور بدن اپنے گھر پڑا ہوا ہے

عکس آئینے میں نہیں ملتا
پردہ تو آنکھ پر پڑا ہوا ہے

زخم دو گے تو خرچ ہو گا ناں
حوصلہ دشت بھر پڑا ہوا ہے

سر اٹھانے کے بعد علم ہوا
عشق دہلیز پر پڑا ہوا ہے

سید صہیب ھاشمی

لفظ ریشوں کی طرح بُننا ہے شامل خون میں میرے پرکھوں کا ہنر قالین بافی ہے بھئی..


تول لیکن دیکھ مجھ میں نم اضافی ہے بھئی
اس کو منہا کر کے لکھ جو وزن صافی ہے بھئی..
میں اکیلا ڈھو رہا ہوں بوجھ دہرے ہجر کا
یہ ادھورے عشق کی پوری تلافی ہے بھئی..
لفظ ریشوں کی طرح بُننا ہے شامل خون میں
میرے پرکھوں کا ہنر قالین بافی ہے بھئی..
اس قدر رو جس قدر بنتا ہے غم کا اصل زر
سود تو ویسے بھی مذہب کے منافی ہے بھئی..
آدمی کے ساتھ کیا کرتی ہے کم بخت آگہی
آئینہ دیکھا ابھی توبہ! معافی ہے بھئی..
اتنی وحشت جذب کرتے سینکڑوں لگ جائیں گے
ہاں! اگر مجھ سا ہو تو اک آدھ کافی ہے بھئی..
وہ زیادہ سے زیادہ کیا کرے گا دیکھ لوں
تجرباتی قسم کی وعدہ خلافی ہے بھئی..

ہم سے پوچھ ناں شہروں میں کیا گزری ہے تُو نے ویرانے میں وحشت کی اور بس


تجھ کو سوچا تیری حسرت کی اور بس
ہم نے ساری عمر محبت کی اور بس
ہم سے پوچھ ناں شہروں میں کیا گزری ہے
تُو نے ویرانے میں وحشت کی اور بس
کس نے کیسے عمر گزاری تجھ کو کیا
تُو نے تو کچھ دیر رفاقت کی اور بس
دل نے آخری سانس تلک تاوان بھرا
آنکھوں نے اِک خواب کی نیّت کی اور بس
کون مجھے کیا سمجھا میثم مجھ کو کیا
میں نے تو ہر شخص کی عزت کی اور بس

اک زیارت کے سوا، یار کی قربت کے سوا اور اے ارض و سما، تم سے میں کیا لیتا ہوں


رنگ سے راستہ، صورت سے پتا لیتا ہوں
اور بچھڑے ہوئے اک عشق کو جا لیتا ہوں
اب تو یہ تجھ سے بھی باور نہیں ہونے والا
میرا قصہ ہے سو خود کو ہی سنا لیتا ہوں
اک زیارت کے سوا، یار کی قربت کے سوا
اور اے ارض و سما، تم سے میں کیا لیتا ہوں
رطلِ عشق اپنی طرف سے تو اُٹھایا ہوا ہے
لا اسے تیری طرف سے بھی اُٹھا لیتا ہوں
سید کاشف رضا

تم اگر نہیں ہوتے پھر تو کچھ نہیں ہوتا یہ زمیں نہیں ہوتی آسماں نہیں ہوتے


فاصلے محبت کے درمیاں نہیں ہوتے
خواہ مخواہ اپنوں سے بدگماں نہیں ہوتے
تم اگر نہیں ہوتے پھر تو کچھ نہیں ہوتا
یہ زمیں نہیں ہوتی آسماں نہیں ہوتے
اپنے دل سے خود پوچھو کس لیے دھڑکتا ہے
ہم تو آپ کے کوئی راز داں نہیں ہوتے
سب یہ اُس کی قدرت ہے ورنہ کیا مجال اپنی
تم حَسیں نہیں ہوتے ہم جواں نہیں ہوتے
بے رُخی تو عادت ہے گُل رُخوں کی اے اکبرؔ
کیا گِلہ جو وہ ہم پر مہرباں نہیں ہوتے

ہوا نہ جانے کہاں لے گئی وہ تیر کہ جو نشانے پر بھی نہ تھا اور کمان میں بھی نہ تھا


چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل
وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا

یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے
یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا

ہوا نہ جانے کہاں لے گئی وہ تیر کہ جو
نشانے پر بھی نہ تھا اور کمان میں بھی نہ تھا

جمالؔ پہلی شناسائی کا وہ اک لمحہ
اسے بھی یاد نہ تھا میرے دھیان میں بھی نہ تھا

جمال احسانی

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...