Monday, 30 March 2020

تُو سمجھ دار اگر ہے تو یہی کافی ہے! تجھے کہتی ہے کہ"کیا ہے؟"مجھے "جی" بولتی ہے۔۔

تُو سمجھ دار اگر ہے تو یہی کافی ہے!
تجھے کہتی ہے کہ"کیا ہے؟"مجھے "جی" بولتی ہے

پھول چیخ اٹھتے ہیں پتیوں پہ نمی بولتی ہے
بیل کے پنجرے سے جب شاخ ہری بولتی ہے۔۔

میری وسعت میرے اظہار کے آڑے آئی
مجھ سمندر سے زیادہ تو ندی بولتی ہے۔۔۔🔥

میں تو چڑیا کو ہی بلبل کی جگہ لکھوں گا
کہ میرے گھر میں تو دن رات یہی بولتی ہے۔۔

دن میرا جاب کی بک بک میں گزر جاتا ہے
اور شب بھر یہ کلائی کی گھڑی بولتی ہے!

میں تو اس حسن پہ مرنے ہی لگا تھا یارو
پھر کسی نے یہ بتایا کہ پری بولتی ہے۔۔❤

اے کھِلے پھول کے شیدائی تجھے علم نہیں
کتنے ذو معنی طریقے سے کلی بولتی ہے۔۔👌

آنکھ والو یوں میری خاک تماشا نہ کرو
سننے والو یہ میری تیز روی بولتی ہے۔۔🔥

تُو سمجھ دار اگر ہے تو یہی کافی ہے!
تجھے کہتی ہے کہ"کیا ہے؟"مجھے "جی" بولتی ہے۔۔

راز احتشام

ہم ایسے لوگ کہاں زندگی گزارتے ہیں بس اتنا سوچتے ہیں کل کلاں بچی رہے گی


نہیں رہے گا کہیں کچھ تو جاں بچی رہے گی
خدا کا شکر ہے جائے اماں بچی رہے گی
کسی نے ہاتھ پڑھا ہے مرا بتایا ہے
یہ اک لکیر جو ہے رائیگاں بچی رہے گی
زمین جانتی ہے عاجزی درون و بروں
اسے پتہ ہے تہہِ آسماں بچی رہے گی
بڑھاتے جاؤ ذخیرہ کرو اداسی کو
خرچ ہوئی تو بھلا پھر کہاں بچی رہے گی
ہم ایسے لوگ کہاں زندگی گزارتے ہیں
بس اتنا سوچتے ہیں کل کلاں بچی رہے گی
ذرا سی زیادہ ہمیں دے گیا محبت تُو
ہمارے پاس تو ساری میاں! بچی رہے گی ❤️
ذکی عاطف

Thursday, 19 March 2020

جھپ سے پانی میں اُتر جاتی ہے گلنار شفق سُرخ ہو جاتے ہیں رُخسار بھی، شرماتے ہوئے

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے اِدھر آتے ہوئے
کچھ بھنور ڈوب گئے آب میں چکراتے ہوئے

ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ رکھا ہے
چھینا جھپٹی میں اُفق کھلتا گیا جاتے ہوئے

جھپ سے پانی میں اُتر جاتی ہے گلنار شفق
سُرخ ہو جاتے ہیں رُخسار بھی، شرماتے ہوئے

میں نہ ہوں گا تو خزاں کیسے کٹے گی تیری
شوخ پتے نے کہا شاخ سے مُرجھاتے ہوئے

حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرح
ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا، جاتے ہوئے

سِی لئے ہونٹ وہ پاکیزہ نگاہیں سُن کر
میلی ہو جاتی ہے آواز بھی، دُہراتے ہوئے
گلزار

Saturday, 14 March 2020

بس اک فراغؔ بچا ہے جنوں پسند یہاں کہو کہ وہ بھی مرے قافلے میں آ جائے

کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے
وہ شخص پھر سے مرے رابطے میں آ جائے

اسے کرید رہا ہوں طرح طرح سے کہ وہ
جہت جہت سے مرے جائزے میں آ جائے

کمال جب ہے کہ سنورے وہ اپنے درپن میں
اور اس کا عکس مرے آئینے میں آ جائے

کیا ہے ترک تعلق تو مڑ کے دیکھنا کیا
کہیں نہ فرق ترے فیصلے میں آ جائے

دماغ اہل محبت کا ساتھ دیتا نہیں
اسے کہو کہ وہ دل کے کہے میں آ جائے

وہ میری راہ میں آنکھیں بچھائے بیٹھا ہو
یہ واقعہ بھی کبھی دیکھنے میں آ جائے

وہ ماہتاب زمانہ ہے لوگ کہتے ہیں
تو اس کا نور مرے شب کدے میں آ جائے

بس اک فراغؔ بچا ہے جنوں پسند یہاں
کہو کہ وہ بھی مرے قافلے میں آ جائے

فراغ روہوی

عمر بھر ساتھ نبھانے کا ، نہ سوچو پاگل.. ایک جنگل مِیں بَھلا زیست، بِتا سکتے ہو

رات کالی ہے، مُجھے چہرہ دکھا سکتے ہو
تُم فقط اتنا بتاؤ  ،  ابھی آ سکتے ہو.

اِک نئی دُنیا بسانے کی ،  تمنا ہے اگر
تُم مری آنکھ سے کچھ خواب، چُرا سکتے ہو

تُم مری زیست، بڑے شوق سے تصویر کرو..
دیکھ لو ،  دشت کو گُلزار بنا سکتے ہو ؟

عمر بھر ساتھ نبھانے کا ، نہ سوچو پاگل..
ایک جنگل مِیں بَھلا زیست، بِتا سکتے ہو

مَیں ہوں اِک سوکھا ہوا پیڑ، ثمر کیا دوں گا..
تُم عبث چھاؤں کی ،  اُمید لگا سکتے ہو..

بن گیا تو کوئی ، ترمیم نہ کر پاؤ گے
تُم ابھی بھی مری بُنیاد ، گِرا سکتے ہو

سبطین ساحر

اپنے عذاب ڈھوتے ہوئے مطمئن تھا میں پھر ایک دن تمہاری کمی لاد دی گئی

رزقِ سخن بڑھایا گیا داد دی گئی
جسموں کو عین ناپ کے معیاد دی گئی

پہلے سبق میں مجھ کو پڑھایا گیا خدا
اور دوسرے سبق میں تری یاد دی گئی

وحشت کی اک کدال سے چیرا گیا وجود
ریشوں میں ہل چلائے گئے کھاد دی گئی

بٹنے لگی جو روشنی میں پہلی صف میں تھا
یہ اور بات ہے کہ ازاں بعد دی گئی

اپنے عذاب ڈھوتے ہوئے مطمئن تھا میں
پھر ایک دن تمہاری کمی لاد دی گئی ❤️

ذکی عاطف

Thursday, 12 March 2020

لوگوں کا کیا ہے لوگ تو باتیں بنائیں گے لوگوں کو میری جان تماشا پسند ہے

تجھ سے جڑا ہر ایک حوالہ پسند ہے
دل بھی عجیب چیز ہے، کیا کیا پسند ہے

اِس کے تمام تلخ نتائج کے باوجود
اک شخص ہے جسے مرا غصہ پسند ہے

لوگوں کا کیا ہے لوگ تو باتیں بنائیں گے
لوگوں کو میری جان تماشا پسند ہے

کیسے بنے گی بات ہماری.. بتائیے
میں دھوپ، اور جناب کو سایہ پسند ہے

منہ پر منافقوں کو منافق کہوں گا میں
منہ پھیر لے یہاں جو کنایہ پسند، ہے

جب تک ہو مجھ سے اس کی حفاظت کروں گا میں
مجھ کو تمہاری یاد کا ملبہ پسند ہے

پتھر تو پل میں ڈوب کے مرتا ہے سو مجھے
روئی کے ڈوبنے کا طریقہ پسند ہے

میں تجھ کو لکھ رہا ہوں سنہرے حروف میں
یوں بھی کہ تجھ کو رنگ سنہرا پسند ہے

تہذیب حسین

Wednesday, 11 March 2020

میں کیا کروں مرے بازو بدن کے ساتھ نہ تھے عدو سے لڑنی پڑی یار کے بغیر ہی جنگ

کسی زرہ کسی  ہتھیار کے بغیر ہی جنگ
یہ سرد جنگ ہے آزار کے بغیر ہی جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی طرح بھی منافق کی پیروی نہیں کی 
سو لڑنے آئے ہیں سالار کے بغیر ہی جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محاذِ  قبر پہ خود اپنی لاش لے آیا
لڑی ہے میں نے عزادار کے بغیر ہی جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کیا کروں  مرے بازو بدن کے ساتھ نہ تھے
عدو سے لڑنی پڑی یار کے بغیر ہی جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحابیوں سا عقیدہ ہو ہر سپاہی کا
تو جیتی جاتی ہے تلوار کےبغیر ہی جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احمد آشنا

Tuesday, 10 March 2020

اشک تاثیر میں اُس حد سے تو کم ہے لڑکی پر میں رو لیتا ہوں یہ تیرا کرم ہے لڑکی


اشک تاثیر میں اُس حد سے تو کم ہے لڑکی
پر میں رو لیتا ہوں یہ تیرا کرم ہے لڑکی۔۔

تو نے رکھنا ہے مجھے دل میں بھی اور ذہن میں بھی
تو میرا کفر میرا دین دھرم ہے لڑکی۔۔

تیرے خوابوں میں تناسب کا منافع ہے مجھے
یہ جو دن رات میری آنکھ میں نم ہے لڑکی۔۔

میرے چھو لینے سے توڑ آئی تھی کنگن اپنے
اور ابھی ہونٹوں پہ ہونٹوں کا جو رم ہے لڑکی؟..

ایسی پیاری کہ مکمل ہے زمانے کے بغیر
اس لئے مجھ کو تیرے ہونے کا غم ہے لڑکی۔۔

آخر اب مسئلہ کیا ہے تجھے خوش رہنے میں؟
دنیا ویرانی میں اس دل سے تو کم ہے لڑکی۔۔

تیری خاطر کوئی حیران بھی رہ سکتا ہے
خودکشی کرنا تو چھوٹی سی رقم ہے لڑکی۔۔🔥

اور ایک نظم ہے جو میں نے سنائی نہیں ہے
اور ایک خواب ہے جو گنتی میں کم ہے لڑکی۔۔

تیرا چپ رہنا مجھے داد ہے ہر شعر پہ داد
تیرا ہنسنا ہی میرا پہلا قدم ہے لڑکی۔۔

آلِ عمر

Thursday, 5 March 2020

صرف ایک شخص کے کہنے پہ کہ تم جیتے رہو زندگی جینی پڑی خوب و خرابات سمیت


مجھ کو مل جاۓ میرا یار عنایات سمیت
عشق حاضر ہو ذرا کشف و کرامات سمیت۔۔❤🙏
اچھے لوگوں سے تو ہر کوئی نبھا لیتا ہے
مجھ کو چاہو میری بگڑی ہوئی عادات سمیت۔
صرف ایک شخص کے کہنے پہ کہ تم جیتے رہو
زندگی جینی پڑی خوب و خرابات سمیت۔۔🔥
گاڑی آہستہ چلاتے ہوئے آنا جانا
میں سفر کرتا ہوں اب اس کی ہدایات سمیت۔۔❤
فون نمبر ہے مگر خط ہی لکھا کرتی ہے
عشق کرتی ہے میرے ساتھ روایات سمیت۔۔❤

مجھ کو کوئی بیماری نہیں ہے مرے عزیز شاید کسی کی بات سرہانے لگا گئی


جب سے مرے قریب سے وہ ذات کیا گئی
مجھ کو اکیلا پن یہ اداسی بھی کھا گئی
میں سوچ ہی رہا تھا پری ایسی ہوتی ہے
پھر اک حسین لڑکی میرے پاس آ گئی
سب کھیل جانتا ہوں میں اندھا نہیں حضور
یہ زندگی بھی مجھ کو بہت کچھ دکھا گئی
منظر بہت عجیب تھا دلچسپ تھا مگر
اک چڑیا ایک پیڑ کو باتیں سنا گئی
مجھ کو کوئی بیماری نہیں ہے مرے عزیز
شاید  کسی کی بات سرہانے  لگا گئی

بات کرتے ہیں تو اوقات بتا دیتے ہیں لوگ کردار سے اب ذات بتا دیتے ہیں


بات کرتے ہیں تو اوقات بتا دیتے ہیں
لوگ کردار سے اب ذات بتا دیتے ہیں
وہ اشارے سے ہمیں کہتے ہیں پرچہ تو دکھا
ھم بھی سادہ ہیں سوالات بتا دیتے ہیں
بات اوروں کی اگر ہو تو ہیں نقاد مگر
لوگ بس اپنے کمالات بتا دیتے ہیں
جن کو توہینِ محبت کا بھی ادراک نہیں
ھم اُنھیں عزتِ سادات بتا دیتے ہیں
جب کوئی کہتا ھے سب دل کی کہانی کہہ دو
ھم بھی فنکار ہیں حالات بتا دیتے ہیں
یہ سیاست کے جو مہرے ہیں انھیں خوف نہیں
دن کبھی نکلے تو یہ رات بتا دیتے ہیں..

Tuesday, 3 March 2020

لوگوں کا کیا ہے لوگ تو باتیں بنائیں گے لوگوں کو میری جان تماشا پسند ہے


تجھ سے جڑا ہر ایک حوالہ پسند ہے
دل بھی عجیب چیز ہے، کیا کیا پسند ہے
اِس کے تمام تلخ نتائج کے باوجود
اک شخص ہے جسے مرا غصہ پسند ہے
لوگوں کا کیا ہے لوگ تو باتیں بنائیں گے
لوگوں کو میری جان تماشا پسند ہے
کیسے بنے گی بات ہماری.. بتائیے
میں دھوپ، اور جناب کو سایہ پسند ہے
منہ پر منافقوں کو منافق کہوں گا میں
منہ پھیر لے یہاں جو کنایہ پسند، ہے
جب تک ہو مجھ سے اس کی حفاظت کروں گا میں
مجھ کو تمہاری یاد کا ملبہ پسند ہے
پتھر تو پل میں ڈوب کے مرتا ہے سو مجھے
روئی کے ڈوبنے کا طریقہ پسند ہے
میں تجھ کو لکھ رہا ہوں سنہرے حروف میں
یوں بھی کہ تجھ کو رنگ سنہرا پسند ہے
  جناب تہذیب حسین

ایسے دھتکار نہیں یار چلا جاؤں گا میرا مقصد تھا فقط ایک زیارت کرنا


دور سے بیٹھے ہوئے بوسے عبارت کرنا
اس کی عادت ہے نگاہوں سے اشارت کرنا
ہونٹ رکھ دیتا ہے بے خوف و خطر ہونٹوں پہ
اس کو آتا ہے لبوں سے بھی شرارت کرنا
جس جگہ جاؤں میں بس تم ہی نظر آؤ مجھے
آج مجھ کو عطا حسن بصارت کرنا
اس حسینہ کے علاوہ بھی کسی پر لکھوں
میری ہمت ہی نہیں ایسی جسارت کرنا
وہ جہاں پر بھی گیا مہک اٹھے شام و سحر
پھول کا کام ہے خوشبو کی تجارت کرنا
ایسے دھتکار نہیں یار چلا جاؤں گا
میرا مقصد تھا فقط ایک زیارت کرنا
آج کل کوئی کسی سے بھی نہیں خوش ہوتا
سب کا شیوہ ہے یہاں پر تو حقارت کرنا
لفظ اینٹوں کی طرح چن کے غزل لکھتا ہوں
اتنا آساں بھی نہیں ان کو عمارت کرنا
وقاص احمد🔥

جتنی شدت سے کبھی میں نے تجھے چاہا تھا اتنی شدت سے دعا کی ہے کہ مر جاوں میں

دے ہی دے آج مجھے اذنِ سفر، جاوں میں
آگے مرضی ہے میری جیسے، جدھر جاوں میں۔۔۔

جتنی شدت سے کبھی میں نے تجھے چاہا تھا
اتنی شدت سے دعا کی ہے کہ مر جاوں میں۔۔۔

کیا رکاوٹ ہے کہ یہ عمر پڑی ہے پاوں
یا تو چپ چاپ گذاروں یا گذر جاوں میں۔۔🔥

اب میرے بچے میرے قد کے برابر آئے
اب میں کمزور نہیں اتنی کہ ڈر جاوں میں۔۔۔

تیری قربت نے بگاڑا تھا گئے سال مجھے
اب تیرے ہجر میں ممکن ہے سدھر جاوں میں۔۔

میں محبت ہوں اثر میرا بہت ظالم ہے
کوئی آسیب نہیں ہوں کہ اتر جاوں میں..❤👌

مدتوں بعد وہ دروازہ کھلا دیکھا ہے
منتظر ہوگا کوئی میرا؟ اگر جاوں میں...👌

تجھ سے اب سیکھ لیا رنگ بدلنے کا ہنر
کیا خبر بات کروں اور مکر جاوں میں..

کومل جوئیہ

Monday, 2 March 2020

ملا ہے فقر تو ورثے میں جدِ امجد سے مجھے یہ فخر ہے ساقی کہ فاقہ مست ہوں میں

یہ حادثات نہ سمجھیں ابھی کہ پست ہوں میں
شکستہ ہو کے بھی ناقابلِ شکست ہوں میں

متاعِ درد سے دل مالا مال ہے میرا
زمانہ کیوں یہ سمجھتا ہے تنگدست ہوں میں

یہ انکشاف ہوا ہی نہیں کبھی مجھ پر
خودی پرست ہوں میں یا خدا پرست ہوں میں

نہ پا سکیں گے جوانانِ بادہ مست مجھے
خود اپنی ذات میں خُم خانہء الست ہو میں

قبول کس نے کیا میری سرپرستی کو
بظاہر ایک قبیلے کا سرپرست ہوں میں

ملا ہے فقر تو ورثے میں جدِ امجد سے
مجھے یہ فخر ہے ساقی کہ فاقہ مست ہوں میں

ساقی امروہی

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...