کمینہ پن بھی دکھاؤں تو ہنسنے لگتے ہیں
جو گہرے دوست ہیں میرے ، مجھے سمجھتے ہیں
اسے معاف کیا کہ وہ اس کو چاہتا تھا
وگرنہ ہم جو حریفوں کا حال کرتے ہیں
بس ایک بار مجھے ماضی بھول جانے دے
وہ خود پہ آہیں بھریں گے جو کان بھرتے ہیں
تعلقات بڑھانے سے ایک راز کھلا
جنہیں گلے سے لگاؤ گلے ہی پڑتے ہیں
جو تیرے سامنے الحمدللہ کہتے رہے
وہ تیرے بعد خدا سے بہت جھگڑتے ہیں
ہمارے گاؤں کی سڑکوں پہ ریت ناچتی ہے
اور اسکے ذرے بہت دور تک بکھرتے ہیں
افکار علوی
Saturday, 11 April 2020
للہ جٙبیں بھی آنکھ بھی رخسار بھی تو ہیں یہ کیا کہ ایک دم سے کمر چوم لی جیے
جان و جہان قلب و نظر چوم لی جیے
مرضی جناب کی ہے جدھر چوم لی جیے۔۔۔
جی تو یہ چاہتا کہ بس دیکھ کر تجھے
یہ آنکھ یہ نگاہ یہ نظر چوم لی جیے۔۔۔
للہ جٙبیں بھی آنکھ بھی رخسار بھی تو ہیں
یہ کیا کہ ایک دم سے کمر چوم لی جیے۔۔
اُٹھیے بھی کیا کریں گے فصاحت، کہ آپ سے
منہ تک نہ کُھل سکے گا اگر چوم لی جیے..
اِس بے قراری سے نہ مجھے دیجے دادِ فٙن
یہ لیجے میرا گال، اِدَھر چوم لی جیے۔۔۔
اللہ رے حمزہ شوخ بیانی تیری کہ بس
ہر جا تو چوما اور کِدھر چوم لی جیے۔۔
حمزہ عمران
مرضی جناب کی ہے جدھر چوم لی جیے۔۔۔
جی تو یہ چاہتا کہ بس دیکھ کر تجھے
یہ آنکھ یہ نگاہ یہ نظر چوم لی جیے۔۔۔
للہ جٙبیں بھی آنکھ بھی رخسار بھی تو ہیں
یہ کیا کہ ایک دم سے کمر چوم لی جیے۔۔
اُٹھیے بھی کیا کریں گے فصاحت، کہ آپ سے
منہ تک نہ کُھل سکے گا اگر چوم لی جیے..
اِس بے قراری سے نہ مجھے دیجے دادِ فٙن
یہ لیجے میرا گال، اِدَھر چوم لی جیے۔۔۔
اللہ رے حمزہ شوخ بیانی تیری کہ بس
ہر جا تو چوما اور کِدھر چوم لی جیے۔۔
حمزہ عمران
Thursday, 9 April 2020
تمام لوگوں نے جب دعا ختم کر لی تو میں نے ہاتھ اُٹھائے مجھے لگا تھا کہ بھیڑ ہے اتنی بھیڑ میں کیا نیا ملے گا؟..
نئے مسافر نئی زمینوں کی سمت جائیں خدا ملے گا
اگر نہیں بھی ملا تو مذہب کے نام پر مسئلہ ملے گا..🔥
تمام لوگوں نے جب دعا ختم کر لی تو میں نے ہاتھ اُٹھائے
مجھے لگا تھا کہ بھیڑ ہے اتنی بھیڑ میں کیا نیا ملے گا؟..
یہ تالیاں مارتے ہوئے لوگ مسخرے سے ابھی کہیں گے
ہمیں بھی اِس شور کے عوض بھائی جان کیا شکریہ ملے گا؟۔۔۔🔥
یہاں تو پانی کی پیاس کو بھی کتاب پڑھ کر بجھاتے ہیں لوگ
یہاں کسی سے لطیفہ بھی مانگ لو گے تو فلسفہ ملے گا۔۔
تمھارے ملنے کے بعد اِس بات پہ سبھی متفق ہیں لڑکی
کہ اُن کو بھی زندگی میں کچھ خاص اور کچھ بے بہا ملے گا..
خلا سے آئے پہاڑ جتنے بڑے جہازوں پہ خوش نہ تھے ہم
وہ اس لئے ہم سمجھ چکے تھے کہ اُن سے کیا تجربہ ملے گا۔۔
یہاں کچھ ایسے بھی ہیں جو انکار کر دیں گے تجھ کو چومنے سے
یہ لوگ وہ ہیں جو جانتے ہیں حصول کے بعد کیا ملے گا؟۔۔
مجھے تو اب شرم آ رہی ہے میں کیسے اُس کا پتا بتاؤں؟
میں کیا کہوں میرا یار آوارہ ہے تمھیں ہر جگہ ملے گا؟..
اکبر علی
اگر نہیں بھی ملا تو مذہب کے نام پر مسئلہ ملے گا..🔥
تمام لوگوں نے جب دعا ختم کر لی تو میں نے ہاتھ اُٹھائے
مجھے لگا تھا کہ بھیڑ ہے اتنی بھیڑ میں کیا نیا ملے گا؟..
یہ تالیاں مارتے ہوئے لوگ مسخرے سے ابھی کہیں گے
ہمیں بھی اِس شور کے عوض بھائی جان کیا شکریہ ملے گا؟۔۔۔🔥
یہاں تو پانی کی پیاس کو بھی کتاب پڑھ کر بجھاتے ہیں لوگ
یہاں کسی سے لطیفہ بھی مانگ لو گے تو فلسفہ ملے گا۔۔
تمھارے ملنے کے بعد اِس بات پہ سبھی متفق ہیں لڑکی
کہ اُن کو بھی زندگی میں کچھ خاص اور کچھ بے بہا ملے گا..
خلا سے آئے پہاڑ جتنے بڑے جہازوں پہ خوش نہ تھے ہم
وہ اس لئے ہم سمجھ چکے تھے کہ اُن سے کیا تجربہ ملے گا۔۔
یہاں کچھ ایسے بھی ہیں جو انکار کر دیں گے تجھ کو چومنے سے
یہ لوگ وہ ہیں جو جانتے ہیں حصول کے بعد کیا ملے گا؟۔۔
مجھے تو اب شرم آ رہی ہے میں کیسے اُس کا پتا بتاؤں؟
میں کیا کہوں میرا یار آوارہ ہے تمھیں ہر جگہ ملے گا؟..
اکبر علی
امیرِ شہر کے حالات جب خراب ہوئے بڑی خرابی ہوئ اور سب خراب ہوۓ
امیرِ شہر کے حالات جب خراب ہوئے
بڑی خرابی ہوئ اور سب خراب ہوۓ
ہمارے چہروں کی الجھن بتا رہی ہے کہ ہم
بلا جواز بنے ؛ بے سبب خراب ہوئے
یہی تو دکھ ہے کہ موجودگاں کی غفلت سے
گزشتگان کے نام و نسب خراب ہوئے
جو رات دن مجھے جینا سکھایا کرتا تھا
چلا گیا تو مرے روز و شب خراب ہوئے
ہم ایسے لوگ نہ دیں کے رہے نہ دنیا کے
تمہارے چاہنے والے عجب خراب ہوئے
تمہاری چڑھتی جوانی کا فیض ہے ورنہ
ہم ایسے پہلے نہ تھے جیسے اب خراب ہوئے
بقدرٍ شوق یہاں ہر کسی نے پیار کیا
بفضلٍ عشق یہاں سب کے سب خراب ہوئے
راکب مختار
بڑی خرابی ہوئ اور سب خراب ہوۓ
ہمارے چہروں کی الجھن بتا رہی ہے کہ ہم
بلا جواز بنے ؛ بے سبب خراب ہوئے
یہی تو دکھ ہے کہ موجودگاں کی غفلت سے
گزشتگان کے نام و نسب خراب ہوئے
جو رات دن مجھے جینا سکھایا کرتا تھا
چلا گیا تو مرے روز و شب خراب ہوئے
ہم ایسے لوگ نہ دیں کے رہے نہ دنیا کے
تمہارے چاہنے والے عجب خراب ہوئے
تمہاری چڑھتی جوانی کا فیض ہے ورنہ
ہم ایسے پہلے نہ تھے جیسے اب خراب ہوئے
بقدرٍ شوق یہاں ہر کسی نے پیار کیا
بفضلٍ عشق یہاں سب کے سب خراب ہوئے
راکب مختار
پھر یوں ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ سے کشکول گر پڑا خیرات لے کر مجھ ۔۔۔۔۔۔سے چلا تک نہیں گیا
یہ نہیں کہ دست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا تک نہیں گیا
میرا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلق خدا تک نہیں گیا
پھر یوں ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ سے کشکول گر پڑا
خیرات لے کر مجھ ۔۔۔۔۔۔سے چلا تک نہیں گیا
مصلوب ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ہنس رہا تھا میں
آنکھوں میں اشک۔۔۔۔۔لے کے خدا تک نہیں گیا
جو برف گر رہی تھی۔۔میرے سر کے آس پاس
کیا لکھ رہی تھی مجھ سے پڑھا تک نہیں گیا
فیصل مکالمہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہواؤں کا پھول سے
وہ شور تھا کہ مجھ ۔۔۔۔سے سنا تک نہیں گیا
(فیصل عجمی)
میرا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلق خدا تک نہیں گیا
پھر یوں ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ سے کشکول گر پڑا
خیرات لے کر مجھ ۔۔۔۔۔۔سے چلا تک نہیں گیا
مصلوب ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ہنس رہا تھا میں
آنکھوں میں اشک۔۔۔۔۔لے کے خدا تک نہیں گیا
جو برف گر رہی تھی۔۔میرے سر کے آس پاس
کیا لکھ رہی تھی مجھ سے پڑھا تک نہیں گیا
فیصل مکالمہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہواؤں کا پھول سے
وہ شور تھا کہ مجھ ۔۔۔۔سے سنا تک نہیں گیا
(فیصل عجمی)
Wednesday, 8 April 2020
تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا ، میری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کہہ سکا نہ تُو سُن سکا ، میری بات بیچ میں رہ گئی ,
تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
نہ میں کہہ سکا نہ تُو سُن سکا ، میری بات بیچ میں رہ گئی ,
میرے دل کو درد سے بھر گیا ، مجھے بے یقین سا کرگیا
تیرا بات بات پہ ٹوکنا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
تیرے شہر میں میرے ھم سفر، وہ دُکھوں کا جمِّ غفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
وہ جو خواب تھے میرے سامنے ، جو سراب تھے میرے سامنے
میں اُنہی میں ایسے اُلجھ گیا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
عجب ایک چُپ سی لگی مجھے ، اسی ایک پَل کے حِصار میں
ھُوا جس گھڑی تیرا سامنا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
کہیں بے کنار تھی خواھشیں ، کہیں بے شمار تھی اُلجھنیں
کہیں آنسوؤں کا ھجوم تھا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
تھا جو شور میری صداؤں کا ، میری نیم شب کی دعاؤں کا
ہُوا مُلتفت جو میرا خدا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
تیری کھڑکیوں پہ جُھکے ھوئے ، کئی پھول تھے ھمیں دیکھتے
تیری چھت پہ چاند ٹھہر گیا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
میری زندگی میں جو لوگ تھے ، میرے آس پاس سے اُٹھ گئے
میں تو رہ گیا اُنہیں روکتا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
ِِتِری بے رخی کے حِصار میں ، غم زندگی کے فشار میں
میرا سارا وقت نکل گیا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
مجھے وھم تھا ترے سامنے ، نہیں کھل سکے گی زباں میری
سو حقیقتاً بھی وھی ھُوا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
امجد اسلام امجد
نہ میں کہہ سکا نہ تُو سُن سکا ، میری بات بیچ میں رہ گئی ,
میرے دل کو درد سے بھر گیا ، مجھے بے یقین سا کرگیا
تیرا بات بات پہ ٹوکنا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
تیرے شہر میں میرے ھم سفر، وہ دُکھوں کا جمِّ غفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
وہ جو خواب تھے میرے سامنے ، جو سراب تھے میرے سامنے
میں اُنہی میں ایسے اُلجھ گیا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
عجب ایک چُپ سی لگی مجھے ، اسی ایک پَل کے حِصار میں
ھُوا جس گھڑی تیرا سامنا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
کہیں بے کنار تھی خواھشیں ، کہیں بے شمار تھی اُلجھنیں
کہیں آنسوؤں کا ھجوم تھا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
تھا جو شور میری صداؤں کا ، میری نیم شب کی دعاؤں کا
ہُوا مُلتفت جو میرا خدا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
تیری کھڑکیوں پہ جُھکے ھوئے ، کئی پھول تھے ھمیں دیکھتے
تیری چھت پہ چاند ٹھہر گیا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
میری زندگی میں جو لوگ تھے ، میرے آس پاس سے اُٹھ گئے
میں تو رہ گیا اُنہیں روکتا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
ِِتِری بے رخی کے حِصار میں ، غم زندگی کے فشار میں
میرا سارا وقت نکل گیا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
مجھے وھم تھا ترے سامنے ، نہیں کھل سکے گی زباں میری
سو حقیقتاً بھی وھی ھُوا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
امجد اسلام امجد
بہت بے شرم ہے یہ ماں جو مزدوری کو نکلی ہے یہ بچہ بھوک اک دن کی نہیں سہتا، یہ کافر ہے
جو ہم کہتے ہیں یہ بھی کیوں نہیں کہتا، یہ کافر ہے
ہمارا جبر یہ ہنس کر نہیں سہتا، یہ کافر ہے
یہ انساں کو مذاہب سے پرکھنے کا مخالف ہے
یہ نفرت کے قبیلوں میں نہیں رہتا، یہ کافرہے
بہت بے شرم ہے یہ ماں جو مزدوری کو نکلی ہے
یہ بچہ بھوک اک دن کی نہیں سہتا، یہ کافر ہے
یہ بادل ایک رستے پر نہیں چلتے یہ باغی ہیں
یہ دریا اس طرف کو کیوں نہیں بہتا، یہ کافر ہے
ہیں مشرک یہ ہوائیں روز یہ قبلہ بدلتی ہیں
گھنا جنگل انہیں کچھ بھی نہیں کہتا، یہ کافر ہے
یہ تتلی فاحشہ ہے پھول کے بستر پہ سوتی ہے
یہ جگنو شب کے پردے میں نہیں رہتا، یہ کافرہے
شریعاً تو کسی کا گنگنانا بھی نہیں جائز
یہ بھنورا کیوں بھلا پھر چپ نہیں رہتا ،یہ کافر ہے
ہمارا جبر یہ ہنس کر نہیں سہتا، یہ کافر ہے
یہ انساں کو مذاہب سے پرکھنے کا مخالف ہے
یہ نفرت کے قبیلوں میں نہیں رہتا، یہ کافرہے
بہت بے شرم ہے یہ ماں جو مزدوری کو نکلی ہے
یہ بچہ بھوک اک دن کی نہیں سہتا، یہ کافر ہے
یہ بادل ایک رستے پر نہیں چلتے یہ باغی ہیں
یہ دریا اس طرف کو کیوں نہیں بہتا، یہ کافر ہے
ہیں مشرک یہ ہوائیں روز یہ قبلہ بدلتی ہیں
گھنا جنگل انہیں کچھ بھی نہیں کہتا، یہ کافر ہے
یہ تتلی فاحشہ ہے پھول کے بستر پہ سوتی ہے
یہ جگنو شب کے پردے میں نہیں رہتا، یہ کافرہے
شریعاً تو کسی کا گنگنانا بھی نہیں جائز
یہ بھنورا کیوں بھلا پھر چپ نہیں رہتا ،یہ کافر ہے
Tuesday, 7 April 2020
دیوارِ خستگی ہوں ٫ مجھے ہاتھ مت لگا میں گِر پڑوں گا ٫ دیکھ مجھے آسرا نہ دے
اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے
اے دل ٫ طلسمِ گنبدِ شب میں صدا نہ دے
دیوارِ خستگی ہوں ٫ مجھے ہاتھ مت لگا
میں گِر پڑوں گا ٫ دیکھ مجھے آسرا نہ دے
گُل کر نہ دے چراغِ وفا ٫ ہجر کی ہوا
طولِ شبِ الم مجھے پتھر بنا نہ دے
ہم سب اسیرِ دشتِ ہویدا ہیں دوستو
ہم میں کوئی کسی کو کسی کا پتا نہ دے
سب محوِ نقشِ پردہؑ رنگیں تو ہیں ٫مگر
کوئی ستم ظریف یہ پردہ ہٹا نہ دے
اک زندگی گزیدہ سے یہ دشمنی نہ کر
اے دوست ٫ مجھ کو عمرِ ابد کی دعا نہ دے
ڈرتا ہوں ٫ آئینہ ہوں٫کہیں ٹوٹ ہی نہ جاؤں
اک لَو سی ہوں چراغ کی٫ کوئی بجھا نہ دے
ہاں ٫ مجھ پہ فیضِ میرؔ و فراقؔ و ندیمؔ ہے
لیکن تو ہم سخن مجھے اتنی ہوا نہ دے
اے دل ٫ طلسمِ گنبدِ شب میں صدا نہ دے
دیوارِ خستگی ہوں ٫ مجھے ہاتھ مت لگا
میں گِر پڑوں گا ٫ دیکھ مجھے آسرا نہ دے
گُل کر نہ دے چراغِ وفا ٫ ہجر کی ہوا
طولِ شبِ الم مجھے پتھر بنا نہ دے
ہم سب اسیرِ دشتِ ہویدا ہیں دوستو
ہم میں کوئی کسی کو کسی کا پتا نہ دے
سب محوِ نقشِ پردہؑ رنگیں تو ہیں ٫مگر
کوئی ستم ظریف یہ پردہ ہٹا نہ دے
اک زندگی گزیدہ سے یہ دشمنی نہ کر
اے دوست ٫ مجھ کو عمرِ ابد کی دعا نہ دے
ڈرتا ہوں ٫ آئینہ ہوں٫کہیں ٹوٹ ہی نہ جاؤں
اک لَو سی ہوں چراغ کی٫ کوئی بجھا نہ دے
ہاں ٫ مجھ پہ فیضِ میرؔ و فراقؔ و ندیمؔ ہے
لیکن تو ہم سخن مجھے اتنی ہوا نہ دے
آوارگی یہ سر پہ میرے یوں سوار ہے اکثر تو تیرے در سے بھی آگے نِکل گیا
اک جسم بحر و بر سے بھی آگے نِکل گیا
یعنی حدِ سفر سے بھی آگے نِکل گیا
شہبازِ عقل ، سدرہ تلک ہی نہیں رہا
توفیقِ بال و پَر سے بھی آگے نِکل گیا
آوارگی یہ سر پہ میرے یوں سوار ہے
اکثر تو تیرے در سے بھی آگے نِکل گیا
کر کے وضو میں ہاتھ لگاؤں شراب کو
تفریقِ خیر و شر سے بھی آگے نِکل گیا
رونے سے میرے یوں تو کئی بار ہے ہوا
بادل بغیر برسے بھی آگے نِکل گیا
آتا نہیں غُبارِ روشؔ بھی نظر کہیں
شاید وہ رہگُزر سے بھی آگے نِکل گیا
علی روشؔ
سانس رُکتی ہے وہیں وقت بھی رُک جاتا ہے، بات کرتے ہُوئے تُو جان __ جہاں رُکتا ہے،
ہونٹ دُکھتے ہیں بیاں ہوتے بیاں رُکتا ہے،
شاعری درد ہے اور درد کہاں رُکتا ہے،
سانس رُکتی ہے وہیں وقت بھی رُک جاتا ہے،
بات کرتے ہُوئے تُو جان __ جہاں رُکتا ہے،
تِل تری گال کا ہے سُرخ اشارے جیسا،
دل کہیں پر نہیں رُکتا جو __ یہاں رُکتا ہے،
وقت رُکتا نہیں یہ بات خُدا سے کہہ دی،
اُس نے روکا ہے تو کہتے ہیں کہ __ ہاں رُکتا ہے،
آگ جلتی ہے تو رفتار پکڑ لیتا ہے،
دل سلگھتا ہے تو رُک رُک کے دھواں رُکتا ہے،
وقت نے وقت ہمارے کو کہیں پھینکا ہے،
ہم کھڑے دیکھ رہے ہیں کہ کہاں رُکتا ہے،
بارہا جھیل رہا ہوں رُکے لمحے عالیؔ،
میں نے سوچا ہی نہیں تھا کے زماں رُکتا ہے،
علی پیر عالیؔ
شاعری درد ہے اور درد کہاں رُکتا ہے،
سانس رُکتی ہے وہیں وقت بھی رُک جاتا ہے،
بات کرتے ہُوئے تُو جان __ جہاں رُکتا ہے،
تِل تری گال کا ہے سُرخ اشارے جیسا،
دل کہیں پر نہیں رُکتا جو __ یہاں رُکتا ہے،
وقت رُکتا نہیں یہ بات خُدا سے کہہ دی،
اُس نے روکا ہے تو کہتے ہیں کہ __ ہاں رُکتا ہے،
آگ جلتی ہے تو رفتار پکڑ لیتا ہے،
دل سلگھتا ہے تو رُک رُک کے دھواں رُکتا ہے،
وقت نے وقت ہمارے کو کہیں پھینکا ہے،
ہم کھڑے دیکھ رہے ہیں کہ کہاں رُکتا ہے،
بارہا جھیل رہا ہوں رُکے لمحے عالیؔ،
میں نے سوچا ہی نہیں تھا کے زماں رُکتا ہے،
علی پیر عالیؔ
Sunday, 5 April 2020
اب شام ہوگئی ہے تو سورج کو رویئے ہم نے کہا نہ تھا کہ جوانی فریب ہے
پس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے
جو کچھ بھی ہے زمینی زمانی فریب ہے
رنگ اپنے اپنے وقت پر کھُلتے ہیں آنکھ پر
اوّل فریب ہے کوئی ثانی فریب ہے
سوداگرانِ شعلگئِ شر کے دوش پر
مشکیزگاں سے جھانکتا پانی فریب ہے
اب شام ہوگئی ہے تو سورج کو رویئے
ہم نے کہا نہ تھا کہ جوانی فریب ہے
اِس گھومتی زمیں پہ دوبارہ ملیں گے ہم
ہجرت فرار ، نقل مکانی فریب ہے
بارِ دگر سمے سے کسی کا گُزر نہیں
آئندگاں کے حق میں نشانی فریب ہے
علم اک حجاب اور حواس آئنے کا زنگ
نسیان حق ہے ، یاد دہانی فریب ہے
دریا کی اصل تیرتی لاشوں سے پوچھئے
ٹھہراوؑ ایک چال ، روانی فریب ہے
تجسیم کر کہ خواب کی دنیا ہے جاوداں
تسلیم کر کہ عالمِ فانی فریب ہے
شاہد دروغ گوئیِ گلزار پر نہ جا
تتلی سے پوچھ رنگ فشانی فریب ہے
شاہد ذکی
جو کچھ بھی ہے زمینی زمانی فریب ہے
رنگ اپنے اپنے وقت پر کھُلتے ہیں آنکھ پر
اوّل فریب ہے کوئی ثانی فریب ہے
سوداگرانِ شعلگئِ شر کے دوش پر
مشکیزگاں سے جھانکتا پانی فریب ہے
اب شام ہوگئی ہے تو سورج کو رویئے
ہم نے کہا نہ تھا کہ جوانی فریب ہے
اِس گھومتی زمیں پہ دوبارہ ملیں گے ہم
ہجرت فرار ، نقل مکانی فریب ہے
بارِ دگر سمے سے کسی کا گُزر نہیں
آئندگاں کے حق میں نشانی فریب ہے
علم اک حجاب اور حواس آئنے کا زنگ
نسیان حق ہے ، یاد دہانی فریب ہے
دریا کی اصل تیرتی لاشوں سے پوچھئے
ٹھہراوؑ ایک چال ، روانی فریب ہے
تجسیم کر کہ خواب کی دنیا ہے جاوداں
تسلیم کر کہ عالمِ فانی فریب ہے
شاہد دروغ گوئیِ گلزار پر نہ جا
تتلی سے پوچھ رنگ فشانی فریب ہے
شاہد ذکی
حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمار کیا بات ہو گئی جو خدا یا آگیا
مجھ کو شکستِ دل کا مزہ یاد آ گیا
تم کیوں اُداس ہو گئے، کیا یاد آ گیا
کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر
کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا
برسے بغیر ہی جو گھٹا گِھر کے کُھل گئی
اک بیوفا کا عہدِ وفا یاد آگیا
واعظ سلام لے کہ چلا میکدے کو میں
فردوسِ گمشدہ کا پتہ یاد آگیا
مانگیں گے اب دعا کہ اُسے بُھول جائیں
لیکن جو وہ بوقتِ دعا یاد آگیا
حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمار
کیا بات ہو گئی جو خدا یا آگیا
خمارؔ بارہ بنکوی
تم کیوں اُداس ہو گئے، کیا یاد آ گیا
کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر
کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا
برسے بغیر ہی جو گھٹا گِھر کے کُھل گئی
اک بیوفا کا عہدِ وفا یاد آگیا
واعظ سلام لے کہ چلا میکدے کو میں
فردوسِ گمشدہ کا پتہ یاد آگیا
مانگیں گے اب دعا کہ اُسے بُھول جائیں
لیکن جو وہ بوقتِ دعا یاد آگیا
حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمار
کیا بات ہو گئی جو خدا یا آگیا
خمارؔ بارہ بنکوی
Saturday, 4 April 2020
دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں
کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے
کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
پہلے دیتے ہیں دلاسا کہ بہت ہے سب کچھ
اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے
جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا
دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے
واقعی نور لیے پھرتے ہیں سر پہ کوئی
اپنے اطراف جو سایہ نہیں رہنے دیتے
زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملال
کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے
صغیر ملال
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں
کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے
کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
پہلے دیتے ہیں دلاسا کہ بہت ہے سب کچھ
اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے
جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا
دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے
واقعی نور لیے پھرتے ہیں سر پہ کوئی
اپنے اطراف جو سایہ نہیں رہنے دیتے
زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملال
کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے
صغیر ملال
Friday, 3 April 2020
وہ مسکراتا ہے اس واسطے تواتر سے کہ اُس نے میری طرح دن ابھی گزارے نہیں
یہ چند لوگ ہمارے ہیں سب ہمارے نہیں
چمک رہے ہیں جو سارے سبھی ستارے نہیں
نجانے جلتے ہیں کیوں ہم سے یہ جہاں والے
ہمارے پاس تو اشعار ہیں شرارے نہیں
وہ مسکراتا ہے اس واسطے تواتر سے
کہ اُس نے میری طرح دن ابھی گزارے نہیں
کچھ اس لیے بھی ہم ایسوں کو موت کا ڈر ہے
ہمارے سر ہیں کئی قرض جو اتارے نہیں
نصیب کیسے سنواریں گے ہم سے خانہ بدوش
جنہوں نے بال بھی اپنے کبھی سنوارے نہیں
میں شہسوار ہوں اونچی مہیب لہروں کا
بھنور لبھاتے رہیں گے مجھے کنارے نہیں
فرخ عدیل
چمک رہے ہیں جو سارے سبھی ستارے نہیں
نجانے جلتے ہیں کیوں ہم سے یہ جہاں والے
ہمارے پاس تو اشعار ہیں شرارے نہیں
وہ مسکراتا ہے اس واسطے تواتر سے
کہ اُس نے میری طرح دن ابھی گزارے نہیں
کچھ اس لیے بھی ہم ایسوں کو موت کا ڈر ہے
ہمارے سر ہیں کئی قرض جو اتارے نہیں
نصیب کیسے سنواریں گے ہم سے خانہ بدوش
جنہوں نے بال بھی اپنے کبھی سنوارے نہیں
میں شہسوار ہوں اونچی مہیب لہروں کا
بھنور لبھاتے رہیں گے مجھے کنارے نہیں
فرخ عدیل
کیا جانے تو کہ کیسے گزرتی ہے زندگی کیف ملال پوچھ کسی دل ملول سے
واقف نہیں جو لوگ سفر کے اصول سے
سائے کی بھیک مانگ رہے ہیں ببول سے
کیا جانے تو کہ کیسے گزرتی ہے زندگی
کیف ملال پوچھ کسی دل ملول سے
میں آج تک سفر میں ہوں اس اعتماد پر
ابھریں گی منزلیں مرے قدموں کی دھول سے
اب ڈس رہا ہے ان کے گزرنے کا غم مجھے
جو لمحے میں گزار چکا ہوں فضول سے
ساقی امروہی
سائے کی بھیک مانگ رہے ہیں ببول سے
کیا جانے تو کہ کیسے گزرتی ہے زندگی
کیف ملال پوچھ کسی دل ملول سے
میں آج تک سفر میں ہوں اس اعتماد پر
ابھریں گی منزلیں مرے قدموں کی دھول سے
اب ڈس رہا ہے ان کے گزرنے کا غم مجھے
جو لمحے میں گزار چکا ہوں فضول سے
ساقی امروہی
وحشت کے سر پہ اپنی قبا دے رہا ہوں میں احسان مانیئے کہ دعا دے رہا ہوں میں
وحشت کے سر پہ اپنی قبا دے رہا ہوں میں
احسان مانیئے کہ دعا دے رہا ہوں میں
ریڑھی پہ رکھ کے آنکھ کے چشمے سرِ فصیل
شہرِ بِلا بصیر، صدا دے رہا ہوں میں
ضبط شکستگی کے اصولوں کی شکل میں
شیشہ گروں کو اپنی ادا دے رہا ہوں میں
میں دے رہا ہوں دل کے کلیسا میں اذانیں
مُلائیت کو ایک خدا دے رہا ہوں میں
یارانِ قدح خوار گلے سے لگاؤ، - آؤ
جو مجھ کو لگ چکی ہے وبا دے رہا ہوں میں
عیسی کے ہاتھ میں تھا چمکتا ہوا دکھا
موسی کے دائیں ہاتھ عصا دے رہا ہوں میں
میں آفتاب نور سے حدت سمیٹ کر
تیرہ شبی کو جلتا دیا دے رہا ہوں میں
بازیچہء خیال میں،حیرت ہے !کس لیئے ؟
اہل مباہلہ کو کساء دے رہا ہوں میں
میں نے جلائی طُور پہ اک لَوئے آگہی
جُوتے اتارنا یہ ندا دے رہا ہوں میں
طوفان میں میں اپنا سفینہ اتار کر
بجھتے ہوئے شرر کو ہوا دے رہا ہوں میں
میں سامعی رہا ہوں ازل سے نگاہ کا
بینائیوں کو اپنی نوا دے رہا ہوں میں
حیرت ہے اک ملال ہے بست و کشادِ فن
کیا کچھ تھا میرے پاس یہ کیا دے رہا ہوں میں ❤️
ذکی عاطف اور فاطمہ سید
احسان مانیئے کہ دعا دے رہا ہوں میں
ریڑھی پہ رکھ کے آنکھ کے چشمے سرِ فصیل
شہرِ بِلا بصیر، صدا دے رہا ہوں میں
ضبط شکستگی کے اصولوں کی شکل میں
شیشہ گروں کو اپنی ادا دے رہا ہوں میں
میں دے رہا ہوں دل کے کلیسا میں اذانیں
مُلائیت کو ایک خدا دے رہا ہوں میں
یارانِ قدح خوار گلے سے لگاؤ، - آؤ
جو مجھ کو لگ چکی ہے وبا دے رہا ہوں میں
عیسی کے ہاتھ میں تھا چمکتا ہوا دکھا
موسی کے دائیں ہاتھ عصا دے رہا ہوں میں
میں آفتاب نور سے حدت سمیٹ کر
تیرہ شبی کو جلتا دیا دے رہا ہوں میں
بازیچہء خیال میں،حیرت ہے !کس لیئے ؟
اہل مباہلہ کو کساء دے رہا ہوں میں
میں نے جلائی طُور پہ اک لَوئے آگہی
جُوتے اتارنا یہ ندا دے رہا ہوں میں
طوفان میں میں اپنا سفینہ اتار کر
بجھتے ہوئے شرر کو ہوا دے رہا ہوں میں
میں سامعی رہا ہوں ازل سے نگاہ کا
بینائیوں کو اپنی نوا دے رہا ہوں میں
حیرت ہے اک ملال ہے بست و کشادِ فن
کیا کچھ تھا میرے پاس یہ کیا دے رہا ہوں میں ❤️
ذکی عاطف اور فاطمہ سید
Thursday, 2 April 2020
کچھ کھلونے خریدنے تھے مجھے جا فقیرا! تجھے خدا پوچھے
کن اشاروں سے مدعا پوچھے
گونگا کوا گھڑے سے کیا پوچھے..
کچھ کھلونے خریدنے تھے مجھے
جا فقیرا! تجھے خدا پوچھے...
اب میں دیوار ہونے والا ہوں
اب کوئی مجھ سے بے بہا پوچھے۔۔👌
ایک چھتری تو کھل نہیں پائی
کون بارش کی ابتلا پوچھے۔۔
دو برے لوگ پکا یارانہ
آئنہ، آئنے سے کیا پوچھے۔۔۔🔥
فرزاد علی زیرک
گونگا کوا گھڑے سے کیا پوچھے..
کچھ کھلونے خریدنے تھے مجھے
جا فقیرا! تجھے خدا پوچھے...
اب میں دیوار ہونے والا ہوں
اب کوئی مجھ سے بے بہا پوچھے۔۔👌
ایک چھتری تو کھل نہیں پائی
کون بارش کی ابتلا پوچھے۔۔
دو برے لوگ پکا یارانہ
آئنہ، آئنے سے کیا پوچھے۔۔۔🔥
فرزاد علی زیرک
Subscribe to:
Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...