دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اٹھ کر چپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ان کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابشؔ
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں
عباس تابش
Saturday, 29 February 2020
Friday, 28 February 2020
سارے گناہ اب مِرے دامن میں ڈال کر خوش ہو رہا ہے شہر میں پگڑی اُچھال کر
سارے گناہ اب مِرے دامن میں ڈال کر
خوش ہو رہا ہے شہر میں پگڑی اُچھال کر
خوش ہو رہا ہے شہر میں پگڑی اُچھال کر
اُس شہر کے امیر کو مر جانا چاہیئے
بچے سُلائے ماں جہاں پتھر اُبال کر
بچے سُلائے ماں جہاں پتھر اُبال کر
پامال میّتوں پہ تو بنتا ہے مرثیہ
مجھ کو گلے لگا مِرے دُکھ کا ملال کر
مجھ کو گلے لگا مِرے دُکھ کا ملال کر
سچ بولنے پہ کُفر کا فتویٰ لگا میاں
لے آ کتاب سے کوئی آیت نکال کر
لے آ کتاب سے کوئی آیت نکال کر
ٹکڑوں پہ پلنے والے مجھے بھونکنے لگے
اب سوچتا ہوں کیا ملا کُتوں کو پال کر
اب سوچتا ہوں کیا ملا کُتوں کو پال کر
پاؤں جکڑ رہی تھی مِرے اب وہ فاحشہ
دُنیا پہ تھوک آیا ہوں گالی نکال کر
دُنیا پہ تھوک آیا ہوں گالی نکال کر
کاسے میں لے کے پھرتا ہے دُنیا یہ بادشہ
آتا نہیں یقین تو بابا سوال کر
آتا نہیں یقین تو بابا سوال کر
یہ تتلیوں کے روپ میں بھنورے ہیں اِس لئے
رکھنا بدن کی خوشبو کو گڑیا سنبھال کر
رکھنا بدن کی خوشبو کو گڑیا سنبھال کر
میثم علی آغا
Wednesday, 26 February 2020
اس سے آگے ہے گھٹن وحشت ہے کافی دوستا اس سے آگے دوستا اب ساتھ میرے تو نا آ
اس سے آگے ہے گھٹن وحشت ہے کافی دوستا
اس سے آگے دوستا اب ساتھ میرے تو نا آ
اس سے آگے دوستا اب ساتھ میرے تو نا آ
میں سراسر عشق ہوں ہارنے والا نہیں
انجام سب ہوں جانتا مجھ کو قِصے نا سنا
انجام سب ہوں جانتا مجھ کو قِصے نا سنا
تم بہت مجبور تھے حالات نا تھے سازگار
یہ کہانی میرے پیارے مجھ کو پھر سے نا سنا
یہ کہانی میرے پیارے مجھ کو پھر سے نا سنا
اس پہ دھر تہمت کوئی اور اپنے دامن کو بچا
یہ سبق ہے بزدلی کا مجھ کو ایسا نا پڑھا
یہ سبق ہے بزدلی کا مجھ کو ایسا نا پڑھا
داستانِ غم کو سن ہمدردیاں پر پاس رکھ
آنسووں کو لگام دے ان کی قیمت نا گھٹا
آنسووں کو لگام دے ان کی قیمت نا گھٹا
محمد واصف اسلم
Tuesday, 25 February 2020
دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر
دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر
دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر
میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن
احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر
آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر
کبھی اس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے
اب تو انعام دیا جاتا ہے غدّاری پر
تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں
اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر
مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے
آئینہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر
کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو
کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر
بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو
لوگ اتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر
سلیم کوثر
دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر
میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن
احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر
آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر
کبھی اس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے
اب تو انعام دیا جاتا ہے غدّاری پر
تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں
اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر
مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے
آئینہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر
کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو
کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر
بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو
لوگ اتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر
سلیم کوثر
Monday, 24 February 2020
میں سوچ ہی رہا تھا پری ایسی ہوتی ہے پھر اک حسین لڑکی میرے پاس آ گئی
جب سے مرے قریب سے وہ ذات کیا گئی
مجھ کو اکیلا پن یہ اداسی بھی کھا گئی
میں سوچ ہی رہا تھا پری ایسی ہوتی ہے
پھر اک حسین لڑکی میرے پاس آ گئی
سب کھیل جانتا ہوں میں اندھا نہیں حضور
یہ زندگی بھی مجھ کو بہت کچھ دکھا گئی
منظر بہت عجیب تھا دلچسپ تھا مگر
اک چڑیا ایک پیڑ کو باتیں سنا گئی
مجھ کو کوئی بیماری نہیں ہے مرے عزیز
شاید کسی کی بات سرہانے لگا گئی
مجھ کو اکیلا پن یہ اداسی بھی کھا گئی
میں سوچ ہی رہا تھا پری ایسی ہوتی ہے
پھر اک حسین لڑکی میرے پاس آ گئی
سب کھیل جانتا ہوں میں اندھا نہیں حضور
یہ زندگی بھی مجھ کو بہت کچھ دکھا گئی
منظر بہت عجیب تھا دلچسپ تھا مگر
اک چڑیا ایک پیڑ کو باتیں سنا گئی
مجھ کو کوئی بیماری نہیں ہے مرے عزیز
شاید کسی کی بات سرہانے لگا گئی
Thursday, 20 February 2020
میں روؤں تو در و دیوار مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے
مرے وہم و گماں سے بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے
یہ دل اپنی حدوں میں رہ کے اتنا ٹوٹ جاتا ہے
یہ دل اپنی حدوں میں رہ کے اتنا ٹوٹ جاتا ہے
میں روؤں تو در و دیوار مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں
ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے
ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے
میں جس لمحے کی خواہش میں سفر کرتا ہوں صدیوں کا
کہیں پاؤں تلے آ کر وہ لمحہ ٹوٹ جاتا ہے
کہیں پاؤں تلے آ کر وہ لمحہ ٹوٹ جاتا ہے
مرے خوابوں کی بستی سے جنازے اٹھتے جاتے ہیں
مری آنکھیں جسے چھو لیں وہ سپنا ٹوٹ جاتا ہے
مری آنکھیں جسے چھو لیں وہ سپنا ٹوٹ جاتا ہے
نہ جانے کتنی مدت سے ہے دل میں یہ عمل جاری
ذرا سی ٹھیس لگتی ہے ذرا سا ٹوٹ جاتا ہے
ذرا سی ٹھیس لگتی ہے ذرا سا ٹوٹ جاتا ہے
دل ناداں ہماری تو نمو ہی نا مکمل تھی
تو حیرت کیا جو بنتے ہی ارادہ ٹوٹ جاتا ہے
تو حیرت کیا جو بنتے ہی ارادہ ٹوٹ جاتا ہے
مقدر میں مرے ساگر شکست و ریخت اتنی ہے
میں جس کو اپنا کہہ دوں وہ ستارا ٹوٹ جاتا ہے
میں جس کو اپنا کہہ دوں وہ ستارا ٹوٹ جاتا ہے
سلیم ساگر
Tuesday, 18 February 2020
تیرے منسوب گداگر نے یہیں رہنا ہے پھٹ بھی جائے تو،،،، ،،گریبان کہاں جاتا ہے
راستے ہیں بڑے سنسان کہاں جاتا ہے
رات گہری ہے مری مان کہاں جاتا ہے
ریل کے شور مچاتے ہوئے انجن کے طفیل
رونے والوں کی طرف دھیان کہاں جاتا ہے
تیرے منسوب گداگر نے یہیں رہنا ہے
پھٹ بھی جائے تو،،،، ،،گریبان کہاں جاتا ہے
آخرِ عمر بھی اس وصل کی خواہش پہ نثار
جان جاتی ہے پہ ارمان کہاں جاتا ہے
کون خاموش طبیعت سا نکل آتا ہے
تجھ سے مل کر مرا ہیجان،،،،،کہاں جاتا ہے
اس سرائے سے نکل جانے کے رستے کم ہیں
دل میں ٹھہرا ہوا مہمان کہاں جاتا ہے
بعد مرنے کے کہاں جاتی ہیں روحیں آزاد
کاش معلوم ہو انسان کہاں جاتا ہے
آزاد حسین آزاد
Monday, 17 February 2020
تو سنگ دل سہی قاتل سہی شفیق سہی قسم خدا کی کوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا
بتوں کے بعد خدا کا بھی کچھ پتا نہ ملا
ملا رہے تھے مگر ٹھیک سلسلہ نہ ملا
وہ کہہ رہے تھے کہ تشریح مدعا کیجے
تلاش کی توہمیں کوئی مدعا نہ ملا
جناب شیخ یہ کیا ماجرا ہوا آخر
سنا ہے آپکو کعبے میں بھی خدا نہ ملا
گماں یہ تھا کہ تھجے ڈھونڈ ہی کے دم لیں گے
حال یہ ہے کہ اپنا بھی کچھ پتا نہ ملا
تو سنگ دل سہی قاتل سہی شفیق سہی
قسم خدا کی کوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا
وہ راہ دیر و حرم کہ راہ مے خانہ
بغیر صدق کسی کو وہ دل ربا نہ ملا
قسم خدا کی عدم جام زہر پی لیں گے
بہ اتفاق اگر آج دل ربا نہ ملا___!!
ملا رہے تھے مگر ٹھیک سلسلہ نہ ملا
وہ کہہ رہے تھے کہ تشریح مدعا کیجے
تلاش کی توہمیں کوئی مدعا نہ ملا
جناب شیخ یہ کیا ماجرا ہوا آخر
سنا ہے آپکو کعبے میں بھی خدا نہ ملا
گماں یہ تھا کہ تھجے ڈھونڈ ہی کے دم لیں گے
حال یہ ہے کہ اپنا بھی کچھ پتا نہ ملا
تو سنگ دل سہی قاتل سہی شفیق سہی
قسم خدا کی کوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا
وہ راہ دیر و حرم کہ راہ مے خانہ
بغیر صدق کسی کو وہ دل ربا نہ ملا
قسم خدا کی عدم جام زہر پی لیں گے
بہ اتفاق اگر آج دل ربا نہ ملا___!!
Sunday, 16 February 2020
تم جو چڑھتے ہو نظر پر تو تمہارے ہوتے سب حسینانِ جہاں دل سے اُتر جاتے ہیں
موےٓ مژگاں سے ترے سینکڑوں مر جاتے ہیں
یہی نشتر تو رگ جاں میں اتر جاتے ہیں
حرم و دیر ہیں عشاق کے مشتاق مگر
تیرے کوچے سے ادھر یہ نہ اُدھر جاتے ہیں
کوچہٓ یار میں اول تو گزر مشکل ہے
جو گزرتے ہیں زمانے سے گزر جاتے ہیں
شمع ساں جلتے ہیں جو بزم محبت میں ترے
نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں
اثر آب بقا خاک رہ عشق میں ہے
وہی زندہ ہیں یہاں آ کے جو مر جاتے ہیں
تم جو چڑھتے ہو نظر پر تو تمہارے ہوتے
سب حسینانِ جہاں دل سے اُتر جاتے ہیں
زاہدو تم کو جناں ہم کو در یار پسند
خیر جاوٓ تم اُدھر کو ہم ادھر جاتے ہیں
زندے کیا اہل عدم کو بھی پھنسا لاتے ہیں
زلف کے بال اگر تابہ کمر جاتے ہیں
کیا اثر نام علیؑ میں ہے کہ لیتے ہی امیرؔ
کام بگڑے ہوئے جتنے ہیں سنور جاتے ہیں
امیر مینائی
یہی نشتر تو رگ جاں میں اتر جاتے ہیں
حرم و دیر ہیں عشاق کے مشتاق مگر
تیرے کوچے سے ادھر یہ نہ اُدھر جاتے ہیں
کوچہٓ یار میں اول تو گزر مشکل ہے
جو گزرتے ہیں زمانے سے گزر جاتے ہیں
شمع ساں جلتے ہیں جو بزم محبت میں ترے
نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں
اثر آب بقا خاک رہ عشق میں ہے
وہی زندہ ہیں یہاں آ کے جو مر جاتے ہیں
تم جو چڑھتے ہو نظر پر تو تمہارے ہوتے
سب حسینانِ جہاں دل سے اُتر جاتے ہیں
زاہدو تم کو جناں ہم کو در یار پسند
خیر جاوٓ تم اُدھر کو ہم ادھر جاتے ہیں
زندے کیا اہل عدم کو بھی پھنسا لاتے ہیں
زلف کے بال اگر تابہ کمر جاتے ہیں
کیا اثر نام علیؑ میں ہے کہ لیتے ہی امیرؔ
کام بگڑے ہوئے جتنے ہیں سنور جاتے ہیں
امیر مینائی
Saturday, 15 February 2020
ہجر بھی لے ہی لیا، دشت کے آزار کے ساتھ بحث کیا کرتا میں البیلے دکاں دار کے ساتھ
ہجر بھی لے ہی لیا، دشت کے آزار کے ساتھ
بحث کیا کرتا میں البیلے دکاں دار کے ساتھ
کون کمرے میں کِھلا باغ اٹھا لایا ہے
کس نے تصویر لگائی ہے یہ دیوار کے ساتھ
آخری عمر میں کیا عشق سے ریٹائر ہوں
درد کوئی تو رہے صبح کے اخبار کے ساتھ
وقت سے بھاپ کےانجن کا تقابل کیسا
میں قدم کیسے ملاؤں تری رفتار کے ساتھ
رعب ایسا تھا کہ دشمن بھی مقابل نہ ہوئے
سانپ بل کھاتے رہے خوف سے، دستار کے ساتھ
ہم سگِ کوچہ۶ِ دلدار کہیں جاتے نہیں
بیٹھے رہتے ہیں ادب سے تری دیوار کے ساتھ
آزاد حسین آزاد
بحث کیا کرتا میں البیلے دکاں دار کے ساتھ
کون کمرے میں کِھلا باغ اٹھا لایا ہے
کس نے تصویر لگائی ہے یہ دیوار کے ساتھ
آخری عمر میں کیا عشق سے ریٹائر ہوں
درد کوئی تو رہے صبح کے اخبار کے ساتھ
وقت سے بھاپ کےانجن کا تقابل کیسا
میں قدم کیسے ملاؤں تری رفتار کے ساتھ
رعب ایسا تھا کہ دشمن بھی مقابل نہ ہوئے
سانپ بل کھاتے رہے خوف سے، دستار کے ساتھ
ہم سگِ کوچہ۶ِ دلدار کہیں جاتے نہیں
بیٹھے رہتے ہیں ادب سے تری دیوار کے ساتھ
آزاد حسین آزاد
Friday, 14 February 2020
لوگ تو لوگ تھے توقیر مری کیا کرتے میرا سایہ بھی یہاں مجھ سے گریزاں نکلا
جب شکستہ مرے دل سے بھی گریباں نکلا
میں غم عشق تھا سمجھا غم دوراں نکلا
لوگ تو لوگ تھے توقیر مری کیا کرتے
میرا سایہ بھی یہاں مجھ سے گریزاں نکلا
میں نے جس شخص کو ہر حال میں خوش دیکھا تھا
وہ تمنا کے سرابوں کا بیاباں نکلا
پھر ترے سچ میں بھی اخلاص بھلا کیا ہو گا
تری ہر بات میں جب جھوٹ مری جاں نکلا
آپ اپنی حقیقت پہ ندامت ہے مجھے
خود غرض اتنا مرے دور کا انساں نکلا
کلیم احسان بٹ
میں غم عشق تھا سمجھا غم دوراں نکلا
لوگ تو لوگ تھے توقیر مری کیا کرتے
میرا سایہ بھی یہاں مجھ سے گریزاں نکلا
میں نے جس شخص کو ہر حال میں خوش دیکھا تھا
وہ تمنا کے سرابوں کا بیاباں نکلا
پھر ترے سچ میں بھی اخلاص بھلا کیا ہو گا
تری ہر بات میں جب جھوٹ مری جاں نکلا
آپ اپنی حقیقت پہ ندامت ہے مجھے
خود غرض اتنا مرے دور کا انساں نکلا
کلیم احسان بٹ
Tuesday, 11 February 2020
آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے
بے سہارا ہوں سہارا بھی کہاں ملتا ہے
ڈوبتا ہوں تو کنارہ بھی کہاں ملتا ہے
ڈوبتا ہوں تو کنارہ بھی کہاں ملتا ہے
آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر
اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے
اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے
یاد ہے تم کو رہا کرتے تھے ہم ساتھ کبھی
وہ حسیں دن وہ نظارہ بھی کہاں ملتا ہے
وہ حسیں دن وہ نظارہ بھی کہاں ملتا ہے
لوگ اب مجھ کو ستاتے ہیں کوئی بات نہیں
اب وہی قرب تمارا بھی کہاں ملتا ہے
اب وہی قرب تمارا بھی کہاں ملتا ہے
دوست دیتے تھے کبھی ہم کو سہارا ثاقب
ہائے وہ آج سہارا بھی کہاں ملتا ہے
ہائے وہ آج سہارا بھی کہاں ملتا ہے
نادر ثاقب
Monday, 10 February 2020
میں پھول بھیجوں گا جس جگہ سے ملی محبت علی کا نعرہ لگاؤں گا جو تڑی ملے گی
یہ قید خانہ ملے گا یا ہتھکڑی ملے گی
جو جتنا بولا اسے سزا بھی بڑی ملے گی
میں اژدھوں سے لڑوں گا پوری بہادری سے
خدائے موسیٰ مجھے بھی ویسی چھڑی ملے گی؟
اُسے ہرا کر بھی تم کبھی نہ ہرا سکو گے
مقابلے میں کبھی جو عورت کھڑی ملے گی
میں پھول بھیجوں گا جس جگہ سے ملی محبت
علی کا نعرہ لگاؤں گا جو تڑی ملے گی
یہاں کے لوگوں نے خواب دیکھے ہیں جاگتے میں
جسے بھی دیکھو وہ آنکھ تم کو گڑی ملے گی
وہ مجھ سے ہو کر خدا کے رستے پہ جا رہا تھا
اسے پتہ تھا کڑی سے کیسے کڑی ملے گی
ازل سے جس میں فقط برا وقت چل رہا ہے
مری کلائی میں تم کو ایسی گھڑی ملے گی
گلاب کیسے لگیں گے خوشبو کہاں سے آئے
ہمارے گملوں میں صرف مٹی پڑی ملے گی
مجھے تو چھوڑو تم آ کے باغوں کا حال دیکھو
بِنا تمہارے ہر ایک ٹہنی جھڑی ملے گی
میں اپنے پیاروں میں آج ایسے سکون میں ہوں
پتنگ بیری میں جس طرح سے اَڑی ملے گی
ندیم راجہ
جو جتنا بولا اسے سزا بھی بڑی ملے گی
میں اژدھوں سے لڑوں گا پوری بہادری سے
خدائے موسیٰ مجھے بھی ویسی چھڑی ملے گی؟
اُسے ہرا کر بھی تم کبھی نہ ہرا سکو گے
مقابلے میں کبھی جو عورت کھڑی ملے گی
میں پھول بھیجوں گا جس جگہ سے ملی محبت
علی کا نعرہ لگاؤں گا جو تڑی ملے گی
یہاں کے لوگوں نے خواب دیکھے ہیں جاگتے میں
جسے بھی دیکھو وہ آنکھ تم کو گڑی ملے گی
وہ مجھ سے ہو کر خدا کے رستے پہ جا رہا تھا
اسے پتہ تھا کڑی سے کیسے کڑی ملے گی
ازل سے جس میں فقط برا وقت چل رہا ہے
مری کلائی میں تم کو ایسی گھڑی ملے گی
گلاب کیسے لگیں گے خوشبو کہاں سے آئے
ہمارے گملوں میں صرف مٹی پڑی ملے گی
مجھے تو چھوڑو تم آ کے باغوں کا حال دیکھو
بِنا تمہارے ہر ایک ٹہنی جھڑی ملے گی
میں اپنے پیاروں میں آج ایسے سکون میں ہوں
پتنگ بیری میں جس طرح سے اَڑی ملے گی
ندیم راجہ
Thursday, 6 February 2020
تو سنا تیری مسافت کی کہانی کیا ہے میرے رستے میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں
یہ جو چہروں پہ لئے گرد الم آتے ہیں
یہ تمہارے ہی پشیمان کرم آتے ہیں
اتنا کھل کر بھی نہ رو جسم کی بستی کو بچا
بارشیں کم ہوں تو سیلاب بھی کم آتے ہیں
تو سنا تیری مسافت کی کہانی کیا ہے
میرے رستے میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں
خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
وہ تو بیدلؔ کوئی سوکھا ہوا پتا ہوگا
تیرے آنگن میں کہاں ان کے قدم آتے ہیں
یہ تمہارے ہی پشیمان کرم آتے ہیں
اتنا کھل کر بھی نہ رو جسم کی بستی کو بچا
بارشیں کم ہوں تو سیلاب بھی کم آتے ہیں
تو سنا تیری مسافت کی کہانی کیا ہے
میرے رستے میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں
خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
وہ تو بیدلؔ کوئی سوکھا ہوا پتا ہوگا
تیرے آنگن میں کہاں ان کے قدم آتے ہیں
Wednesday, 5 February 2020
وہ، جن کو مانگنا بھی پڑے ، اور لوگ ہیں ہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس
بندوق تانتے ہیں، ہدف دیکھتے ہیں، بس!
اپنا ہے بے ضرر سا شغف، دیکھتے ہیں بس!
وہ، جن کو مانگنا بھی پڑے ، اور لوگ ہیں
ہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس
تو دیکھ بس خلا میں معلق یہ کائنات
اس سے پرے تو اہلِ شرف دیکھتے ہیں بس
اپنی جگہ پتہ ہے سو مسجد میں جا کے ہم
جوتوں کے آس پاس کی صف دیکھتے ہیں بس
مجھ کو بہ غور دیکھ کے کہنے لگا فقیر
ایسے مریض، شاہِ نجف دیکھتے ہیں بس
گھڑیاں تو بیچ دی تھیں، برے وقت میں، تمام
اب عادتاً قمیص کے کف دیکھتے ہیں بس
سنتے ہیں خواب میں، "طلع البدر" کی صدا
اور چند پاک ہاتھوں میں دف دیکھتے ہیں بس
جب کوئی پوچھے، "خود کو کہاں دیکھتے ہیں کل؟"
ہم اپنی خاک، خاک سے لف دیکھتے ہیں بس
عمیر نجمی
اپنا ہے بے ضرر سا شغف، دیکھتے ہیں بس!
وہ، جن کو مانگنا بھی پڑے ، اور لوگ ہیں
ہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس
تو دیکھ بس خلا میں معلق یہ کائنات
اس سے پرے تو اہلِ شرف دیکھتے ہیں بس
اپنی جگہ پتہ ہے سو مسجد میں جا کے ہم
جوتوں کے آس پاس کی صف دیکھتے ہیں بس
مجھ کو بہ غور دیکھ کے کہنے لگا فقیر
ایسے مریض، شاہِ نجف دیکھتے ہیں بس
گھڑیاں تو بیچ دی تھیں، برے وقت میں، تمام
اب عادتاً قمیص کے کف دیکھتے ہیں بس
سنتے ہیں خواب میں، "طلع البدر" کی صدا
اور چند پاک ہاتھوں میں دف دیکھتے ہیں بس
جب کوئی پوچھے، "خود کو کہاں دیکھتے ہیں کل؟"
ہم اپنی خاک، خاک سے لف دیکھتے ہیں بس
عمیر نجمی
Monday, 3 February 2020
چھوڑو طبیب یار اسے لاو ڈھونڈ کے ہوتا ہے کیسے ٹھیک یہ بیمار دیکھنا
وہ چاہتا تو ہے مجھے مسمار دیکھنا
ممکن نہیں مگر پس دیوار دیکھنا
اب اس کے انتظار میں رک ہی گئی گھڑی
وہ آئے گا تو وقت کی رفتار دیکھنا
کانٹوں کا احتساب تو کرنے ہو چل پڑے
کچھ پھولوں کا بھی دوستو کردار دیکھنا
جانے لگے ہو چھوڑ کے تو جاو خیر سے
واپس نہ مڑ کے پھر کبھی سرکار دیکھنا
چھوڑو طبیب یار اسے لاو ڈھونڈ کے
ہوتا ہے کیسے ٹھیک یہ بیمار دیکھنا
چپ دوستی کے نام پہ شہزاد ہوں کھڑا
دشمن جو آئے سامنے للکار دیکھنا
شہزاد جاوید
ممکن نہیں مگر پس دیوار دیکھنا
اب اس کے انتظار میں رک ہی گئی گھڑی
وہ آئے گا تو وقت کی رفتار دیکھنا
کانٹوں کا احتساب تو کرنے ہو چل پڑے
کچھ پھولوں کا بھی دوستو کردار دیکھنا
جانے لگے ہو چھوڑ کے تو جاو خیر سے
واپس نہ مڑ کے پھر کبھی سرکار دیکھنا
چھوڑو طبیب یار اسے لاو ڈھونڈ کے
ہوتا ہے کیسے ٹھیک یہ بیمار دیکھنا
چپ دوستی کے نام پہ شہزاد ہوں کھڑا
دشمن جو آئے سامنے للکار دیکھنا
شہزاد جاوید
Subscribe to:
Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...