Saturday, 29 February 2020

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اٹھ کر چپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ان کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابشؔ
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

عباس تابش

Friday, 28 February 2020

سارے گناہ اب مِرے دامن میں ڈال کر خوش ہو رہا ہے شہر میں پگڑی اُچھال کر


سارے گناہ  اب  مِرے  دامن  میں  ڈال کر
خوش ہو رہا ہے شہر میں پگڑی اُچھال کر
اُس شہر  کے  امیر  کو  مر  جانا  چاہیئے
بچے  سُلائے  ماں  جہاں  پتھر   اُبال   کر 
پامال  میّتوں  پہ  تو  بنتا  ہے  مرثیہ
مجھ  کو گلے لگا مِرے دُکھ  کا  ملال کر
سچ   بولنے  پہ  کُفر  کا  فتویٰ  لگا  میاں
لے   آ   کتاب  سے  کوئی  آیت  نکال  کر
ٹکڑوں پہ پلنے والے مجھے  بھونکنے  لگے
اب سوچتا ہوں کیا ملا کُتوں کو پال کر
پاؤں جکڑ  رہی  تھی مِرے  اب  وہ فاحشہ
دُنیا   پہ   تھوک   آیا  ہوں  گالی  نکال  کر 
کاسے میں لے کے پھرتا ہے دُنیا یہ بادشہ
آتا  نہیں  یقین  تو  بابا  سوال  کر
یہ تتلیوں کے روپ میں بھنورے ہیں اِس لئے
رکھنا بدن کی خوشبو کو گڑیا سنبھال کر
میثم علی آغا

Wednesday, 26 February 2020

اس سے آگے ہے گھٹن وحشت ہے کافی دوستا اس سے آگے دوستا اب ساتھ میرے تو نا آ


اس سے آگے ہے گھٹن وحشت ہے کافی دوستا
اس سے آگے دوستا اب ساتھ میرے تو نا آ
میں سراسر عشق ہوں ہارنے والا نہیں
انجام سب ہوں جانتا مجھ کو قِصے نا سنا
تم بہت مجبور تھے حالات نا تھے سازگار
یہ کہانی میرے پیارے مجھ کو پھر سے نا سنا
اس پہ دھر تہمت کوئی اور اپنے دامن کو بچا
یہ سبق ہے بزدلی کا مجھ کو ایسا نا پڑھا
داستانِ غم کو سن ہمدردیاں پر پاس رکھ
آنسووں کو لگام دے ان کی قیمت نا گھٹا
محمد واصف اسلم

Tuesday, 25 February 2020

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر​ دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر​

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر​
دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر​

میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن​
احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر​

آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے​
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر​

کبھی اس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے​
اب تو انعام دیا جاتا ہے غدّاری پر​

تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں​
اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر​

مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے​
آئینہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر

کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو​
کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر​

بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو​
لوگ اتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر​

سلیم کوثر

Monday, 24 February 2020

میں سوچ ہی رہا تھا پری ایسی ہوتی ہے پھر اک حسین لڑکی میرے پاس آ گئی

جب سے مرے قریب سے وہ ذات کیا گئی
مجھ کو اکیلا پن یہ اداسی بھی کھا گئی

میں سوچ ہی رہا تھا پری ایسی ہوتی ہے
پھر اک حسین لڑکی میرے پاس آ گئی

سب کھیل جانتا ہوں میں اندھا نہیں حضور
یہ زندگی بھی مجھ کو بہت کچھ دکھا گئی

منظر بہت عجیب تھا دلچسپ تھا مگر
اک چڑیا ایک پیڑ کو باتیں سنا گئی

مجھ کو کوئی بیماری نہیں ہے مرے عزیز
شاید  کسی کی بات سرہانے  لگا گئی

Thursday, 20 February 2020

میں روؤں تو در و دیوار مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے


مرے وہم و گماں سے بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے
یہ دل اپنی حدوں میں رہ کے اتنا ٹوٹ جاتا ہے
میں روؤں تو در و دیوار مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں
ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے
میں جس لمحے کی خواہش میں سفر کرتا ہوں صدیوں کا
کہیں پاؤں تلے آ کر وہ لمحہ ٹوٹ جاتا ہے
مرے خوابوں کی بستی سے جنازے اٹھتے جاتے ہیں
مری آنکھیں جسے چھو لیں وہ سپنا ٹوٹ جاتا ہے
نہ جانے کتنی مدت سے ہے دل میں یہ عمل جاری
ذرا سی ٹھیس لگتی ہے ذرا سا ٹوٹ جاتا ہے
دل ناداں ہماری تو نمو ہی نا مکمل تھی
تو حیرت کیا جو بنتے ہی ارادہ ٹوٹ جاتا ہے
مقدر میں مرے ساگر شکست و ریخت اتنی ہے
میں جس کو اپنا کہہ دوں وہ ستارا ٹوٹ جاتا ہے
سلیم ساگر

Tuesday, 18 February 2020

تیرے منسوب گداگر نے یہیں رہنا ہے پھٹ بھی جائے تو،،،، ،،گریبان کہاں جاتا ہے


راستے ہیں بڑے سنسان کہاں جاتا ہے
رات گہری ہے مری مان کہاں جاتا ہے

ریل کے شور مچاتے ہوئے انجن کے طفیل
رونے والوں کی طرف دھیان کہاں جاتا ہے

تیرے منسوب گداگر نے یہیں رہنا ہے
پھٹ بھی جائے تو،،،، ،،گریبان کہاں جاتا ہے

آخرِ عمر بھی اس وصل کی خواہش پہ نثار
جان جاتی ہے پہ ارمان کہاں جاتا ہے

کون خاموش طبیعت سا نکل آتا ہے
تجھ سے مل کر مرا ہیجان،،،،،کہاں جاتا ہے

اس سرائے سے نکل جانے کے رستے کم ہیں
دل میں ٹھہرا ہوا مہمان کہاں جاتا ہے

بعد مرنے کے کہاں جاتی ہیں روحیں آزاد
کاش معلوم ہو انسان کہاں جاتا ہے

آزاد حسین آزاد

Monday, 17 February 2020

تو سنگ دل سہی قاتل سہی شفیق سہی قسم خدا کی کوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا

بتوں کے بعد خدا کا بھی کچھ پتا نہ ملا
ملا رہے تھے مگر ٹھیک سلسلہ نہ ملا

وہ کہہ رہے تھے کہ تشریح مدعا کیجے
تلاش کی توہمیں کوئی مدعا نہ ملا

جناب شیخ یہ کیا ماجرا ہوا آخر
سنا ہے آپکو کعبے میں بھی خدا نہ ملا

گماں یہ تھا کہ تھجے ڈھونڈ ہی کے دم لیں گے
حال یہ ہے کہ اپنا بھی کچھ پتا نہ ملا

تو سنگ دل سہی قاتل سہی شفیق سہی
قسم خدا کی کوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا

وہ راہ دیر و حرم کہ راہ مے خانہ
بغیر صدق کسی کو وہ دل ربا نہ ملا

قسم خدا کی عدم جام زہر پی لیں گے
بہ اتفاق اگر آج دل ربا نہ ملا___!!

Sunday, 16 February 2020

تم جو چڑھتے ہو نظر پر تو تمہارے ہوتے سب حسینانِ جہاں دل سے اُتر جاتے ہیں

موےٓ مژگاں سے ترے سینکڑوں مر جاتے ہیں
یہی نشتر تو رگ جاں میں اتر جاتے ہیں

حرم و دیر ہیں عشاق کے مشتاق مگر
تیرے کوچے سے ادھر یہ نہ اُدھر جاتے ہیں

کوچہٓ یار میں اول تو گزر مشکل ہے
جو گزرتے ہیں زمانے سے گزر جاتے ہیں

شمع ساں جلتے ہیں جو بزم محبت میں ترے
نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں

اثر آب بقا خاک رہ عشق میں ہے
وہی زندہ ہیں یہاں آ کے جو مر جاتے ہیں

تم جو چڑھتے ہو نظر پر تو تمہارے ہوتے
سب حسینانِ جہاں دل سے اُتر جاتے ہیں

زاہدو تم کو جناں ہم کو در یار پسند
خیر جاوٓ تم اُدھر کو ہم ادھر جاتے ہیں

زندے کیا اہل عدم کو بھی پھنسا لاتے ہیں
زلف کے بال اگر تابہ کمر جاتے ہیں

کیا اثر نام علیؑ میں ہے کہ لیتے ہی امیرؔ
کام بگڑے ہوئے جتنے ہیں سنور جاتے ہیں

امیر مینائی

Saturday, 15 February 2020

ہجر بھی لے ہی لیا، دشت کے آزار کے ساتھ بحث کیا کرتا میں البیلے دکاں دار کے ساتھ

ہجر بھی لے ہی لیا، دشت کے آزار کے ساتھ
بحث کیا کرتا میں البیلے دکاں دار کے ساتھ

کون کمرے میں کِھلا باغ اٹھا لایا ہے
کس نے تصویر لگائی ہے یہ دیوار کے ساتھ

آخری عمر میں کیا عشق سے ریٹائر ہوں
درد کوئی تو رہے صبح کے اخبار کے ساتھ

وقت سے بھاپ کےانجن کا تقابل کیسا
میں قدم کیسے ملاؤں تری رفتار کے ساتھ

رعب ایسا تھا کہ دشمن بھی مقابل نہ ہوئے
سانپ بل کھاتے رہے خوف سے، دستار کے ساتھ

ہم سگِ کوچہ۶ِ دلدار کہیں جاتے نہیں
بیٹھے رہتے ہیں ادب سے تری دیوار کے ساتھ

آزاد حسین آزاد

Friday, 14 February 2020

لوگ تو لوگ تھے توقیر مری کیا کرتے میرا سایہ بھی یہاں مجھ سے گریزاں نکلا

جب شکستہ مرے دل سے بھی گریباں نکلا
میں غم عشق تھا سمجھا غم دوراں نکلا

لوگ تو لوگ تھے توقیر مری کیا کرتے
میرا سایہ بھی یہاں مجھ سے گریزاں نکلا

میں نے جس شخص کو ہر حال میں خوش دیکھا تھا
وہ تمنا کے سرابوں کا بیاباں نکلا

پھر ترے سچ میں بھی اخلاص بھلا کیا ہو گا
تری ہر بات میں جب جھوٹ مری جاں نکلا

آپ اپنی حقیقت پہ ندامت ہے مجھے
خود غرض اتنا مرے دور کا انساں نکلا
کلیم احسان بٹ

Tuesday, 11 February 2020

آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے


بے سہارا ہوں سہارا بھی کہاں ملتا ہے
ڈوبتا ہوں تو کنارہ بھی کہاں ملتا ہے
آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر
اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے
یاد ہے تم کو رہا کرتے تھے ہم ساتھ کبھی
وہ حسیں دن وہ نظارہ بھی کہاں ملتا ہے
لوگ اب مجھ کو ستاتے ہیں کوئی بات نہیں
اب وہی قرب تمارا بھی کہاں ملتا ہے
دوست دیتے تھے کبھی ہم کو سہارا ثاقب
ہائے وہ آج سہارا بھی کہاں ملتا ہے
نادر ثاقب

Monday, 10 February 2020

میں پھول بھیجوں گا جس جگہ سے ملی محبت علی کا نعرہ لگاؤں گا جو تڑی ملے گی

یہ  قید  خانہ   ملے  گا  یا  ہتھکڑی   ملے  گی
جو جتنا  بولا  اسے  سزا  بھی  بڑی  ملے  گی

میں  اژدھوں  سے   لڑوں  گا  پوری  بہادری  سے
خدائے موسیٰ مجھے بھی ویسی چھڑی ملے گی؟

اُسے  ہرا  کر  بھی  تم  کبھی  نہ  ہرا  سکو  گے
مقابلے  میں کبھی  جو عورت  کھڑی  ملے  گی

میں پھول بھیجوں گا جس جگہ سے ملی محبت
علی  کا  نعرہ   لگاؤں   گا  جو   تڑی   ملے   گی

یہاں کے لوگوں نے خواب دیکھے ہیں جاگتے میں
جسے بھی  دیکھو وہ آنکھ  تم کو  گڑی  ملے گی

وہ مجھ سے ہو کر خدا کے رستے پہ جا رہا تھا
اسے  پتہ  تھا  کڑی  سے  کیسے  کڑی  ملے  گی

ازل  سے  جس میں  فقط برا  وقت چل  رہا  ہے
مری  کلائی  میں تم کو  ایسی  گھڑی  ملے  گی

گلاب  کیسے  لگیں  گے  خوشبو  کہاں   سے  آئے
ہمارے  گملوں  میں  صرف  مٹی  پڑی  ملے  گی

مجھے تو چھوڑو تم آ کے باغوں کا حال دیکھو
بِنا  تمہارے  ہر  ایک   ٹہنی  جھڑی   ملے   گی

میں اپنے پیاروں میں آج ایسے سکون میں ہوں
پتنگ  بیری  میں  جس طرح سے  اَڑی  ملے گی

                    ندیم راجہ

Thursday, 6 February 2020

تو سنا تیری مسافت کی کہانی کیا ہے میرے رستے میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں

یہ جو چہروں پہ لئے گرد الم آتے ہیں
یہ تمہارے ہی پشیمان کرم آتے ہیں

اتنا کھل کر بھی نہ رو جسم کی بستی کو بچا
بارشیں کم ہوں تو سیلاب بھی کم آتے ہیں

تو سنا تیری مسافت کی کہانی کیا ہے
میرے رستے میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں

خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں

وہ تو بیدلؔ کوئی سوکھا ہوا پتا ہوگا
تیرے آنگن میں کہاں ان کے قدم آتے ہیں

Wednesday, 5 February 2020

وہ، جن کو مانگنا بھی پڑے ، اور لوگ ہیں ہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس

بندوق تانتے ہیں، ہدف دیکھتے ہیں، بس!
اپنا ہے بے ضرر سا شغف، دیکھتے ہیں بس!

وہ، جن کو مانگنا بھی پڑے ، اور لوگ ہیں
ہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس

تو دیکھ بس خلا میں معلق یہ کائنات
اس سے پرے تو اہلِ شرف دیکھتے ہیں بس

اپنی جگہ پتہ ہے سو مسجد میں جا کے ہم
جوتوں کے آس پاس کی صف دیکھتے ہیں بس

مجھ کو بہ غور دیکھ کے کہنے لگا فقیر
ایسے مریض، شاہِ نجف دیکھتے ہیں بس

گھڑیاں تو بیچ دی تھیں، برے وقت میں، تمام
اب عادتاً قمیص کے کف دیکھتے ہیں بس

سنتے ہیں خواب میں، "طلع البدر" کی صدا
اور چند پاک ہاتھوں میں دف دیکھتے ہیں بس

جب کوئی پوچھے، "خود کو کہاں دیکھتے ہیں کل؟"
ہم اپنی خاک، خاک سے لف دیکھتے ہیں بس

عمیر نجمی

Monday, 3 February 2020

چھوڑو طبیب یار اسے لاو ڈھونڈ کے ہوتا ہے کیسے ٹھیک یہ بیمار دیکھنا

وہ چاہتا تو ہے مجھے مسمار دیکھنا
ممکن نہیں مگر پس دیوار دیکھنا

اب اس کے انتظار میں رک ہی گئی گھڑی
وہ آئے گا تو وقت کی رفتار دیکھنا

کانٹوں کا احتساب تو کرنے ہو چل پڑے
کچھ پھولوں کا بھی دوستو کردار دیکھنا

جانے لگے ہو چھوڑ کے تو جاو خیر سے
واپس نہ مڑ کے پھر کبھی سرکار دیکھنا

چھوڑو طبیب یار اسے لاو ڈھونڈ کے
ہوتا ہے کیسے ٹھیک یہ بیمار دیکھنا

چپ دوستی کے نام پہ شہزاد ہوں کھڑا
دشمن جو آئے سامنے للکار دیکھنا
شہزاد جاوید

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...