Tuesday, 30 June 2020

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سے
وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں

پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کا
تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں

تاروں کی بہاروں میں بھی قمرؔ تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں

قمر جلالوی

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا
پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظر
شیشے کو زیر دامن رنگیں چھپا کے لا

کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینیٔ بہار
جا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے لا

دیکھی نہیں ہے تو نے کبھی زندگی کی لہر
اچھا تو جا عدمؔ کی صراحی اٹھا کے لا

۔۔۔۔۔
عبدالحمید عدم

روز الجھے ہوئے گیسو نہیں سلجھا کرتے روز پالی نہیں جاتی یہ وبالی وحشت

اشک اترے تو سرِ در ہی سجا لی وحشت
راستہ چھوڑ دیا، راہ میں پا لی وحشت

اب یہ سوچا کہ اکیلے نہیں رہنا میں نے
رونقِ دل کے لئے گھر ہی بلا لی وحشت

یہ بھی ہے سچ کہ کسی سے نہیں ڈرتا لیکن
آپ کے نام نے دل میں مرے ڈالی وحشت

دو مجھے ہجر میں چپ چاپ اذیت کا سبق
سیکھ لوں میں بھی محبت کی خیالی وحشت

ایک اک لمس جلاتا رہا لمحوں کا مجھے
ایک تو درد ہے، پھر رات کی کالی وحشت

ہم نے رہنے نہیں دینا کسی ہمسر کو خفا
آج دل آیا تو منت سے منا لی وحشت

فرق اتنا ہے کہ آتا نہیں اک پل کو یقیں
ہاں مگر تم نے گماں میں بھی بسا لی وحشت

روز الجھے ہوئے گیسو نہیں سلجھا کرتے
روز پالی نہیں جاتی یہ وبالی وحشت

آؤ آغازِ اذیت کے ہی چرچے کر لیں
یوں بھی تو ہوتی ہے انجام سے خالی وحشت

آسماں نے مجھے دھتکار نکالا باقی
اور جنت نے ہے دل میں مرے ڈالی وحشت

وجاہت باقی

Sunday, 28 June 2020

شباب نام ہے دل کی شگفتہ کاری کا وہ کیا جوان رہے جس کا دل جواں نہ رہے

سیماب اکبر آبادی

رہیں گے چل کے کہیں اور اگر یہاں نہ رہے
بَلا سے اپنی جو آباد گُلِسْتان نہ رہے

ہم ایک لمحہ بھی خوش زیرِ آسماں نہ رہے
غنیمت اِس کوسَمَجْھیے کہ جاوداں نہ رہے

ہمیں تو خود چَمن آرائی کا سلیقہ ہے
جو ہم رہے توگُلِسْتاں میں باغباں نہ رہے

شباب نام ہے دل کی شگفتہ کاری کا
وہ کیا جوان رہے جس کا دل جواں نہ رہے

حرم میں، دَیروکلیسا میں، خانقاہوں میں
ہمارے عشق کے چرچے کہاں کہاں نہ رہے

کبھی کبھی، رہی وابستگی قفس سے بھی
رہے چمن میں تو پابندِ آشیاں نہ رہے

فضائے گل ہے نظر کش و مَن ہے دامن کش
کہاں رہے تِرا آوارہ سر، کہاں نہ رہے

بہار جن کے تبسّم میں مُسکراتی تھی
وہ گُلِسْتاں وہ جوانانِ گُلِسْتاں نہ رہے

خدا کے جاننے والے تو خیر کچھ تھے بھی
خدا کے ماننے والے بھی اب یہاں نہ رہے

ہمیں قفس سے کریں یاد پھر چمن والے
جب اور کوئی ہوا خواہِ آشیاں نہ رہے

کِیا بھی سجدہ تو دل سے کِیا نظر سے کِیا
خدا کا شُکر کہ ہم بارِ آستاں نہ رہے

ہے عصرِ نَو سے یہ اِک شرط انقلاب کے بعد
ہم اب رہیں جو زمیں پر تو آسماں نہ رہے

برائے راست تعلّق تھا جن کا منزل سے
وہ راستے نہ رہے اب وہ کارواں نہ رہے

ہَمِیں خرابِ ضعیفی نہیں ہوئے سیماب
ہمارے وقت کے اکثر حَسِیں جواں نہ رہے

Saturday, 27 June 2020

غلط تو خیر محبت میں اور کیا ہوتا مگر یہ ہے کہ طبیعت درست ہو گئی ہے

سنبھل نہیں گئی حضرت !! درست ہو گئی ہے
بگڑ کے اور بھی حالت درست ہو گئی ہے

عجیب بات سُنی ہے خدا معاف کرے
کہ آں جناب کی صحبت درست ہو گئی ہے

خراب شے ہوا کرتی تھی کوئی دن پہلے
تجھے ملی ہے تو شہرت درست ہو گئی ہے

نجانے کون مخاطب ہے اِن دنوں تجھ سے
کوئی بھی ہو  ، مری لکنت درست ہو گئی ہے

غلط تو خیر محبت میں اور کیا ہوتا
مگر یہ ہے کہ طبیعت درست ہو گئی ہے

ابھی گیا ہے مجھے کوستے ہوئے کوئی
کہ اُس تئیں مری نیّت درست ہو گئی ہے

کھلا کہ اُس سے بچھڑنے کی دیر تھی جواد 
مری اِک اور بھی عادت درست ہو گئی ہے

جواد شیخ

Thursday, 25 June 2020

جو تیرے ساتھ محبت تھی مر گئی ہے وہ مگر جو تجھ سے عقیدت ہے کم نہیں ہوتی

جہانزیب ساحر

خوشی بھی کس نے کہا وجہِ غم نہیں ہوتی
بتا وہ شام جو شامِ الم نہیں ہوتی

ہم اس جگہ پہ کرایے کے گھر میں رہتے ہیں
ہماری رائے کبھی محترم نہیں ہوتی

ترے خیال کے آتے ہی لوٹنے سے لگا
ہرایک چیز اداسی میں ضم نہیں ہوتی

جھکے ہوئے ہیں یہ سر تو کسی مصیبت میں
یہ اک فقیر کی گردن ہے خم نہیں ہوتی

جو تیرے ساتھ محبت تھی مر گئی ہے وہ
مگر جو تجھ سے عقیدت ہے کم نہیں ہوتی

میں اپنے دکھ میں برابر شریک ہوں لیکن
بس ایک مسئلہ ہے آنکھ نم نہیں ہوتی

بتا رہی ہیں پرندوں کی ہجرتیں ساحر
کوئی تباہی کبھی ایک دم نہیں ہوتی

اب زمانے میں کوئی اہلِ وفا ملتا نہیں کیا وفا بھی دفن کر دی میرے دفنانے کے ساتھ

قمر جلالوی

آہ بھر کے یاد کرتے ہو ہر افسانے کے ساتھ
تم نے کیوں کی تھی محبت ایسے دیوانے کے ساتھ
.
زلف پابندِ کشاکش کیوں ہوئی شانے کے ساتھ
ٹھوکریں زنجیر بھی کھاتی ہے دیوانے کے ساتھ
.
وہ ادا ساقی کی دیکھی مے چھلک جانے کے بعد
پڑ گئی چکر میں توبہ میری پیمانے کے ساتھ
.
آس بندھ کر ٹوٹ جاتی ہے مجھے رونا یہ ہے
آپ ہنس دیتے ہیں وعدے پر قسم کھانے کے بعد
.
بزمِ ساقی میں نظر نیچی کئے بیٹھا ہوں میں
تھک گئی ہے آنکھ پھرے پھرتے پیمانے کے ساتھ
.
یہ تو اے ظالم ہوا جاتا ہے دعوے کا ثبوت
تیرا انکارِ ستم محشر میں شرمانے کے ساتھ
.
حضرتِ ناصح نصیحت تو سر آنکھوں پر مگر
آپ بھی تو کچھ سمجھتے جائیں سمجھانے کے ساتھ
.
جب سے توبہ کی ہے ملتی ہی نہیں وہ صحبتیں
چھٹ گئے یارانِ میخانہ بھی میخانے کے ساتھ
.
اب زمانے میں کوئی اہلِ وفا ملتا نہیں
کیا وفا بھی دفن کر دی میرے دفنانے کے ساتھ
.
دشتِ محفل میں کسی کو ہم بھی دیکھ آئے ہیں کل
کچھ بگولے پھر رہے تھے تیرے دیوانے کے ساتھ
.
پھول پر رونق نہیں آتی بلا سبزہ قمر
حسن کی فطرت ہے خوش رہتا ہے بیگانے کے ساتھ

Tuesday, 23 June 2020

آدمی زاد ہیں دُنیا کے حسیں لیکن امیر یار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے

امیر مینائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وصل ھو جائے یہیں حشر  میں  کیا  رکھا  ہے
آج کی بات  کو  کیوں  کل  پہ  اُٹھا   رکھا  ہے

مُحتسِب پُوچھ نہ تُو شیشے میں کیا رکھا ہے
پارسائی   کا   لہُو   اِس  میں   بھرا  رکھا  ہے

کہتے   ہیں  آئے  جوانی   تو  یہ  چوری  نِکلے
میرے   جوبن  کو   لڑکپن  نے  چُرا   رکھا  ہے

اِس تغافُل میں بھی سرگرمِ سِتم وہ   آنکھیں
آپ تو سوتے  ہیں  فِتنوں  کو  جگا   رکھا  ہے

آدمی  زاد  ہیں   دُنیا  کے  حسیں  لیکن  امیر
یار    لوگوں    نے    پری    زاد   بنا  رکھا  ہے

Thursday, 18 June 2020

مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

ابراہیم زوق

مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

تم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہے
نہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے

لوٹتے سیکڑوں نخچیر ہیں کیا یاد رہے
چیر دو سینے میں دل کو کہ پتا یاد رہے

رات کا وعدہ ہے بندے سے اگر بندہ نواز
بند میں دے لو گرہ تا کہ ذرا یاد رہے

قاصد عاشق سودا زدہ کیا لائے جواب
جب نہ معلوم ہو گھر اور نہ پتا یاد رہے

دیکھ بھی لینا ہمیں راہ میں اور کیوں صاحب
ہم سے منہ پھیر کے جانا یہ بھلا یاد رہے

تیرے مدہوش سے کیا ہوش و خرد کی ہو امید
رات کا بھی نہ جسے کھایا ہوا یاد رہے

کشتۂ ناز کی گردن پہ چھری پھیرو جب
کاش اس وقت تمہیں نام خدا یاد رہے

خاک برباد نہ کرنا مری اس کوچے میں
تجھ سے کہہ دیتا ہوں میں باد صبا یاد رہے

گور تک آئے تو چھاتی پہ قدم بھی رکھ دو
کوئی بیدل ادھر آئے تو پتا یاد رہے

تیرا عاشق نہ ہو آسودہ بہ زیر طوبیٰ
خلد میں بھی ترے کوچے کی ہوا یاد رہے

باز آ جائیں جفا سے جو کبھی آپ تو پھر
یاد عاشق کو نہ کیجے گا بھلا یاد رہے

داغ دل پر مرے پھاہا نہیں ہے انگارا
چارہ گر لیجو نہ چٹکی سے اٹھا یاد رہے

زخم دل بولے مرے دل کے نمک خواروں سے
لو بھلا کچھ تو محبت کا مزا یاد رہے

حضرت عشق کے مکتب میں ہے تعلیم کچھ اور
یاں لکھا یاد رہے اور نہ پڑھا یاد رہے

گر حقیقت میں ہے رہنا تو نہ رکھ خود بینی
بھولے بندہ جو خودی کو تو خدا یاد رہے

عالم حسن خدائی ہے بتوں کی اے ذوقؔ
چل کے بت خانے میں بیٹھو کہ خدا یاد رہے

Thursday, 11 June 2020

خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے

ابراہیم زوق

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی
تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے

خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں
پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے

پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہم
پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے

شعلۂ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں
پر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے

ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر
بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے

سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریا
چڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے

لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں
اور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے

ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں
یاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

Wednesday, 10 June 2020

ہر ایک شہر کا معیار مختلف دیکھا کہیں پہ سر کہیں پگڑی کا احترام ہوا

آنس معین

عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہوا
حصول رزق ہوا بھی تو زیر دام ہوا 

ہر ایک شہر کا معیار مختلف دیکھا
کہیں پہ سر کہیں پگڑی کا احترام ہوا

ذرا سی عمر عداوت کی لمبی فہرستیں
عجیب قرض وراثت میں میرے نام ہوا

نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا

ہم اپنے ساتھ لئے پھر رہے ہیں پچھتاوا
خیال لوٹ کے جانے کا گام گام ہوا

Tuesday, 9 June 2020

میرے اپنے اندر ایک بھنور تھا جس میں میرا سب کچھ ساتھ ہی میرے ڈوب گیا ہے

آنس معین

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے
بیٹھے بیٹھے ندی کنارے ڈوب گیا ہے

آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہوگی
آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے

وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے

میرے اپنے اندر ایک بھنور تھا جس میں
میرا سب کچھ ساتھ ہی میرے ڈوب گیا ہے

شور تو یوں اٹھا تھا جیسے اک طوفاں ہو
سناٹے میں جانے کیسے ڈوب گیا ہے

آخری خواہش پوری کر کے جینا کیسا
آنسؔ بھی ساحل تک آ کے ڈوب گیا ہے

Sunday, 7 June 2020

تھالی کے کچھ نوالے بچائے وگرنہ میں یاروں کی گردنوں پہ بھی تلوار کھینچتا

اقسان محبوب

ممکن ہے عین چوک میں اس بار کھینچتا
بیٹے کو زر نہ ملتا تو دستار کھینچتا

تھالی کے کچھ نوالے بچائے وگرنہ میں 
یاروں کی گردنوں پہ بھی تلوار کھینچتا

رحم آ گیا تھا چور پہ سرمایہ  دار کو
ورنہ غریب شہر کو بازار کھینچتا

غفلت سے مر رہا تھا پڑا نوجوان دوست
کیسے نہ ڈاکٹر سے میں گفتار کھینچتا

سب کو چنا گیا ہے محبت کے نام پر
یا رب مجھے بھی کوئی طلب گار کھینچتا

اچھا ہوا کہ ہوش کے ناخن لیۓ گئے
عجلت کا شر تو بیچ میں دیوار کھینچتا

بن کے سائل یوں زمانے کے پھرو گے کب تک کیا کوئی اور بھی سنتا ہے خدا سے پہلے

لذت وصل کہاں درد جفا سے پہلے
چاندنی شب میں کہیں زلف سیہ سے پہلے

میں نے بت خانہ میں دیکھیں ہیں بہت سجدہ کناں
وہ تو جھک جاتے ہیں فورا ہی ندا سے پہلے

بن کے سائل یوں زمانے کے پھرو گے کب تک
کیا کوئی اور بھی سنتا ہے خدا سے پہلے

اب نہ دیکھیں گے گلستاں میں کبھی دور بہار
اب قفس سے کہاں آزادی قضا سے پہلے

سو برس بھی نہ رہی زندگی انسان کا حق
موت آجاتی ہے جینے کی ادا سے پہلے

نہیں دفتر میں میرے عشق و محبت کا گناہ
کیوں بھلا دار پہ چڑھ جاؤں خطا سے پہلے

ناخدا اب تو سفینہ کو بھنور میں لے چل
دیکھیں ہم بھی تو انا کیا ہے فنا سے پہلے

یاد اغیار سے زخموں کو کریدو نہ افق
آہ بھی نکلی تو پھیلے گی ہوا سے پہلے
اشفاق غوری افق

Saturday, 6 June 2020

مجھے وہ کل شب منا رہی تھی تو امی یہ کہہ کے مسکرائیں تم اپنا سیل فون چینج کر لو مجھے بھی آواز آ رہی ہے

آلِ عمر

یہ کیا معمہ ہے میری درویشی اس کی آنکھوں میں آ رہی ہے
میں جب سے اوجھل ہوا ہوں وہ مجھ کو ٹھیک سے دیکھ پا رہی ہے

میں سچ بتاؤں تو میں محبت کا اور لڑکی کا آدمی نئیں
شروع سے پہلی مجھ کو سُرمہ تو دوجی چونا لگا رہی ہے

یہ روز رونا بھی کون چاہے گا اور رونا بھی دوستی میں
پر آنسو پی پی کے میرے لہجے کی سالا شیرینی جا رہی ہے

وہ شاعرہ تو نہیں مگر جانتی ہے نظموں کا رزق کیا ہے
بہت ہی نازک ہے پر رلانے میں زور پورا لگا رہی ہے

مجھے وہ کل شب منا رہی تھی تو امی یہ کہہ کے مسکرائیں
تم اپنا سیل فون چینج کر لو مجھے بھی آواز آ رہی ہے

Friday, 5 June 2020

کمال یہ ہے عدم کو بھی ملے اعزاز کسی بھی اور کی دستار کو اُتارے بغیر

میں صاف صاف  یہ کہتا ہوں اِستعارے بغیر
مجھے بہشت بھی جانا نہیں تمہارے بغیر

 مِرا یہ فیصلہ ہے اور تم  یہ جانتے ہو
میں فیصلے نہیں کرتا ہوں  اِستخارے بغیر

 تو اُس کو  چاہئے جا کر دکان داری کرے
جو شخص چاہتا ہو  عشق  بھی خَسارے بغیر

 سنَد بھی چاہتے ہو اور اِمتحاں سے گُریز
سَحَر کی آرزو رکھتے ہو  شب گزارے بغیر

 میں اِس لئے بھی دعا پر یقین رکھتا ہوں
کہ تم بھی سُنتے نہیں ہو مِری،  پکارے بغیر

 وہ ماہ تاب ہے،  ملنا تو با وُضو ہو کر
وہ جاں نِکال بھی لیتا ہے جاں سے مارے بغیر

میں چاہتا ہوں کہ دونوں ہی جیت جائیں ہم
میں چاہتا ہوں یہی ہو کسی کے ہارے بغیر

 تو کیا یہ کم ہے کرامت، کہ جان لیتا ہوں
 رضائے یار کو میں یار  کے اِشارے بغیر 

پڑا جو دشت سے پالا تو پھر یہ یاد آیا
 کہ ایک شخص تھا دریا سا اور  کِنارے بغیر

کھڑا ہوں پاوں پہ جو میں تو تیری ستّاری
میں مُشتِ خاک ہوں مولا تِرے سہارے بغیر

کمال یہ  ہے عدم کو بھی ملے اعزاز
 کسی بھی اور کی دستار کو اُتارے بغیر

🩸میں دیوانہ ہوں میرے پاس محشر میں کھڑے رہنا نہ جانے میں کہوں کیا اور کیا پوچھے خدا مجھ سے

چنیدہ اشعار

جو تھا برتاؤ دنیا کا، وہی اُس نے کیا مجھ سے
میں دنیا سے انوکھا تھا کہ وہ کرتا وفا مجھ سے؟

🩸مرے پہلو میں دل رکھ کر مجھے قسمت نے لٹوایا
نہ میرے پاس دل ہوتا نہ کوئی مانگتا مجھ سے

🩸میں دیوانہ ہوں میرے پاس محشر میں کھڑے رہنا
نہ جانے میں کہوں کیا اور کیا پوچھے خدا مجھ سے

تو کیا اپنی سزائے قتل پر خود دستخط کر دوں؟
وہ لکھواتے ہیں کیوں جرمِ وفا کا فیصلہ مجھ سے

🩸غلط تھی یہ مَثَل سب دبنے والے کو دباتے ہیں
دبا میں خاک میں، تو خاک کو دبنا پڑا مجھ سے

بتا او میرے غارت گر، اب ان کو کیا بتاؤں میں؟
مسافر پوچھتے ہیں تیری منزل کا پتا مجھ سے

سنے کس کس کی وہ سیماب کس کس کو تسلی دے
پڑے رہتے ہیں لاکھوں اُس کے در پر بے نوا مجھ سے

سیماب اکبر آبادی

Thursday, 4 June 2020

سب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑا لوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میں

آلِ عمر

ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں
اس کو رہنا ہی نہیں آیا ہمارے دل میں

سب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑا
لوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میں

تُو نے کیا جرم کیا ہوگا جو میں رہتا رہا
اتنا عرصہ مرے چندا ترے پیارے دل میں

تیرا رونا ترے کچھ کام نہیں آئے گا دوست
سبز بتی پہ نہیں کُھلتے اشارے دل میں

کوئی دو چار نئے زخم کہ رَش پڑ جائے
صرف اک ڈر رہا کرتا ہے بیچارے دل میں

سچے دل والی مرے حجرے میں رہتی ہے حضور
میٹھے پانی کا کنواں ہے مرے کھارے دل میں

میرا اللہ مرے ساتھ ہے، وہ جانتی ہے
اس نے ڈرتے ہوئے چلوائے ہیں آرے دل میں

Wednesday, 3 June 2020

تجھے بھول جانے کی کوششیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کامیاب نہ ہو سکیں تری یاد شاخ گلاب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو ہوا چلی تو لچک گئ

کہیں چاند راہوں میں کھو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی
میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری رات کیسے چمک گئی

مری داستاں کا عروج تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں
مرے ساتھ تھا تجھے جاگنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تری آنکھ کیسے جھپک گئی

بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی دوریاں وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

ترے ہاتھ سے میرے ہونٹ تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی انتظار کی پیاس ہے
مرے نام کی جو شراب تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں راستے میں چھلک گئی

تجھے بھول جانے کی کوششیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تری یاد شاخ گلاب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو ہوا چلی تو لچک گئ

Tuesday, 2 June 2020

میں تجھ سے آنکھ ملا کر غزل سناؤں گا میں خود کو ڈوبتا دیکھوں گا اور بچاؤں گا نئیں

آلِ عمر

کرونگا عشق وراثت کا کچھ بتاؤں گا نئیں
میں اک غریب کی بیٹی کو آزماؤں گا نئیں

انہیں کہو کہ بہت ڈھیر شور و شر نہ کریں
میں ڈر گیا تو کئی روز مسکراؤں گا نئیں

تسلی دونگا تو مر جائے گی، وہ لڑکی ہے
میں جانے دونگا گلے سے اسے لگاؤں گا نئیں

اسے خبر بھی نہیں ہوگی اتنا چاہوں گا
اسے پتہ بھی نہیں ہوگا، میں بتاؤں گا نئیں

یہ راستہ بڑی مشکل سے طے کیا میں نے
یہ فاصلہ ہے دلوں کا اسے مٹاؤں گا نئیں

ترا مطالبہ ہے _____ تیری یاد کے آنسو
میں اب کے رویا تو آنکھوں کو بھی بچاؤں گا نئیں

اور اب کی سالگرہ پر پلان کیا ہے ترا۔۔؟؟؟
اور اب کی بار تو میں سامنے بھی آؤں گا نئیں

میں تجھ سے آنکھ ملا کر غزل سناؤں گا
میں خود کو ڈوبتا دیکھوں گا اور بچاؤں گا نئیں

پہلی قسطوں میں تری موت نہیں ہو سکتی اپنے تھیٹر کو میں ویران نہیں کر سکتا


دوسرا عشق مری جان! نہیں کر سکتا
یہ ترا حافظِ قرآن نہیں کر سکتا

دسترس میں ہے مری کیف بھی کیفیت بھی
زخم بھر کر مجھے حیران نہیں کر سکتا

ان پہ غالب ہے کئی چہروں کے اشراک کا دین
تو ان آنکھوں کو مسلمان نہیں کر سکتا

پہلی قسطوں میں تری موت نہیں ہو سکتی
اپنے تھیٹر کو میں ویران نہیں کر سکتا

یہ مرا آخری پتھر ہے تری یاد میں دوست
اب میں پانی کو پریشان نہیں کر سکتا

Monday, 1 June 2020

نظر ٹھہرتی نہ تھی اس پہ اور خود پر بھی میں آئینے میں تھی کل ایک لالہ فام کے ساتھ


ترے خیال، ترے خواب، تیرے نام کے ساتھ
بنی ہے خاک مری کتنے اہتمام کے ساتھ

بہت سے پھول تھے اور سارے اچھے رنگوں کے
صبا نے بھیجے تھے جو کل ترے پیام کے ساتھ

نظر ٹھہرتی نہ تھی اس پہ اور خود پر بھی
میں آئینے میں تھی کل ایک لالہ فام کے ساتھ

ترے خیال سے روشن ہے سر زمین سخن
کہ جیسے زینت شب ہو مہ تمام کے ساتھ

پھر آ گئی ہے مرے در پہ کیا وہی دنیا؟
میں کر کے آئی تھی رخصت جسے سلام کے ساتھ

سنا ہے پھول جھڑے تھے جہاں ترے لب سے
وہاں بہار اترتی ہے روز شام کے ساتھ

خوشی کے واسطے کب کوئی دن مقرر تھا
مگر یہ دل میں رکی ہے ترے خرام کے ساتھ

نرجس افروز زیدی

اس نے چوما تھا ہتھیلی پہ سو مُٹھی میں مری تتلیاں قید ہیں _____ آزاد نہیں کرتا میں

شام کے بعد تجھے یاد نہیں کرتا میں
یوں چراغوں کی بھی امداد نہیں کرتا میں

ہاتھ میں کاسہ کوئی دیکھ کے پہچان نہ لے
دھند چَھٹ جائے تو فریاد نہیں کرتا میں

اس نے چوما تھا ہتھیلی پہ سو مُٹھی میں مری
تتلیاں قید ہیں _____ آزاد نہیں کرتا میں

میری آنکھیں بھلے چہروں کی گزرگاہیں ہیں
رو کے ان گلیوں کو برباد نہیں کرتا میں 

اس قدر لذتِ یکتائی ہے یارو سرِ ہجر
وصل کے ذائقے بھی یاد نہیں کرتا میں

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...