Saturday, 31 March 2018

مقروض کے بگڑے ہوئے حالات کی مانند مجبور کے ہونٹوں پہ سوالات کی مانند۔


مقروض کے بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کے ہونٹوں پہ سوالات کی مانند۔۔
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند۔۔
دل روز سجاتا ہوں میں کسی دلہن کی طرح
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند۔ ۔
اب یہ بھی نہیں یاد کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند۔ ۔
کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند۔ ۔
اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں
میں پانی ہوں دریا کا وہ صحرا کی مانند۔ ۔

Wednesday, 28 March 2018

تو اپنے لہجے کی رقت کو تھوڑا کم کر دے فقیر لوگ نہ تیری صدا سے مر جائیں


عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں
یہ احتجاج سمندر کے دم کو کافی ہے
کسی کنارے پہ دو چار پیاسے مر جائیں
فسادیوں کو میں اس شرط پر رہا کروں گا
کہ فاختہ کے پروں کی ہوا سے مر جائیں
تو اپنے لہجے کی رقت کو تھوڑا کم کر دے
فقیر لوگ نہ تیری صدا سے مر جائیں
اٹھا کے پھرتے ہیں ہم آپ صرف نام تو لیں
قسم سے آپ تو کاسے کی ”کا“ سے مر جائیں

Tuesday, 27 March 2018

یہ قلب نشینی کا شرف تو نہ مجھے بخش ادنیٰ ہے مِری ذات مجھے پاؤں میں جا دے

اجڑے ہوئے گلشن میں کوئی پھول کھِلا دے
بے رنگ مِری ہستی کو گُل رنگ بنا دے

یہ قلب نشینی کا شرف تو نہ مجھے بخش
ادنیٰ ہے مِری ذات مجھے پاؤں میں جا دے

مضمر ہیں کئی راز مِرے گوشۂ دل میں
اس دل کو تجلّیٔ گہہِ طُور دِکھا دے

بیدار ہوجائیں مِرے خوابیدہ عناصر
مُژدہ مِرے کانوں کو مسیحا وہ سنا دے

مَیں زیرِ فلک اور تُو ہے عرش سے بالا
اے طیرِ تفکّر ذرا مجھ کو بھی اُڑا دے

آتا ہے مِرے لہجۂ عریاں سے اگر خوف
تو خود کو تہہِ ارض کے دامن میں چھپا دے

میں روح کو پگھلا کے تری سانس میں بھردوں
کچھ ایسی حرارت لبِ تشنہ میں جگا دے

پوشیدہ گُہر دستِ طلب کی نہیں زینت
چاہے تو سمندر کے سمندر ہی بہادے

دیرینہ محبّت بھی ہے خواب اور خیال آج
گہوارۂ آغوش میں تُو مجھ کو سلا دے

بے کیف و مسرّت ہے مِرا عہدِ جوانی
اے گردشِ ایّام مجھے طفل بنا دے

مصطفی عبیر

Monday, 26 March 2018

تمام لوگ محبت کے امتحان میں ہیں مگر وہ عکس جو آئینے کی امان میں ہیں



تمام لوگ محبت کے امتحان میں ہیں
مگر وہ عکس جو آئینے کی امان میں ہیں

ہمی‍ں ابھی سے شکستہ خراب و خستہ نہ جان
دونیم اشک ہمارے ابھی کمان میں ہیں

نگاہ فرش پہ ہو دل میں ہو علی کی ولا
تمام تر صفتیں میرے خاندان میں ہیں

اسے یہ کون بتائے چٹان سخت نہیں
شگفتِ گل کے علائم اسی چٹان میں ہیں

وہ یہ نہ سمجھے ہمیں سرکشی کا بھاؤ نہیں
تمام سلسلے اس کے ہمارے دھیان میں ہیں

تھرک رہے ہیں زمانے اسی کی دھن پہ عقیل
کچھ ایسے تان پلٹ فجر کی اذان میں ہیں

Sunday, 25 March 2018

یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے

کب کہاں کیا مرے دل دار اٹھا لائیں گے
وصل میں بھی دل بے زار اٹھا لائیں گے

چاہیئے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ
ہم تو بازار کے بازار اٹھا لائیں گے

یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا
اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے

ایک مصرعے سے زیادہ تو نہیں بار وجود
تم پکاروگے تو ہر بار اٹھا لائیں گے

گر کسی جشن مسرت میں چلے بھی جائیں
چن کے آنسو ترے غم خوار اٹھا لائیں گے

کون سا پھول سجے گا ترے جوڑے میں بھلا
اس شش و پنج میں گلزار اٹھا لائیں گے

عطا ترابؔ💕

ہم ﻓﻘﻴﺮﻭﮞ کی ﺳﺐ کے ﺗﺌﻴﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ ﻣﻌﺬﺭﺕ ! ﺑﺲ ﺩﻡِ ﻭﺍﭘﺴﻴﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﮨﻢ ﻓﻘﻴﺮﻭﮞ کی ﺳﺐ کے ﺗﺌﻴﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ
 ﻣﻌﺬﺭﺕ ! ﺑﺲ ﺩﻡِ ﻭﺍﭘﺴﻴﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﮨﻢ ﻗﺪﻡ ! ﭘﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﻠﺘﮯ ﻧﮩﻴﮟ
 ﮨﻢ ﺳﻔﺮ ! ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﻳﮩﻴﮟ ،ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﺟﺲ کی ﻗﻴﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺁﭖ ﺁﮰ ﮨﻴﮟ
 ﻭﮦ ﮐﻮﺉ ﺍﻭﺭ ھے ،ﻣﻴﮟ ﻧﮩﻴﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﮨﻢ ﺍﻧﺎ ﺯﺍﺩﻭﮞ کی ﺗﺮﺑﻴﺖ ﺍﻭﺭ ھے
 ﮨﻢ ﺟﮭﮑﺎﺗﮯ ﻧﮩﻴﮟ ھﻴﮟ ﺟﺒﻴﮟ ،ﻣﻌﺬﺭت

ﻣﻴﮟ ﺗﺮﮮ ﺑﺎﺏ ﻣﻴﮟ کچھ ﻧﮩﻴﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ
 ﻣﻌﺬﺭﺕ ! ﺍﮮ ﺩﻝِ ﺧﻮش ﻳﻘﻴﮟ !ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﻃﺎﻟﺐِ ﺧﻮﺩ ﻓﺮﻭﺷﯽ کے ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﻴﮟ
 ﻣﻴﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻟﮑﮫ ﺩﻭ ، "ﻧﮩﻴﮟ ! ﻣﻌﺬﺭﺕ"

ﺩﻋﻮﺗﻴﮟ ﺩﻭ ﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻳﮏ ھے
 ﺍﮨﻞِ ﺩﻝ ﺷﮑﺮﻳﮧ ! ﺍﮨﻞِ ﺩﻳﮟ ﻣﻌﺬﺭﺕ

ﺍﻓﺘﺨﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺲ ﺍﮎ ﺩﻋﺎﮰ ﺍﺑﺪ
ﺍﻓﺘﺨﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﮎ ﺁﺧﺮﻳﮟ ، ﻣﻌﺬﺭﺕ

 افتخار مغل​

Saturday, 24 March 2018

خوشبو کے سلسلے دے یا آہٹ کی راہ بخش تو چاہتا ہے تجھ سے ملیں تو نشان چھوڑ

خوشبو کے سلسلے دے یا آہٹ کی راہ بخش
تو چاہتا ہے تجھ سے ملیں تو نشان چھوڑ
میں چاہتا ہوں اپنا سفر اپنی کھوج بین
اس بار میرے سر پہ کھلا آسمان چھوڑ
کیوں روکتا ہے مجھ کو اشاروں سے بار بار
سچ سننا چاہتا ہے تو میری زبان چھوڑ
مجھ کو پتہ چلے تو یہاں کون ہے میرا
آ سامنے تو میری طرف کھل کے بان چھوڑ

خرچ کردیتا ہوں سب موجود اپنے ہاتھ سے اور ناموجود کی دُھن میں لگا رہتا ہوں میں

اِک نفس، نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں
گمشدہ چیزوں کے اندر لاپتا رہتا ہوں میں
جتنی باتیں یاد آتی ہیں، وہ لکھ لیتا ہوں سب
اور پھر ایک ایک کرکے، بھولتا رہتا ہوں میں
گرم جوشی نے مجھے جُھلسا دیا تھا، ایک دن
اندروں کے سرد خانے میں پڑا رہتا ہوں میں
خرچ کردیتا ہوں سب موجود اپنے ہاتھ سے
اور ناموجود کی دُھن میں لگا رہتا ہوں میں

جتنی گہرائی ہے عادل،ؔ اُتنی ہی تنہائی ہے
بس کہ سطحِ زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں

ذوالفقار عادل

Friday, 23 March 2018

براہِ مہربانی دوستانہ گفتگو کرنا تِرا اپنا ہوں مجھ سے محرمانہ گفتگو کرنا

براہِ مہربانی دوستانہ گفتگو کرنا
تِرا اپنا ہوں مجھ سے محرمانہ گفتگو کرنا
مصائب گرمیِ گفتار لائی میرے سر کیا کیا
مجھے آیا نہ لیکن عاجزانہ گفتگو کرنا
مئے و معشوق کی باتیں سنانا نیک لوگوں کو
جو ہو رندوں کی محفل زاہدانہ گفتگو کرنا
پتنگے جان دے کر پیار کا اظہار کرتے ہیں
کوئی ان کو سکھا دے عاشقانہ گفتگو کرنا
ضرورت سے زیادہ انکساری بھی نہیں اچھی
مِرے فاتحؔ سدا تم فاتحانہ گفتگو کرنا

Thursday, 22 March 2018

تو اور کسی آنکھ میں اچّھا نہیں لگتا آ ۔۔۔ خواب ! تجھے دیدۃ نم ناک میں رکھ دوں...

دل بُھربھری مٹّی ہے تو کیا چاک میں رکھ دوں؟
تجسیم کروں جسم کو ' خاشاک میں رکھ دوں؟

سورج کو جگہ مِل نہیں پائے گی سرِ بام
میں دل کو اگر روزنِ افلاک میں رکھ دوں...

ادراکِ غمِ دوست ضروری ہے تو پھر میں
اک عرضِ تمنّا دلِ بے باک میں رکھ دوں...

جب چُنری میں کم پڑنے لگیں لعل و جواہَر
تو کیوں نہ مَہ و مِہر کو پوشاک میں رکھ دوں...

اِس عشق نے ایسے مجھے گم راہ کِیا ہے
الزامِ جنوں پوششِ ادراک میں رکھ دوں..

تو اور کسی آنکھ میں اچّھا نہیں لگتا
آ ۔۔۔ خواب ! تجھے دیدۃ نم ناک میں رکھ دوں...

بہ طرزِ جنوں عکسِ نمایاں ہو نکھر کر
کیا دل کو بھی آئینہ ء ادراک میں رکھ دوں..

اُس چرخ ستم گر کی تسلّی نہیں ہو گی
میں دل بھی اگر گنبدِ افلاک میں رکھ دوں...

الجھن کا سِرا مجھ کو جو اک بار مِلے تو
کیا کچھ نہ سَحَرؔ ! حیطہ ء پیچاک میں رکھ دوں...

Tuesday, 20 March 2018

اندیشہ ہے اک صاحب تقو'ی کی نظر کا مے چھوڑ دیا کرتے ہیں مے خوار ذرا سی

کیوں چاٹ نہ لوں خاک در یار ذرا سی
اکسیر ہے اکسیر کی مقدار ذرا سی

اندیشہ ہے اک صاحب تقو'ی کی نظر کا
مے چھوڑ دیا کرتے ہیں مے خوار ذرا سی

اے شوخ غضب ہے ترے ابرو کا اشارہ
کیا دیکھئے کرتی ہے یہ تلوار ذرا سی

سو ٹکڑے کروں دل کے تو لے کوئی خریدار
وہ کہتے ہیں یہ جنس ہے درکار ذرا سی

ساقی مجھے ترسا کے پلاتا ہے مئے ناب
اک بار بہت سی نہیں ہر بار ذرا سی

کہتا ہے وہ ہم داغ کو دل میں نہیں رکھتے
میں چاہوں جگہ دے مجھے دل دار ذرا سی
داغ دہلوی  ..

Monday, 19 March 2018

میں عمر کے نہیں کونین کے سفر میں ہوں کسی زیاں سے کبھی میں نہیں ملول ہوا افتاب اقبال شمیم

دلوں پہ شوق اطاعت کا وہ نزول ہوا
کہا جو اُس نے وہی شہر کا اصول ہوا

فنا کے بعد پیامِ بقا بھی لایا ہے
یہ پھول کل جو اسی راستے کی دھول ہوا

گرفتِ فیصلہ میں آ کے کیا سے کیا ہو جائے
ابھی وہ مثلِ شرر تھا، ابھی وہ پھول ہوا

میں اس کی راکھ کے صدقے، اُڑا دیا جس نے
وجود،جس کے لئے جبر نا قبول ہوا

میں عمر کے نہیں کونین کے سفر میں ہوں
کسی زیاں سے کبھی میں نہیں ملول ہوا

افتاب اقبال شمیم

یہ لامحدود آزادی مگر میرے مقدر میں نہیں ہے کہ میں دیوار میں دیوار جتنا در بنانا چاہتا ہوں افتاب اقبال شمیم

محبت کے ابد آباد میں اک گھر بنانا چاہتا ہوں
بنانا جس کا ممکن تو نہیں ہے، پر بنانا چاہتا ہوں

یہ لامحدود آزادی مگر میرے مقدر میں نہیں ہے
کہ میں دیوار میں دیوار جتنا در بنانا چاہتا ہوں

یہ آنسو جو بہت شوریدہ سر ہے، ضبط میں رکھا ہوا ہے
میں اس کی پرورش کر کے اسے گوہر بنانا چاہتا ہوں

کہیں امکان سے باہر نہ ہو یہ خواہشِ تعمیر میری
کہ میں دنیا کو دنیا سے ذرا بہتر بنانا چاہتا ہوں

زمیں پیرانہ سالی میں جھکے افلاک سے تنگ آ گئی ہے
نیا سورج، نئے تارے، نیا امبر بنانا چاہتا ہوں

یہ دنیا ان گنت اصنام کا اک بت کدہ لگتی ہے مجھ کو
انہیں مسمار کر کے ایک ہی پیکر بنانا چاہتا ہوں

افتاب اقبال شمیم

فقیر ہوں مجھے لٹنے کا ڈر زیادہ نہیں کہ میرے کیسۂِ خواہش میں زر زیادہ نہیں افتاب اقبال شمیم

فقیر ہوں مجھے لٹنے کا ڈر زیادہ نہیں
کہ میرے کیسۂِ خواہش میں زر زیادہ نہیں

کرن کی قید میں ہے آئینے کی بینائی
میں اس کو دیکھ تو سکتا ہوں پر زیادہ نہیں

ہمارے دور میں تو واقعہ بھی کرتب ہے
یہ ہم جو دیکھتے ہیں، معتبر زیادہ نہیں

اور ان میں ایک درِ مے کدہ بھی شامل ہے
غموں سے بچ کے نکلنے کے در زیادہ نہیں

میں اس کی شکل بناتا ہوں، پر نہیں بنتی
قلم کی نوک میں تابِ ہنر زیادہ نہیں

میں اہلِ دل کی ثنا خوانیوں میں رہتا ہوں
بلا سے، نام مرا مشتہر زیادہ نہیں

افتاب اقبال شمیم

Saturday, 17 March 2018

سب کو آتا نہیں دنیا کو سجا کر جینا زندگی کیا ہے، محبت کی زباں سے سنیے

چاند سے، پھول سے یا میری زباں سے سنیے
ہر طرف آپ کا قصہ ہے جہاں سے سنیے

سب کو آتا نہیں دنیا کو سجا کر جینا
زندگی کیا ہے، محبت کی زباں سے سنیے

میری آواز ہی پردہ ہے میرے چہرے کا
میں ہوں خاموش جہاں مجھ کو وہاں سے سنیے

کیا ضروری ہے کہ ہر پردہ اٹھایا جائے
میرے حالات کو اپنے ہی مکاں سے سنیے

ندا فاضلی

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے

یہ تو اُس کا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی ہو درِ دل پہ ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
تم محبت میں کہاں سو د و زیاں لے آئے
عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے
اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے
تو نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ
یہ بھی اک سلسلۂ کُن فیکوں ہے یوں ہے

وہ سخی ہے تو کسی روز بلا کر لے جائے اور مجھے وصل کے آداب سکھا کر لے جائے

وہ سخی ہے تو کسی روز بلا کر لے جائے
اور مجھے وصل کے آداب سکھا کر لے جائے

میرے اندر کسی افسوس کی تاریکی ہے
اس اندھیرے میں کوئی آگ جلا کر لے جائے

یہ مری روح میں ندی کی تھکن کیسی ہے
وہ سمندر کی طرح آئے بہا کر لے جائے

ہجر میں جسم کے اسرار کہاں کھلتے ہیں
اب وہی سحر کرے پیار سے آکر لے جائے

خاک آنکھوں میں ہے وہ خواب کہاں ملتا ہے
جو مجھے قید مناظر سے رہا کر لے جائے

ساقی فاروقی

Friday, 16 March 2018

ملنے کو میں اس کے نئی تدبیر کروں گا خط اور طرح کا اسے تحریر کروں گا اکبر حمیدی

ملنے کو میں اس کے نئی تدبیر کروں گا
خط اور طرح کا اسے تحریر کروں گا
ہے شیخ کی دستارِ فضیلت مرا موضوع
میں شہر کے ہر چوک میں تقریر کروں گا
ہاتھوں میں مرے لوح و قلم آئیں گے جس روز
تقدیر کو تدبیر سے زنجیر کروں گا
آئیں گے اسے دیکھنے بلقیس و سلیماں
اک شہر نئی طرز کا تعمیر کروں گا
تاخیر بھی اندھیرے کی اک شکل نہیں کیا
اندھیر کروں گا نہ میں تاخیر کروں گا
میرے ہی قبیلے کے جوانان جری تھے
وہ میر ہوں غالب ہوں میں توقیر کروں گا
اک خواب جو آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں اکبرؔ
اس خواب کی میں آپ ہی تعبیر کروں گا

اکبر حمیدی

جہاں میں اس کا بھی شاید کوئی ٹھکانہ نہیں مری طرح سے غریب الدّیار ہے سورج

وہ دبدبہ نہ اجالا نہ شان و شوکت ہے
تمہارے سامنے بے اختیار ہے سورج
بچھڑ گئی ہے کہیں چاندنی اندھیرے میں
اُسی کی یاد میں یوں بے قرار ہے سورج
جہاں میں اس کا بھی شاید کوئی ٹھکانہ نہیں
مری طرح سے غریب الدّیار ہے سورج
خلا میں اور بھی روشن کئی ستارے ہیں
تمہارے فن کا مگر شاہکار ہے سورج
یہ اور بات سحر کو نہ کر سکا آزاد
لڑا تو رات سے مردانہ وار ہے سورج
بلند ہم نے کیا تھا علم بغاوت کا
ہمارے خون سے ہی داغدار ہے سورج
نہیں کریں گے کوئی ساز باز اس کے خلاف
دفع ہو رات ہمارا تو یار ہے سورج
یہ چاند تارے سبھی اُس کے ہاں ملازم ہیں
بہت بڑا کوئی سرمایہ دار ہے سورج
کسی نے رات کو پھر اس سے بات کی ہو گی
پھر آج غصہ میں جلتا شرار ہے سورج
چلو یہاں سے کہیں اور اب کریں ہجرت
یہاں تو سر پہ ہمیشہ سوار ہے سورج
کہیں پہ ایک بھڑکتا ہوا جہنّم ہے
کہیں پہ صرف محبت ہے پیار ہے سورج
بڑے بڑوں کو یہاں سے اکھاڑ ڈالا ہے
اگرچہ یوں تو نحیف و نزار ہے سورج
کہیں اٹھا کے اسے اب سنبھال کر رکھو
گئے دنوں کی کوئی یاد گار ہے سورج
خلا میں تاکہ وہ ہارے نہ حوصلہ اپنا
زمیں کے نام کسی کی پکار ہے سورج
کہیں پہ بیٹھ کے آرام کیوں نہیں کرتا
ہوا کے گھوڑے پہ ہر دم سوار ہے سورج
نیا ستارہ کوئی آسماں سے ٹوٹا ہے
کئی دنوں سے بہت سوگوار ہے سورج
ہمیشہ ڈرتے ہوئے اس سے ملنے جاتا ہوں
نہ جانے نور ہے تیرا کہ نار ہے سورج

احمد فواد

کوئی مر جائے تو کیوں کہتے ہو یوں ہے ، یوں ہے دَرد کے آخری دَرجے پہ سُکوں ہے ، یوں ہے

کوئی مر جائے تو کیوں کہتے ہو یوں ہے ، یوں ہے
دَرد کے آخری دَرجے پہ سُکوں ہے ، یوں ہے

جسم سینے کے جو ماہر ہیں اُنہیں کیا معلوم
زَخم کی نوک فقط دِل سے بروں ہے ، یوں ہے

آئینہ نقل کرے تیری ؟ کہاں ممکن ہے
ذائقہ ، خوشبو ، صدا ، لمس ، فُزُوں ہے ، یوں ہے

عاشقی رَدِ عمل حُسن کی رَعنائی کا
حُسن کے سامنے ہر عشق نگوں ہے ، یوں ہے

کُن کہا یا مرے معبود ہمیں سمجھایا ؟
کُن کہے عشق تو دُنیا فیکوں ہے ، یوں ہے

بعض شعروں سے تو ہم پھر سے جنم لیتے ہیں
شاعری ذِہن کی خلقت کا فُسُوں ہے ، یوں ہے

حُسنِ اِدراک بنا حورُوں کا جھرمٹ بے کار
مَنّ و سَلویٰ بھی بنا ذوق کے دُوں ہے ، یوں ہے

عشق کی تال پہ دَھڑکے تو اُسے دِل کہیے
عشق تو جان مری ، رُوح کا خُوں ہے ، یوں ہے

وُہ تو کہتے ہیں کہ بس آج بہت بوسے دِئیے
مسئلہ میرا اَبھی جُوں کا ہی تُوں ہے ، یوں ہے

ہم نے یک طرفہ محبت میں جلا دی کشتی
یار کی سمت سے نہ ہاں ہے نہ ہُوں ہے ، یوں ہے

زَہر کے خالی پیالے نے یہ سمجھایا قیسؔ
عقل کے آخری دَرجے پہ جنوں ہے ، یوں ہے

شہزادقیس

زرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے سمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہے

ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے

سمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہے

کھلی چھتوں کے دیئے کب کے بجھ گئے ہوتے

کوئی تو ہے جو ہواؤں کے پر کترتا ہے

شرافتوں کی یہاں کوئی اہمیت ہی نہیں

کسی کا کچھ نہ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے

یہ دیکھنا ہے کہ صحرا بھی ہے سمندر بھی

وہ میری تشنہ لبی کس کے نام کرتا ہے

تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں

زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے

زمیں کی کیسی وکالت ہو پھر نہیں چلتی

جب آسماں سے کوئی فیصلہ اترتا ہے

وسیم بریلوی

Thursday, 15 March 2018

نرمی مخالفوں سے سختی موافقوں سے واں موم سے بنے ہو یاں لوہے سے کڑے ہو

نرمی مخالفوں سے سختی موافقوں سے
واں موم سے بنے ہو یاں لوہے سے کڑے ہو
مل جاؤ مغبچوں سے تو داڑھی ہو تبرک
ہر چند شیخ صاحب تم بوڑھے ہو بڑے ہو

ہوتے ہیں خاک رہ بھی لیکن نہ میرؔ ایسے
رستے میں آدھے دھڑ تک مٹی میں تم گڑے ہو
میر تقی میر

جانے دے مت اس قدر اب زلف و خط و خال دیکھ حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میرؔ اپنا حال دیکھ

جانے دے مت اس قدر اب زلف و خط و خال دیکھ
حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میرؔ اپنا حال دیکھ
کیا مری طول پریشانی کی حیرت ہم نفس
آنکھیں تو دی ہیں خدا نے اس کے لپٹے بال دیکھ

چشم و دل کا اس سے لگ جانا تو تھا جس تس طرح
جی بھی ان بالوں میں الجھا اور یہ جنجال دیکھ
میر تقی میر

تری تلاش کی میٹھی کسک سے لطف لیا یقین توڑنے والے نے شک سے لطف لیا


تری تلاش کی میٹھی کسک سے لطف لیا
یقین توڑنے والے نے شک سے لطف لیا

سو ماند پڑتے ہوۓ حسن کو کیا تسلیم
کہ آفتاب کی دھندلی چمک سے لطف لیا

ترے نفس کی حرارت ہوئی نظر انداز
ترے لباس کی بھینی مہک سے لطف لیا

تمام عمر ترے در پہ ہی پڑے رہے ہیں
تمام عمر ترے ہی نمک سے لطف لیا

وہ انتظار تھا اس کا کہ دیکھتے ہی اسے
ذرا قریب کیا پورے حق سے لطف لیا

سید ضامن  عباس

جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا یہ کُل مِلا کر بھی ہجر کی رات میرے گِریے سے کم بنے گا


جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا
یہ کُل مِلا کر بھی ہجر کی رات میرے گِریے سے کم بنے گا

میں دشت ہوں' یہ مغالطہ ہے' نہ شاعرانہ مبالغہ ہے
مِرے بدن پر کہیں قدم رکھ کے دیکھ ' نقشِ قدم بنے گا

ہمارا لاشہ بہاو ورنہ لحَــد مقدّس مزار ہو گی
یہ سرخ کُرتا جلاؤ ورنہ' بغاوتوں کا علَم بنے گا

تو کیوں نہ ہم پان سات دن تک مزید سوچیں بنانے سے قبل !
مِری چَھٹی حِس بتا رہی ہے، یہ رشتہ ٹوٹے گا، غم بنے گا

مجھ ایسے لوگوں کا ٹیڑھ پَن قدرتی ہے' سو اعتراض کیسا؟
شدید نم خاک سے جو پیکر بنے گا' یہ طے ہے' خم بنے گا

سنا ہوا ہے ۔۔۔ جہاں میں بے کار کچھ نہیں ہے' سو جی رہے ہیں
بنا ہوا ہے یقیں کہ اِس رایگانی سے کچھ اہَــم بنے گا

کہ شاہ زادے کی عادتیں دیکھ کر سبھی اِس پہ متّفق ہیں
یہ جوں ہی حاکِم بنا، محَل کا وســیع رقبہ حرم بنے گا

میں ایک ترتیب سے لگاتا رہا ہوں اب تک سکوت اپنا
صدا کے وقفے نکال' اِس کو شروع سے سُن، ردھم بنے گا !

سفید رومال جب کبوتر نہیں بنا تو وہ شعبدہ باز
پلٹنے والوں سے کہہ رہا تھا، رکو ! خدا کی قسَم ! بنے گا

( عُمیــر نجــمـیؔ )

سورج کے پاس دھوپ نہ پانی ندی کے پاس مٹی کا ایک جسم ہے خالی سبھی کے پاس

سورج کے پاس دھوپ نہ پانی ندی کے پاس
مٹی کا ایک جسم ہے خالی سبھی کے پاس
کیا حادثہ ہوا کہ نشاں تک نہیں بچا
پہلے تو ایک گھر تھا یہاں اس گلی کے پاس
کیوں پتھروں سے پھوڑ کے سر بیٹھ جائیے
کیوں زندگی کو دیکھئے بےچارگی کے پاس
آنکھیں اگر نہ بھیگیں تو ہرگز غزل نہ ہو
اگتے ہیں پیڑ پودے ہمیشہ نمی کے پاس
الزام جتنا چاہیں لگائیں خوشی سے آپ
کب گندگی پہنچتی ہے پاکیزگی کے پاس
آنسو، چبھن، مصیبتیں، دکھ درد، *ویدنا
ہر دل کی *سمپداہے میری شاعری کے پاس
وہ پیڑ کیسا دھوپ میں تپ کر نکھر گیا
سایہ مسافروں کو ملا بس اسی کے پاس
٭٭
*ویدنا: درد، تکلیف
*سمپدا: املاک

شیلیش زیدی

ﺍﻧﮕﮍﺍﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ

ﺍﻧﮕﮍﺍﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﮔﺌﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭼﺮﺍ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﺎ ﺳﺘﻢ ﮨﮯ ﺣﻨﺎ ﺗﻮ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﻏﯿﺮ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﺍﺩ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮨﻮﮐﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﺮ ﮔﺮﺍ
ﭨﮭﻮﮌﯼ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﮬﺮﺍ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﻗﺎﺻﺪ ﺗﺮﮮ ﺑﯿﺎﮞ ﺳﮯ ﺩﻝ ﺍﯾﺴﺎ ﭨﮭﮩﺮ ﮔﯿﺎ
ﮔﻮﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﮧ ﺁ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﺍﮮ ﺩﻝ، ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺭﻏﺒﺖ ﻧﮧ ﺩﮮ ﻣﺠﮭﮯ
ﺳﻨﻨﯽ ﭘﮍﯾﮟ ﮔﯽ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﮐﮩﮧ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﻧﺎ ﺳﺪﺍ ﻣﺠﮭﮯ
ﻭﮦ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﻨﺎ ﭘﺮﺩﮮ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺭﮐﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺗﭙﺎﮎ ﺳﮯ
ﮔﺮﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮯ ﺁﭖ ﺁ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﮐﻮﭼﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺍُﭨﮭّﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﮩﺎﮞ
ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎﮞ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﭘﮩﭽﺎﻧﺎ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﯽ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ
ﭘﻨﮉﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ

ﺩﯾﻨﺎ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﻏﺮِ ﻣﮯ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﻧﻈﺎﻡ
ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﮐﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﮐﻮ ﺍِﺩﮬﺮ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ

میں جـــــــانتا ہوں ضرورت نہیں رہے گی مجھــــــے وہ مل گیا تـــــــــــــو محبت نہیں رہــــــے گی مجھـــــے

میں جـــــــانتا ہوں ضرورت نہیں رہے گی مجھــــــے
وہ مل گیا تـــــــــــــو محبت نہیں رہــــــے گی مجھـــــے
اگـــــــــــــــــر یــــــــــــہ شہـــــــــر مـــــــــرا اعتبار کـــرنے لــــــــــــگا
تو گاؤں جانے کی حسرت نہیں رہے گی مجھـــــے
میں اپنــــــــــے خــــــواب کا مـــــنکر اسی لیے ہوا ہوں
تمھاری آنکھ ســـــــــے نسبت نہیں رہے گی مجھـــــــے
مـــــــرا یقین کر اس کو مـــــــــری طــــــــــرف نــــــــــــہ بلا
وہ آگیا تــــــــــــــو عـداوت نہیں رہــــــــــــے گی مجھـــــــے
برابر اس نـــــــے مجھــــــــــے آئنــــــــــے ســـــــے دور رکھــــا
اســـــے خبر تھی اذیت نہیں رہـــــــــــــــے گی مجھــــــــے

زمانہ  ســــــــــاز گھڑی ہــــــــــــے مــــــــــــــرے ہنر کو پرکھ
پھر اِس کے بعد یہ مہلت نہیں رہے گی مجھــــــــے

عقیل ملک

یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ

یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ
سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ
کھل گیا منھ اب تو اس محجوب کا
کچھ سخن کی بھی نکل آوے گی راہ
شرم کرنی تھی مرا سر کاٹ کر
سو تو ان نے اور ٹیڑھی کی کلاہ
شیخ تو نے خوب سمجھا میرؔ کو
واہ وا اے بے حقیقت واہ واہ

میر تقی میر

زلف، انگڑائی، تبسم، چاند، آئینہ، گلاب بھکمری کے مورچے پر ڈھل گیا ان کا شباب

زلف، انگڑائی، تبسم، چاند، آئینہ، گلاب
بھکمری کے مورچے پر ڈھل گیا ان کا شباب
پیٹ کے بھوگول میں الجھا ہوا ہے آدمی
اس عہد میں کس کو فرصت ہے پڑھے دل کی کتاب
اس صدی کی تشنگی کا زخم ہونٹوں پر لئے
بے یقینی کے سفر میں زندگی ہے اک عذاب
چار دن فٹ پاتھ کے سائے میں رہ کر دیکھیئے
ڈوبنا آسان ہے آنکھوں کے ساگر میں جناب

عدم گونڈوی

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے حصارِ رنگ سے نکلیں تو بات بنتی ہے

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے
حصارِ رنگ سے نکلیں تو بات بنتی ہے
کسی کسی کو زمانہ فروغ دیتا ہے
کسی کسی کی زمانے کے سات بنتی ہے
نقوشِ ریگ سہی، تو بھی کچھ بنا کے تو دیکھ
کہ رفتہ رفتہ یونہی کائنات بنتی ہے
مرے نجوم پہ اب مستقل اندھیرا ہے
تری نگاہ میں کب چاند رات بنتی ہے
خلاء میں رام کئی بار غور سے دیکھا
کسی کی آنکھ ہی وجہِ ثبات بنتی ہے

رام ریاض

وہ مثلِ آئینہ دیوار پر رکھا ہوا تھا جو اک انعام میری ہار پر رکھا ہوا تھا


وہ مثلِ آئینہ دیوار پر رکھا ہوا تھا
جو اک انعام میری ہار پر رکھا ہوا تھا

میں بائیں ہاتھ سے دشمن کے حملے روکتا تھا
کہ دایاں ہاتھ تو دستار پر رکھا ہوا تھا

وہی تو ایک صحرا آشنا تھا قافلے میں
وہ جس نے آبلے کو خار پر رکھا ہوا تھا

وصال و ہجر کے پھل دوسروں کو اس نے بخشے
مجھے تو رونے کی بیگار پر رکھا ہوا تھا

خط تقدیر کے سفاک و افسردہ سرے پر
مرا آنسو بھی دست یار پر رکھا ہوا تھا

فلک نے اس کو پالا تھا بڑے ناز و نعم سے
ستارہ جو ترے رخسار پر رکھا ہوا تھا

وہی تو زندہ بچ کے آئے ہیں تیری گلی سے
جنہوں نے سر تری تلوار پر رکھا ہوا تھا

وہ صبح و شام مٹی کے قصیدے بھی سناتا
اور اس نے ہاتھ بھی غدار پر رکھا ہوا تھا

ترے رستے میں میری دونوں آنکھیں تھیں فروزاں
دیا  تو  بس  تیرے  اصرار  پر  رکھا  ہوا  تھا

سرخ سنہری پیلی کی ایجاد ہوئی تجھ کو دیکھ کے چھتری کی ایجاد ہوئی

سرخ سنہری پیلی  کی ایجاد ہوئی
تجھ کو دیکھ کے چھتری کی ایجاد ہوئی
تجھ کو دریا پار سے دیکھا کرتے تھے
پھر بستی میں  کشتی کی  ایجاد  ہوئی
میں نے تیرے ہاتھ پہ اپنا نام لکھا
اور دنیا میں تختی کی ایجاد ہوئی
ہم نے پہلا گھر سنسار بسایا تھا
تالے کی اور چابی کی ایجاد ہوئی
صحن میں اور کمرےمیں کتنی دوری تھی
دروازے اور کھڑکی کی  ایجاد  ہوئی
تیرا جسم زمیں پر میلا ہوتا تھا
تخت بنا اور کرسی کی ایجاد ہوئی
تیرے وصل سے گرمی کو آغاز ملا
تیرے ہجر سے سردی کی ایجاد ہوئی
اک دن مجھ  کو اپنے آپ سے عشق ہوا
اور پسلی سے لڑکی کی ایجاد ہوئی

تجھ سے پہلے سب کچھ سب کا ہوتا تھا
تو آئی خودغرضی  کی ایجاد ہوئی

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں


عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں

یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں

یہ احتجاج سمندر کے دم کو کافی ہے
کسی کنارے پہ دو چار پیاسے مر جائیں

فسادیوں کو میں اس شرط پر رہا کروں گا
کہ فاختہ کے پروں کی ہوا سے مر جائیں

تو اپنے لہجے کی رقت کو تھوڑا کم کر دے
فقیر ! لوگ نہ تیری صدا سے مر جائیں

اٹھا کے پھرتے ہیں ہم آپ صرف نام تو لیں
قسم سے آپ تو کاسے کی 'کا' سے مر جائیں

راکب مختار

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے
پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے
میں بھی رکتا ہوں مگر ریگ رواں کی صورت
میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے
تیرے جاتے ہی میں شکنوں سے نہ بھر جاؤں کہیں
کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے
جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر
خواب میں نقل مکانی کی طرح ہوتا ہے

چاند ڈھلتا ہے تو اس کا بھی مجھے دکھ فیصلؔ
کسی گم گشتہ نشانی کی طرح ہوتا ہے

میں جانتا ہوں عدو سےبھی پیارواجب ہے ملن سے پہلے شب انتظار واجب ہے

میں جانتا ہوں عدو سےبھی پیارواجب ہے
ملن سے پہلے شب انتظار واجب ہے
ہمیشہ جیت کے رہنا کوئی کمال نہیں
کبھی کبھی تو حقیقت میں ہار واجب ہے
اے حسن سادہ یہ نکتہ مجھے تو سمجھا دے
کہ دلکشی کےلیے بھی سنگھار واجب ہے ؟
کوئی پئے ، نہ پئے ، مےکشوں کا شیوہ ہے
ہو جام ہاتھ میں تو پھر خمار واجب ہے
برا ہے کیا جو خوشی اپنی بیچتے ہیں ہم
کہ مفلسی میں تو ہر کاروبار واجب ہے
جہاں خلوص ہو عابد فریب کا باعث
وہاں فریب پہ بھی اعتبار واجب ہے
عابد بنوی
تمھاری زلف سنورنے میں دیر لگتی ہے
کہ سرد رات کے ڈھلنے میں دیر لگتی ہے
یہ ٹھیک ہے کہ بہت جلد مان جاتا ہے
تمھی کہو کہ مُکرنے میں دیر لگتی ہے
یہ دل نہ ماننا چاہے تو مانتا ہی نہیں
ذرا سی بات سمجھنے میں دیر لگتی ہے
میں جس بلندی پہ بیٹھا ہوا ہوں اے واعظ
مجھے یہاں سے اترنے میں دیر لگتی ہے

کلیم احسان بٹ

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...