Monday, 30 April 2018

جب سے دیکھا ہے ترے چہرے کو اس شہر کے لوگ! پھول باغیچہ و گلدان کہاں دیکھتے ہیں

جیت اور ہار کا امکان کہاں دیکھتے ہیں
گاؤں کے لوگ ہیں نقصان کہاں دیکھتے ہیں
جب سے دیکھا ہے ترے چہرے کو اس شہر کے لوگ!
پھول باغیچہ و گلدان کہاں دیکھتے ہیں
قیمتی شے تھی ترا ہجر اٹھائے رکھا
ورنہ سیلاب میں سامان کہاں دیکھتے ہیں
مجھ کو افلاک سے ہجرت کی صدا آتی ہے،
آدمی عشق میں زندان کہاں دیکھتے ہیں
عامرؔ اس تخت میں تابوت نظر آتا ہے
دیکھتے ہم ہیں یہ دربان کہاں دیکھتے ہیں

مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا میں دوستوں کی حراست ميں مارا جاؤں گا

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس مروت ميں مارا جاؤں گا

میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا

مجھے بتایا ہوا ہے مری چھٹی حس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا

مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست ميں مارا جاؤں گا

یہاں کمان اٹھانا مری ضرورت ہے
وگرنہ میں بھی شرافت میں مارا جاؤں گا

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

فراغ میرے لیے موت کی علامت ہے
میں اپنی پہلی فراغت میں مارا جاؤں گا

نہیں مروں گا کسی جنگ میں یہ سوچ لیا
میں اب کی بار محبت میں مارا جاؤں گا

قُرباں ترے کہ اک نگہ التفات نے دل کی جھِجک کو جراءت رندانہ کر دیا ۔

ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا
رندوں نے کائنات کو میخانہ کر دیا
۔
اے حُسن! داد دے کہ تمنائے عشق نے
تیری حیا کو عشوہء تُرکانہ کر دیا
۔
قُرباں ترے کہ اک نگہ التفات نے
دل کی جھِجک کو جراءت رندانہ کر دیا
۔
صد شکر درسِ حکمتِ ناحق شناس کو
ھم نے رہینِ نعرہء مستانہ کر دیا
۔
کچھ روز تک تو نازشِ فرزانگی رہی
آخر ہجومِ عقل نے دیوانہ کر دیا
۔
دُنیا نے ہر فسانہ حقیقت بنا دیا
ہم نے حقیقتوں کو بھی افسانہ کر دیا
۔
آواز دو کہ جنسِ دو عالم کو جوش نے
قربانِ یک تبسّمِ جانانہ کر دیا​

کب کسی قرب کی جنت کا تمنائی ہے یہ ترے ہجر کے دوزخ سے گزارا ہوا شخص

بخت کے تخت سے یکلخت اتارا ہوا شخص
تُو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص

ہم تو مقتل میں بھی آتے ہیں بصد شوق و نیاز
جیسے آتا ہے محبت سے پکارا ہوا شخص

کب کسی قرب کی جنت کا تمنائی ہے
یہ ترے ہجر کے دوزخ سے گزارا ہوا شخص

بعد مدت کے وہی خواب ہے پھر آنکھوں میں
لوٹ آیا ہے کہیں جا کے سِدھارا ہوا شخص

اب اندھیرے ہیں کہ لیتے ہیں بلائیں اُس کی
روشنی بانٹ گیا دیپ پہ وارا ہوا شخص

موت کے جبر میں ڈھونڈی ہیں پناہیں اس نے
زندگی یہ ہے ترے لطف کا مارا ہوا شخص

میں چل پڑا ہوں اندھیرے کی انگلیاں تھامے اترتی شام کے رخ کا جمال ایسا تھا

ہر ایک رنگ دھنک کی مثال ایسا تھا
شب وصال تمھارا جمال ایسا تھا

ہوا کے ہاتھ پہ چھالے ہیں آج تک موجود
مرے چراغ کی لو میں کمال ایسا تھا

میں چل پڑا ہوں اندھیرے کی انگلیاں تھامے
اترتی شام کے رخ کا جمال ایسا تھا

ذرا سی دیر بھی ٹھہرا نہیں ہوں موجوں میں
سمے کے بحر میں اب کے اچھال ایسا تھا

وہ سر اٹھائے یہاں سے پلٹ گیا آبشار
میں سر جھکائے کھڑا ہوں سوال ایسا تھا

شہرت کے مول خوب لگے شہر میں مگر ہم محترم کہاں تھے جو کردار بیچتے

سر کو بچاتے یا درودیوار بیچتے
سر کی حفاظتوں میں کیا دستار بیچتے

شہرت کے مول خوب لگے شہر میں مگر
ہم محترم کہاں تھے جو کردار بیچتے

اس کانپتی زمیں نے سب خاک کر دیا
ورنہ ہم آرزؤں کے مینار بیچتے

ہوتا جو اختیار مرے ہاتھ میں تو پھر
بستے خرید لاتے یہ ہتھیار بیچتے

قانون کو جو سیماؔ سمجھ لیتے آج ہم
تو بھوک اور جہل کے آزار بیچتے

Sunday, 29 April 2018

اس کو پردے کا تردد نہیں کرنا پڑتا ایسا چہرہ ہے کہ دیکھیں تو حیا آتی ہے

اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے
کہ جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے

میں نے زندان میں سیکھا تھا، اسیروں سے، اک اِسم
جس کو دیوار پہ پھونکیں تو ہوا آتی ہے

خوب رونق تھی اِن آنکھوں میں، پھر اک خواب آیا
ایسے، جیسے کسی بستی میں وبا آتی ہے

لڑنے جاتے ہیں کہ کچھ مالِ غنیمت لے آئیں
اور پھر گھر کی طرف سرخ زرہ آتی ہے

اس کو پردے کا تردد نہیں کرنا پڑتا
ایسا چہرہ ہے کہ دیکھیں تو حیا آتی ہے

ٹھیک ہے، ساتھ رہو میرے، مگر ایک سوال
تم کو وحشت سے حفاظت کی دعا آتی ہے؟ :)

صحن میں پھرتی ہے برسوں کی سدھائی ہوئی یاد
جب بھی پُچکار کے کہتا ہوں کہ "آ"، آتی ہے!

Saturday, 28 April 2018

مٹا کر رکھ دیے ہیں یوں ہزاروں بے زباں تو نے نہ رکھا اپنے عہدِ ظلم کا کوئی نشاں تو نے

خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے
لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے

مٹا کر رکھ دیے ہیں یوں ہزاروں بے زباں تو نے
نہ رکھا اپنے عہدِ ظلم کا کوئی نشاں تو نے

تجھ فوراَ ہی میرا قصہ روک دینا تھا
ترا دکھتا تھا دل تو کیوں سنی تھی داستاں تو نے

ہرے پھر کر دیے زخمِ جگر صیاد بلبل کے
قفس کے سامنے کہہ کر گلوں کی داستاں تو نے

اسی وعدے پہ کھائی تھی قسم روئے کتابی کی
اسی صورت میں قرآں کو رکھا تھا درمیاں تو نے

عدو کہتے ہیں اب سہرا فصاحت کا ترے سر ہے
قمر بالکل بنا دی ہے تو نے دلھن اردو زباں تو نے

Friday, 27 April 2018

میں سب کے پاس ہوں پر کوئی میرے پاس نہیں کسی تماشے یا سرکس کا اشتہار ہوں میں

کبھی ہنسی، کبھی آنسو کبھی غُبار ہوں میں
مجھے کھنگالو کہ جذبوں کا ریگ زار ہوں میں

بدن ہے کانچ کا لیکن محققو ٹھہرو
سنبھل کے ہاتھ لگانا کہ سنگسار ہوں میں

ہر التجا مجھے ٹھکرا کے لوٹ جاتی ہے
خلا میں کوئی معلق سا کوہسار ہوں میں

میں سب کے پاس ہوں پر کوئی میرے پاس نہیں
کسی تماشے یا سرکس کا اشتہار ہوں میں

سمٹ گیا ہوں تو اچھا ہے ٹھوس کی صورت
مجھے نہ چھیڑو کہ تخریب کا غبار ہوں میں

Thursday, 26 April 2018

میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے

عکس کی صورت دکھا کر آپ کا ثانی مجھے
ساتھ اپنے لے گیا بہتا ہوا پانی مجھے

میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے

اس طرح قحط ہوا کی زد میں ہے میرا وجود
آندھیاں پہچان لیتی ہیں بہ آسانی مجھے

بڑھ گیا اس رت میں شاید نکہتوں کا اعتبار
دن کے آنگن میں لبھائے رات کی رانی مجھے

منجمد سجدوں کی یخ بستہ مناجاتوں کی خیر
آگ کے نزدیک لے آئی ہے پیشانی مجھے

زنجیر کوئی لا مری وحشت کے برابر اس حلقۂ مژگاں میں ٹھہرنے کا نہیں میں

سمجھوتہ کوئی وقت سے کرنے کا نہیں میں
اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں

زنجیر کوئی لا مری وحشت کے برابر
اس حلقۂ مژگاں میں ٹھہرنے کا نہیں میں

کل رات عجب دشتِ بلا پار کیا ہے
سو بادِ سحر سے تو سنورنے کا نہیں میں

کیوں مملکتِ عشق سے بے دخل کیا تھا
اب مسندِ غم سے تو اترنے کا نہیں میں

دم بھر کے لیے کوئی سماعت ہو میسّر
بے صوت و صدا جاں سے گزرنے کا نہیں میں

اب چشمِ تماشا کو جھپکنے نہیں دینا
اس بار جو ڈوبا تو ابھرنے کا نہیں میں

ہر شکل ہے مجھ میں مری صورت کے علاوہ
اب اس سے زیادہ تو نکھرنے کا نہیں میں


Wednesday, 25 April 2018

دیکھ کر ضبط میرا، دشت نے پاؤں پکڑے پھر میری پیاس پہ کہتے ہیں سمندر ناچا


اس نے یکبار جو محفل میں اُٹھائیں پلکیں
دستِ ساقی کبھی بوتل، کبھی ساغر ناچا
دھڑکنیں وجد کناں ہو کے ہوئیں چُپ ایسے
جب میرے دل پہ میرے یار کا خنجر ناچا
کیا کہیں کتنی دراڑوں نے زباں کھولی ہے
دل کے شیشے پہ جو اک ہجر کا کنکر ناچا
وقتِ رخصت میری پلکوں سے لہو بھی نچڑا
پھر میرا ضبط میری آنکھ میں آ کر ناچا
دیکھ کر ضبط میرا، دشت نے پاؤں پکڑے
پھر میری پیاس پہ کہتے ہیں سمندر ناچا
یار نے دیکھ لیا جب ثاقب دلِ خستہ کو
پھر یہ پاگل، سرِ محفل، سرِ محشر ناچا

Monday, 23 April 2018

یوں لگتا ہے صدیاں ہوئی اُس شخص کو دیکھے حالانکہ جسے میں نے فقط کل نہیں دیکھا


اک پل بھی اُسے آنکھ سے اُوجھل نہیں دیکھا
میں پھر بھی یہ کہتا ہوں مکمل نہیں دیکھا
میں نے تو گزرتے ہوئے دیکھا تھا اسے لیکن
وہ دل کا بہت سخت تھا اک پل نہیں  دیکھا
کچھ دن سے ہوا حبس زدہ شہر کا موسم
کچھ دن سے فلک پر کوئی بادل نہیں دیکھا
یوں لگتا ہے صدیاں ہوئی اُس شخص کو دیکھے
حالانکہ جسے میں نے فقط کل نہیں دیکھا
جو تجھ سے گریزاں ہے اُسی شخص کی باتیں
جرارؔ کہیں تجھ سا کوئی پاگل نہیں دیکھا

کتنے ہیرے میری آنکھون سے چُرائے تو نے چَند پتھر میری جھولی میں گِرانے والے


موج خوشــــبو کی طرح،، بات اُڑانے والے
تُجھ میں پہلے تو نہ تھے رنگ زمانے والے
کتنے ہیرے میری آنکھون سے چُرائے تو نے
چَند پتھر میری جھولی میں گِرانے والے
خوں بہا اگلی بہاروں کا تیرے سر تو نہیں
خُشک ٹہنی پہ نیا پُھول کِھلانے والے
آ تجھے نظر کروں اَپنی ہی شہہ رگ کا لہو
میرے دُشــــمں میری توقیر بڑھانے والے
آستینوں میں چھپائے ہوئے خنجر آئے
مجھ سے یاروں کی طرح ہاتھ مِلانے والے
ظلمتِ شب سے شکایت اُنہیں کیسی محسنؔ
وہ تو سُورج کو تھے آئینہ دکھانے والے

"میں قامتِ نیزہ پہ بھی اٹّھا ہوا سر ہوں” سلطان! تری جیت مری ہار سے کم ہے


بیعت کی صدی لمحۂ انکار سے کم ہے
سردار! تری عمر سرِ دار سے کم ہے
اس بات پہ شاہد ہے یہ مشکیزہ ء خالی!
اک گھونٹ کی وقعت مرے پندار سے کم ہے
حق یہ ہے کہ اک نکتۂ پاراں کے سوا بھی
دربار میں جو کچھ ہے درِ یار سے کم ہے
میں خاک نشینوں کے نشاں دیکھنے والا
کرسی کی بلندی مرے معیار سے کم ہے
"میں قامتِ نیزہ پہ بھی اٹّھا ہوا سر ہوں”
سلطان! تری جیت مری ہار سے کم ہے
یہ وار مرے دل کے بہت پاس سے ہوگا
خطرہ ہے مگر غیر کی تلوار سے کم ہے
لگتا ہے زمانے کا چلن یوں ہی رہے گا
اس بار بھی قیمت مری ہر بار سے کم ہے
شکوہ ہے مگر کس سے ، یہ کچھ نہیں کھلتا
سچ یہ ہے کہ اس عشق کے آزار سے کم ہے

میں ادا کروں کہ قضا کروں ، اسی کشمکش میں بسر ہوئی یونہی سجدہ گاہِ حیات سے میں گناہگار چلا گیا


وہ کلاہِ کج ، وہ قبائے زر ،سبھی کچھ اُتار چلا گیا
ترے در سے آئی صدا مجھے ، میں دِوانہ وار چلا گیا
کسے ہوش تھا کہ رفو کرے یہ دریدہ دامنِ آرزو
میں پہن کے جامۂ بیخودی سرِ کوئے یار چلا گیا
مری تیزگامئ شوق نے وہ اُڑائی گرد کہ راستہ
جو کھلا تھا میری نگاہ پر وہ پسِ غبار چلا گیا
نہ غرورِ عالمِ آگہی ، نہ جنون و جذبۂ بیخودی
مئے عشقِ خانہ خراب کا ہر اک اعتبار چلا گیا
تری کائناتِ جمال میں جو عطائے دستِ مجال تھا
مرے شوقِ افسوں طراز کا وہی اختیار چلا گیا
میں ادا کروں کہ قضا کروں ، اسی کشمکش میں بسر ہوئی
یونہی سجدہ گاہِ حیات سے میں گناہگار چلا گیا
ترے آستاں سے گلہ نہیں ، دلِ سوختہ ہی عجیب ہے
کبھی بے سکون ٹھہر گیا ، کبھی بے قرار چلا گیا
تری جلوہ گاہِ نیاز میں، ہے کوئی تماشۂ آرزو !
کبھی تابِ دید نہ آسکی ،کبھی انتطار چلا گیا
مجھے کاروبارِ وفا ملا ، وہ متاعِ صبر و غنا ملی
مرے دن ظہیرؔ بدل گئے ، غمِ روزگار چلا گیا

غرور اس کا بھی کچھ تھا جدائیوں کا سبب کچھ اپنے سر میں بھی شاید ہوا زیادہ تھی


نہ جانے ظرف تھا کم یا انا زیادہ تھی
کلاہ سر سے تو قد سے قبا زیادہ تھی
رمیدگی تھی تو پھر ختم تھا گریز اس پر
سپردگی تھی تو بے انتہا زیادہ تھی
غرور اس کا بھی کچھ تھا جدائیوں کا سبب
کچھ اپنے سر میں بھی شاید ہوا زیادہ تھی
وفا کی بات الگ پر جسے جسے چاہا
کسی میں حسن، کسی میں ادا زیادہ تھی
فراز اس سے وفا مانگتا ہے جاں کے عوض
جو سچ کہیں تو یہ قیمت ذرا زیادہ تھی

Friday, 20 April 2018

تو بچھڑ رھا ھے تو سوچ لے تیرے ھاتھ ھے میری زندگی تجھے روکنا میری موت ھے ، میری بے بسی کا خیال کر

نہ بجھا چراغ دیار دل نہ بچھڑنے کا تو ملال کر
تجھے دے گی جینے کا حوصلہ میری یاد رکھ لے سنبھال کر

یہ بھی کیا کہ ایک ھی شخص کو کبھی سوچنا کبھی بھولنا
جو نہ بجھ سکے وہ دیا جلا جو نہ ھو سکے وہ کمال کر

غم آرزو مری جستجو میں سمٹ کے آ گیا روبرو
یہ سکوت مرگ ھے کس لئے ، میں جواب دوں تو سوال کر

تو بچھڑ رھا ھے تو سوچ لے تیرے ھاتھ ھے میری زندگی
تجھے روکنا میری موت ھے ، میری بے بسی کا خیال کر

یہ جو ایک ساعت وصل ھے ، سر سطح ذہن جمی ھوئی
اسی ایک ساعت وصل کو کبھی ماہ کر کبھی سال کر

میرے درد کا ، میرے ضبط کا ، میری بے بسی ، میرے صبر کا
جو یقیں نہ آئے تو دیکھ لے تو ھوا میں پھول اچھال کر

تیری سرحدوں پہ میں کیوں رکوں ، مجھے روک مت ، مجھے جانے دے
میری ساری عمر سفر کی ھے مجھے اس قدر نہ نڈھال کر

جو خوشی ملی وہ قبول کر، مجھے چھوڑ دے ، مجھے بھول جا
میں ھوں جاذب ستم آشنا ، تو بس اپنے گھر کا خیال کر

جتنی پیڑوں میں نظر آتی ہے تقلیب کے بعد یہ زمیں اتنی پر اسرار نہیں ہو سکتی


چاند چھونے کی طلب گار نہیں ہو سکتی
کیا مری خاک چمک دار نہیں ہو سکتی
ہو نہ ہو اپنی بصارت نے مجھے روکا ہے
غیب جاتے ہوئے دیوار نہیں ہو سکتی
جتنی پیڑوں میں نظر آتی ہے تقلیب کے بعد
یہ زمیں اتنی پر اسرار نہیں ہو سکتی
میں نے ڈھونڈا ہے چراغوں کی لوؤں میں تجھ کو
تو ستارے میں نمودار نہیں ہو سکتی
یہ زمینوں پہ لہکتی ہوئی گندم کی مہک
آسمانوں کی طرف دار نہیں ہو سکتی
میں کسے خواب سنانے کے لیے آیا ہوں
شب اگر نیند سے بیدار نہیں ہو سکتی
جس نے آنسو پہ قناعت کا چلن سیکھا ہو
وہ نظر خوگر دینار نہیں ہو سکتی

ہم فقیروں کے لیے شاہ و گدا ایک سے ہیں بات کرنا بھی تو لہجہ ذرا دھیما کر کے

اپنے ہی گھر کے دروبام سے جھگڑا کر کے
میں نکل آیا ہوں کمرے کو اکیلا کر کے

جاؤ تم خواب کنارے پہ لگاؤ خیمے
میں بھی آتا ہوں ذرا شام کو چلتا کر کے

پہلے پہلے یہاں جنگل تھا گھنیرا جنگل
کاٹنے والوں نے چھوڑا اسے رستہ کر کے

وہ شب و روز، مہ و سال، وہ بکھرے لمحے
آپ کہیے تو اٹھا لاتا ہوں یکجا کر کے

ہم فقیروں کے لیے شاہ و گدا ایک سے ہیں
بات کرنا بھی تو لہجہ ذرا دھیما کر کے

عشق منصوبہ بنا کر نہیں ہوتا ہر گز
شعر لکھا نہیں جاتا ہے ارادہ کر کے

کوچۂ یار سے محشر میں بلاتا ہے خدا کہہ دو مضطرؔ کہ نہ آئیں گے یہیں اچھے ہیں

انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں
چاہنے والے ان اچھوں سے کہیں اچھے ہیں

کوچۂ یار سے یا رب نہ اٹھانا ہم کو
اس برے حال میں بھی ہم تو یہیں اچھے ہیں

نہ کوئی داغ نہ دھبا نہ حرارت نہ تپش
چاند سورج سے بھی یہ ماہ جبیں اچھے ہیں

کوئی اچھا نظر آ جائے تو اک بات بھی ہے
یوں تو پردے میں سبھی پردہ نشیں اچھے ہیں

تیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیں
ہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں

ہیں مزے حسن و محبت کے انہیں کو حاصل
آسماں والوں سے یہ اہل زمیں اچھے ہیں

ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں
ایک وہ وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں

کوچۂ یار سے محشر میں بلاتا ہے خدا
کہہ دو مضطرؔ کہ نہ آئیں گے یہیں اچھے ہیں

سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسوس کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے
جو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے

اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے
جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے

نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائے
کہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے

تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں
سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے

بہت بے باک آنکھوں میں تعلق ٹک نہیں پاتا
محبت میں کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے

سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسوس کرنے کا
جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے

مرے ہونٹوں پہ اپنی پیاس رکھ دو اور پھر سوچو
کہ اس کے بعد بھی دنیا میں کچھ پانا ضروری ہے؟؟؟؟

Thursday, 19 April 2018

یوں جسم مہکتا ہے ہوائے گل تر سے! جیسے کوئی پہلو سے ابھی اٹھ کے گیا ہو


کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہو
اس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہو
یوں جسم مہکتا ہے ہوائے گل تر سے!
جیسے کوئی پہلو سے ابھی اٹھ کے گیا ہو
دنیا ہمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو
کچھ اور قریب آؤ، کوئی سن نہ رہا ہو
یہ رنگ، یہ انداز نوازش تو وہی ہے
شاید کہ کہیں پہلے بھی تو مجھ سے ملا ہو
یوں رات کو ہوتا ہے گماں دل کی صدا پر
جیسے کوئی دیوار سے سر پھوڑ رہا ہو
دنیا کو خبر کیا ہے مرے ذوق نظر کی
تم میرے لیے رنگ ہو، خوشبو ہو، ضیا ہو
یوں تیری نگاہوں میں اثر ڈھونڈ رہا ہوں
جیسے کہ تجھے دل کے دھڑکنے کا پتا ہو
اس درجہ محبت میں تغافل نہیں اچھا
ہم بھی جو کبھی تم سے گریزاں ہوں تو کیا ہو
ہم خاک کے ذروں میں ہیں اخترؔ بھی، گہر بھی
تم بام فلک سے، کبھی اترو تو پتا ہو

اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزتِ سادات بھی دستار کے ساتھ

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
اب تو ہم بات بھی کرتے ہیں غم خوار کے ساتھ

ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ
میر دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ

اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
طاق پر عزتِ سادات بھی دستار کے ساتھ

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ
چاپ سُنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجیے گا
ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فراز
سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ


Wednesday, 18 April 2018

کتابوں کی نہیں یہ تجربے کی بات ہے صاحب پیئے ہیں اشک ہم نے اسلئے نمکین کہتے ہیں

اُنھیں اُنکا ہمیں اپنا اِسے ہم دِین کہتے ہیں
مگر پھر ہر کسی کو مجرمِ توہین کہتے ہیں

کڑے ایمان کی بستی پہ رشوت راج کرتی ہے
ضمیروں کی اِسی کو مشترک تدفین کہتے ہیں

تجھے تیری زباں میٹھی لگے لگتی رہے واعظ
مگر میری لغت میں تو اِسے سکّین کہتے ہیں

عجب یہ ہے مخالف بھی  ہمیں تب داد دیتے ہیں
کہ جب ہم صورتِ حالات کو سنگین کہتے ہیں

ہم اپنی گفتگو کو شاعری خود بھی نہیں کہتے
اِسے ہم بھینس کے آگے سریلی بِین کہتے ہیں

'مسلسل بھوک میں ہم سے عبادت ہو نہیں پاتی'
ذرا سنیے تو کیا اِس شہر کے مسکین کہتے ہیں

کتابوں کی نہیں یہ تجربے کی بات ہے صاحب
پیئے ہیں اشک ہم نے اسلئے نمکین کہتے ہیں

ہمیں اِس شہپری کی شہہ کوئی دے کر گیا ہوگا
اِسی کارن ہم اپنے آپ کو شاہین کہتے ہیں

ہمارا نام سائیں ہے مگر احباب اکثر ہی
ہمیں جب ذکر میں لاتے ہیں تو غمگین کہتے ہیں

Tuesday, 17 April 2018

میں نے خود خون دیا تیغ عدو کو ورنہ بھری دنیا میں بڑے خوار مرے قاتل تھے

مرے لشکر کے کماندار مرے قاتل تھے
مرے دشمن تو نہیں یار مرے قاتل تھے

میں نے خود خون دیا تیغ عدو کو ورنہ
بھری دنیا میں بڑے خوار مرے قاتل تھے

کتنا آساں تھا مرے قتل کا لمحہ ان پر
کیسی مشکل سے یہ دو چار مرے قاتل تھے

وہ مر ے نام کی دستار پہننے والے
وہ مرے حاشیہ بردار مرے قاتل تھے

کتنے مینار مرے قد کے مقابل لائے
مری عظمت سے خبردار مرے قاتل تھے

تجھے تلوار سے رغبت مجھے ہے ڈھال کا سودا تِری تائید سے واعظ مِرا انکار تگڑا ہے


جہاں لاغر مکیں ہیں اور چوکیدار تگڑا ہے
سمجھ لیجے ضرورت سے وہاں پندار تگڑا ہے
رعایا کے لئے یکساں مگر باہم تقابل میں
امیرِ شہر سے اِس شہر کا سالار تگڑا ہے
تجھے تلوار سے رغبت مجھے ہے ڈھال کا سودا
تِری تائید سے واعظ مِرا انکار تگڑا ہے
گلوں کی شوخیاں دیدہ وروں کو کھینچ لیتی ہیں
اگرچہ پھول کی نسبت بظاہر خار تگڑا ہے
مِرے چارہ گرو تمکو اجازت ہے سعی کر لو
مگر یہ آگہی دے دُوں مِرا آزار تگڑا ہے
مِرے حصے میں کوئی سِین ہی آیا نہیں سائیں
اِسی اِک بات پر خوش ہُوں مِرا کردار تگڑا ہے

دشتِ ہجراں سے گزر آیا ہوں جیسے تیسے اب کوئی غم مجھے پاگل نہیں کرنے والا


ایسی غلطی سرِ مقتل نہیں کرنے والا
مَیں کوئی بات مدلل نہیں کرنے والا
ہر کوئی تاک میں ہے دوسرا مصرعہ کیا ہے
اور مَیں شعر مکمل نہیں کرنے والا
یہ جو درپیش ہے احساس کا سوکھا موسم
اِسکا درماں کوئی بادل نہیں کرنے والا
دشتِ ہجراں سے گزر آیا ہوں جیسے تیسے
اب کوئی غم مجھے پاگل نہیں کرنے والا
یہ مِرے اشک بخارات میں ڈھل جائیں گے
میں کسی راہ میں جل تھل نہیں کرنے والا
جِس پہ افشاں ہی نہیں شہر کی مشکل سائیں
کچھ بھی کر لے وہ مگر حل نہیں کرنے والا

Monday, 16 April 2018

جب آئے گی تو مَیں ہی کیا یہ سارا شہر دیکھے گا جسے چند ایک ہی دیکھیں وہ فصلِ گُل نہیں ہوتی

اگر انسان میں اپنی بقا کی چُل نہیں ہوتی
تو نسلِ آدمی یوں محوِ شور و غُل نہیں ہوتی

مِرے واعظ تجھے اِک بات کہنا تھی سو کہہ ڈالوں
کہ جو بس ایک انساں میں ہو عقلِ کُل نہیں ہوتی

جب آئے گی تو مَیں ہی کیا یہ سارا شہر دیکھے گا
جسے چند ایک ہی دیکھیں وہ فصلِ گُل نہیں ہوتی

چمن برباد ہو جانے کا منظر یوں بھی ہوتا ہے
کہ ہرسُو زاغ ہوتے ہیں کوئی بلبل نہیں ہوتی

پرندہ جانتا تھا کچھ نہ کچھ پانی ضروری ہے
فقط کنکر گرا دینے سے مٹکی فُل نہیں ہوتی

مِری برگشتہ حالی میں نہاں اِک راز یہ بھی ہے
کہ منصوبے تو بنتے ہیں مگر ہِل جُل نہیں ہوتی

Sunday, 15 April 2018

میں وجہِ ترکِ تعلق بتا تو دُوں ، لیکن اِس انکشاف سے اک خاندان ٹوٹتا ہے


زمیں سرکتی ہے ، پھر سائبان ٹوٹتا ہے
اور اُس کے بعد سدا آسمان ٹوٹتا ہے
میں اپنے آپ میں تقسیم ہونے لگتا ہُوں
جو ایک پَل کو کبھی تیرا دھیان ٹوٹتا ہے
کوئی پرند سا پَر کھولتا ہے اُڑنے کو
پھر اک چھناکے سے یہ خاکدان ٹوٹتا ہے
جسے بھی اپنی صفائی میں پیش کرتا ہُوں
وہی گواہ ، وہی مہربان ٹوٹتا ہے
نہ ہم میں حوصلہ خود کُشی ، کہ مر جائیں
نہ ہم سے قفلِ درِ پاسبان ٹوٹتا ہے
میں وجہِ ترکِ تعلق بتا تو دُوں ، لیکن
اِس انکشاف سے اک خاندان ٹوٹتا ہے
زکوٰۃِ عشق اگر بانٹنے پہ آ جاؤں
تو اک ہجومِ طلب مُجھ پہ آن ٹوٹتا ہے
کسی نے داغِ جدائی نہیں دیا ، لیکن
میں اتنا جانتا ہوں ، کیسے مان ٹوٹتا ہے
جو آندھیاں سرِ صحرائے ہجر اُٹھتی ہیں
اُنہی میں شیشہ دل ، میری جان ٹوٹتا ہے

سمجھو گے دل کی رمز مُجھی سے مگر ابھی تُم شوق پُورا کرلو، ذہینوں سے پُوچھ لو....

لعل و گُہَر کہاں ھیں، دفینوں سے پُوچھ لو
سینوں میں کافی راز ھیں، سینوں سے پُوچھ لو...

جَھیلا ھے مَیں نے تین سو پینسٹھ دُکھوں کا سال
چاھو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پُوچھ لو...

قبروں کے دُکھ سے کم نہیں کچّے گھروں کے دُکھ
تم زندہ لاشوں یعنی مکینوں سے پُوچھ لو...

چوتھا گواہ اندھا ھے، حد کس طرح لگے ؟؟؟
عینی گواہ تین ھیں، تینوں سے پُوچھ لو...

مَیں جُونہی بوئے بیج، شجر پُھوٹنے لگے
مُجھ پر یقیں نہیں تو زمینوں سے پُوچھ لو...

سمجھو گے دل کی رمز مُجھی سے مگر ابھی
تُم شوق پُورا کرلو، ذہینوں سے پُوچھ لو....

چِھن جائے گھر تو کیسے رُلاتی ھے بےگھری
ٹُوٹی انگوٹھیوں کے نگینوں سے پُوچھ لو..

سچ سچ بتائیں گے وہ تمہیں ڈُوبنے کا لُطف
دریا کی تہہ میں غرق سفینوں سے پُوچھ لو..

Friday, 13 April 2018

ﺗُﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔُﻞ ﻭُﻝ ﮐﯿﺎ، ﮔُﻠﺸﻦ ﮐﯿﺎ،____ ﺍﻭﺭ ﻣَﻨﻈﺮ ﻭَ ﻧﻈﺮ ﮐﯿﺎ

ﻣﺎﻻ ﻭﺍﻻ، ﺑِﻨﺪﯼ ﻭِﻧﺪﯼ، ﺟُﮭﻮﻣﺮ ﻭُﻭﻣﺮ ﮐﯿﺎ
ﺯﯾﻮﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺯﯾﻮﺭ ﻭﯾﻮﺭ ﮐﯿﺎ

ﮐﺎﻡ ﺯُﺑﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﮩﺬﺏ ﻟﻮﮒ
ﻃَﻨﺰ ﮐﺎ ﺍﮎ ﻧﺸﺘﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ____ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﺗﮭﺮ ﮐﯿﺎ

ﺍﻭﻝ ﺗﻮ ﮨﻢ ﭘﯿﺘﮯ ﻧﺌﯿﮟ ﮨﯿﮟ___ ﮔﺮ ﭘﯿﻨﺎ ﭨﮭﮩﺮﮮ
ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯽ ﻟﯿﻨﮕﮯ ﺳﺎﻏﺮ ﻭﺍﻏﺮ ﮐﯿﺎ

ﺟﯿﻮﻥ ﺍﮎ ﭼﮍﮬﺘﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﮨﮯ ﮈﻭﺏ ﮐﮯ ﮐﺮ ﻟﮯ ﭘﺎﺭ
ﺍﺱ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺸﺘﯽ ﻭ ﺷﺘﯽ ﻟﻨﮕﺮ ﻭَﻧﮕﺮ ﮐﯿﺎ

ﻣﺎﻝ ﻭﺍﻝ ﮐﺲ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺎﻥ ﻭﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﺷﮱ
ﺳﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺩﺍ ﺳﭻ ﮐﺎ ﺳﻤﺎ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺳَﺮ ﻭَﺭ ﮐﯿﺎ

ﺗُﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ
ﮔُﻞ ﻭُﻝ ﮐﯿﺎ، ﮔُﻠﺸﻦ ﮐﯿﺎ،____ ﺍﻭﺭ ﻣَﻨﻈﺮ ﻭَ ﻧﻈﺮ ﮐﯿﺎ

ﺯﯾﺐ ﮐﮩﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺮﮮ ﻓِﺮﺩﻭﺱِ ﺑﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﺎﮞ
ﺷﻌﺮ ﻭﯾﺮ ﯾﮧ ﻏﺰﻝ ﻭﺯﻝ ﮐﯿﺎ ﻣُﻀﻄﺮ ﻭَﺿﻄﺮ ﮐﯿﺎ


اپنا لڑنا بھی محبت ھے تمھیں علم نہیں چیختی تم رھی اور میرا گلہ بیٹھ گیا

تیرا چپ رہنا میرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا
اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا

یوں نہیں ھے کہ میں ھی فقط اسے چاہتا ھوں
جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا

اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ
اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا

اپنا لڑنا بھی محبت ھے تمھیں علم نہیں
چیختی تم رھی اور میرا گلہ بیٹھ گیا

اس کی مرضی وہ جسے پاس بیٹھا کے اپنے
اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا

بات دریاؤں کی سورج کی نہ تیری ھے یہاں
دو قدم جو بھی میرے ساتھ چلا بیٹھ گیا

بزمِ جاناں میں نشستیں  نہیں  ہوتی مخصوص
جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا

اپنی تعمیر اُٹھاتے تو ، کوئی بات بھی تھی تم نے اِک عمر گنوا دی ، مری مسماری میں

اپنی مستی، کہ تِرے قُرب کی سرشاری میں
اب میں کچھ اور بھی آسان ہوں دُشواری میں

کتنی زرخیز ہے نفرت کے لیے دل کی زمیں
وقت لگتا ہی نہیں فصل کی  ، تیاری میں

اِک تعلق کو بکھرنے سے بچانے کے لیے
میرے دن رات گُزرتے ہیں  ، اداکاری میں

وہ کسی اور دوا سے مرا کرتا ہے علاج
مُبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں

اے زمانے میں ترے اشک بھی رو لوں گا، مگر
ابھی مصرُوف ہوں خُود اپنی !    عزاداری میں

اُس کے کمرے سے اُٹھا لایا ہوں یادیں اپنی
خُود پڑا رہ گیا لیکن کسی ، !  الماری میں

اپنی تعمیر اُٹھاتے تو ، کوئی بات بھی تھی
تم نے اِک عمر گنوا دی ، مری مسماری میں

ہم اگر اور نہ کچھ دیر ، ہوا دیں، تو یہ آگ
سانس گُھٹنے سے ہی مر جائے گی چنگاری میں

تم بھی دُنیا کے نکالے ہوئے لگتے ہو ظہیرؔ
میں بھی رہتا ہوں یہیں، دل کی عملداری میں


Thursday, 12 April 2018

ایسا بھی صدق و صفا کا نہیں دعویٰ ہم کو زندگی شیخ کی دستار نہیں ہے بھائی


دیکھنے کو کوئی تیار نہیں ہے بھائی
دشت بھی بے در و دیوار نہیں ہے بھائی
ایسا بھی صدق و صفا کا نہیں دعویٰ ہم کو
زندگی شیخ کی دستار نہیں ہے بھائی
پاکبازوں کی یہ بستی ہے فرشتوں کا نگر
کوئی اس شہر میں میخوار نہیں ہے بھائی
جان پیاری ہے تو بس چلتے چلے جاؤ میاں
کیوں کھڑے ہو یہ در یار نہیں ہے بھائی
عشق کرنا ہے تو چُھٹی نہیں کرنی کوئی
عشق میں ایک بھی اتوار نہیں ہے بھائی
آپ نے بھی تو کیا ہو گا کچھ اکبرؔ ورنہ
ایسی اس شوخ کی گفتار نہیں ہے بھائی

قسم رب کی تاحیات نہیں بھولیں گے ہم کہ جتنی آج تو نے ہماری کر دی


دل ہی توڑ دیا دل آزاری کر دی
تو نے بھی رقیبوں کی طرف داری کر دی
نہ پچھلوں کی ہمدردی ہے نہ آگے کوئی واقف
یہ تو نے کس موڑ پہ غداری کر دی
کس قدر بے رحمی سے پھوڑی ہیں آنکھیں
نور چھین لیا خوابوں کی مسماری کر دی
میں نے یونہی بات کی تھی بچھڑنے کی
تم نے فوراً ہی شروع عملداری کر دی
قسم رب کی تاحیات نہیں بھولیں گے ہم
کہ جتنی آج تو نے ہماری کر دی
اک غلطی ہوئی ہم سے تجھ کو چاہنے کی
اور یہ غلطی بھی ہم نے بہت بھاری کر دی
جاوید مہدی

‎سوچا ہے کتنی بار ، اُلٹ دوں یہ کائنات ‎اِس کو نئے سِرے سے' نئے خدّ و خال دوں


‎یہ آخــــــری چــراغ ،  ہَوا میں اُچھال دوں "
‎ممکن ہے' آج دل سے تجھے بھی نکال دوں
‎سوچا ہے کتنی بار ، اُلٹ دوں یہ کائنات
‎اِس کو نئے سِرے سے' نئے خدّ و خال دوں
‎تُو جو سُجھا رہا ہے ، یہ آسانیاں مجھے
‎ایسا نہ ہو کہ میں تجھے مشکِل میں ڈال دوں
‎اِتنے بھی بادشاہ نہيں ہو کہ میں تمھیں
‎دریا سے دشت ' دشت سے دریا نکال دوں
‎مدّت کے بعد آج ، کنارے پہ آیا ہوں
‎جی چاہتا ہے' نیکیاں دریا میں ڈال دوں

Tuesday, 10 April 2018

معلوم تھا سائے پہ گرا کرتی ہے دیوار بیٹھا نہ گیا دھوپ میں دیوار سے ہٹ کے


پہچان زیادہ نہیں دو چار سے ہٹ کے
وہ یار بھی اب رہتے ہیں اس یار سے ہٹ کے
معلوم تھا سائے پہ گرا کرتی ہے دیوار
بیٹھا نہ گیا دھوپ میں دیوار سے ہٹ کے
کھولی تھی دکاں دور کہ پہچان ہو آسان
بازار نیا کھل گیا بازار سے ہٹ کے
فرصت ہوئی ایسی کہ میسر نہیں اب کام
بیٹھا تھا ذرا کارِ لگا تار سے ہٹ کے

Monday, 9 April 2018

کس بیکسی سے داغ نے افسوس جان دی پڑھ کر ترے فراق کے اشعار مرگیا


کس نے کہا کہ داغ وفا دار مرگیا
وہ ہاتھ مل کے کہتے ہیں کیا یار مر گیا
دام بلائے عشق کی وہ کشمکش رہی
ایک اک پھڑک پھڑک کے گرفتار مرگیا
آنکھیں کھلی ہوئی پس مرگ اس لئے
جانے کوئی کہ طالب دیدار مرگیا
جس سے کیا ہے آپ نے اقرار جی گیا
جس نے سنا ہے آپ سے انکار مرگیا
کس بیکسی سے داغ نے افسوس جان دی
پڑھ کر ترے فراق کے اشعار مرگیا

Sunday, 8 April 2018

دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے


کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں
کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے
کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
پہلے دیتے ہیں دلاسا کہ بہت ہے سب کچھ
اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے
جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا
دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے
واقعی نور لیے پھرتے ہیں سر پہ کوئی
اپنے اطراف جو سایہ نہیں رہنے دیتے
زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملال
کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے

Friday, 6 April 2018

کہیں چھپائے سے چھپتا ہے لعل گدڑی میں فروغ حُسن تجھے بے نقاب کر دے گا

سُنی نہیں یہ مثل گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے
تجھے تو دل کی خبر اضطراب کر دے گا

وہ گالیاں ہمیں دیں اور ہم دعائیں دیں
خجل انہیں یہ ہمارا جواب کر دے گا

کہیں چھپائے سے چھپتا ہے لعل گدڑی میں
فروغ حُسن تجھے بے نقاب کر دے گا 

وفا تو خاک کرے گا مرا عدو تم سے
وفا کے نام کی مٹی خراب کر دے گا

بھلائی اپنی ہے سب کی بھلائی میں بیخودؔ
کبھی ہمیں بھی خدا کامیاب کر دے گا

Tuesday, 3 April 2018

اگر آئے دشت میں جِھیل تو،مجھے احتیاط سے پھینکنا کہ میں برگِ خُشک ہُوں #دوستو ! مجھے تیرنا نہیں آئے گا


مِری داستانِ اَلم تو سُن ،کوئی زِلزِلہ نہیں آئے گا
مِرا مُدّعا نہیں آئے گا،تِرا تذکرہ نہیں آئے گا

کئی گھاٹیوں پہ مُحیط ہے،مِری زِندگی کی یہ رہگُزر
تِری واپسی بھی ہُوئی اگر،تجھے راستہ نہیں آئے گا

اگر آئے دشت میں جِھیل تو،مجھے احتیاط سے پھینکنا
کہ میں برگِ  خُشک ہُوں #دوستو  ! مجھے تیرنا نہیں آئے گا

کہِیں اِنتہا کی مَلامَتیں،کہِیں پتَھروں سے اَٹی چَھتَیں
تِرے شہر میں مِرے بعد  اب،  کوئی سر پِھرا نہیں آئے گا

کوئی اِنتظار کا فائدہ  مِرے یار ! بیدلِ غمزدہ
تجھے چھوڑ کر جو چلا گیا ،نہیں آئے گا،نہیں آئے گا

بیدؔل حیدری

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے

اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے

جیسے کوئی در دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے

تم نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر
نوک ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے

تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے

اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے

ﻧﮕﺎﮦِ ﻗﯿﺲؔ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ، ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﻮ ﺻﻨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ، ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

ﻏُﺮﻭﺭِ ﺣُﺴﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮨﯽ ﺟﻼﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﭘﺮﯼ ﺭُﺧﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

ﺗﺮﺍﺵ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﮧ ﺭُﮐﺘﯽ ﮨﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﺩَﮬﮍﮐﻦ ﮐﯽ
ﭘﮭﺮ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﭼﻠﻨﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﯽ ﭼﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

ﻗﺴﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺍﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺎﻭﺭﺍ ﻟﮍﮐﯽ
ﺑﺪﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﺪﻥ ، ﺧﺎﻝ ﺧﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

ﭘﻨﺎﮦ ﺑﺎﺩَﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈُﮬﻮﻧﮉﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺎﮦِ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﻮ
ﺑﮯ ﺣﺠﺎﺏ ﻭُﮦ ﺯُﮨﺮﮦ ﺟﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

ﺧﺪﺍ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﭼﻮﻡ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ
ﺟﻮ ﮔﺎﻝ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﻮﺳﮯ ﮐﮯ ﻻﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

ﺍَﮔﺮ ﻭُﮦ ﻟﺐ ﻧﻈﺮ ﺍٓﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺯُﻟﻒ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﻧﮯ ﭘﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺟﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

ﻧﮕﺎﮦِ ﻗﯿﺲؔ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ، ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﻮ
ﺻﻨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ، ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

شہزاد قیس

میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاں اب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا
دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا

جس طرح خامشی لفظوں میں ڈھلی جاتی ہے
اس میں تاثیر کا عنصر نہیں رہنے والا

اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو، خدا ہی جانے
رنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا

میں اسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں؟
وہ کسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا

غور سے دیکھ ان آنکھوں میں نظر آتا ہے
وہ سمندر جو سمندر نہیں رہنے والا

جرم وہ کرنے کا سوچا ہے کہ بس اب کی بار
کوئی الزام مرے سر نہیں رہنے والا

میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاں
اب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا

مصلحت لفظ پہ دو حرف نہ بھیجوں؟ جوادؔ
جب مرے ساتھ مقدر نہیں رہنے والا

داد کی بھیک نہ مانگ!! اے مرے اچھے شاعر!! جا تجھے میری دعا ہے ترا کاسہ ٹوٹے


ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
کہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے
تو اسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی؟؟
چرخ کو دیکھنے والی!! ترا چرخہ ٹوٹے
اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے کب تک؟؟
ایک انسان کی خاطر کوئی کتنا ٹوٹے
کوئی ٹکڑا تری آنکھوں میں نہ چبھ جائے کہیں
دور ہو جا کہ مرے خواب کا شیشہ ٹوٹے
میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے
میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشہ ٹوٹے
رنج ہوتا ہے تو ایسا کہ بتائے نہ بنے
جب کسی اپنے کے باعث کوئی اپنا ٹوٹے
پاس بیٹھے ہوئے یاروں کو خبر تک نہ ہوئی
ہم کسی بات پہ اس درجہ انوکھا ٹوٹے
اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو!!
وقت ہی کتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹوٹے
داد کی بھیک نہ مانگ!! اے مرے اچھے شاعر!!
جا تجھے میری دعا ہے ترا کاسہ ٹوٹے
ورنہ کب تک لیے پھرتا رہوں اس کو جوادؔ
کوئی صورت ہو کہ امید سے رشتہ ٹوٹے

چھین لے مجھ سے مرا عیش اور آرام سبھی مجھ کو دے دے مری" دستارِ گدائی" واپس


یار نے گال سے جب زلف ہٹائی  واپس
آنکھ چندھیا سی گئی  ،دیکھ نہ پائی واپس
کاش !میں  پھر سے کبھی چاند پہ چرخہ دیکھوں!
کاش ! لوٹ آئے کبھی "چاند کی مائی" واپس!
چھین لے مجھ سے مرا عیش اور آرام سبھی
مجھ کو دے دے مری" دستارِ گدائی" واپس
اِس میں بھی تیری ہی صحبت کا اثر ہے صاحب!
یاد کب تیری طرح لوٹ کر آئی واپس
مار اِک بار زمانے کی جس نے کھائی ہو
اُس نے پھر مار زمانے کی نہ کھائی واپس
تُو نے بس آگ لگانی تھی، تجھے کیا معلوم؟
کتنے اشکوں کے عوض  آگ بجھائی واپس
تُو نے جو جان عطا کی ہے، خدائی ہے تری
کھیل اب کر دے ختم! لے لے خدائی واپس
وصل میں ہجر کی باتوں سے کہیں بہتر ہے
مانگ لیتے ہیں علیؔ پھر سے  جدائی واپس
مجھے معلوم تھا وہ  داستاں کے آخر میں
ہاتھ سے کھینچ لے گا اپنی کلائی واپس
دیکھ لوقبر میں جی بھر کے علیؔ کا چہرہ!
اب نہ آوے گا کبھی عشق کا داعی واپس
...
علیؔ سرمد

اس زخم جان کے نام ، جو اب تک نہیں بھرا۔ اس زندہ دل کے نام ، جو اب تک نہیں مرا

اس زخم جان کے نام ، جو اب تک نہیں بھرا۔
اس زندہ دل کے نام ، جو اب تک نہیں مرا
۔

ان اہل دل کے نام ، جو راھوں کی دھول ہیں۔
ان حوصلوں کے نام جنہیں دکھ قبول ہیں ۔

اس زندگی کے نام ، گزارا نہیں جسے۔
اس قرض فن کے نام ، اتارا نہیں جسے۔

ان دوستوں کے نام ، جو گوشہ نشیں ہیں۔
ان بے حسوں کے نام ، جو یار زمین ہیں۔

ان بے دلوں کے نام ، جو ہر دم ملول ہیں۔
ان بےبسوں کے نام ، جو گملوں کے پھول ہیں۔

ان شعلہ رخ کے نام ، روشن ہے جس سے رات۔
ہے ضوفشاں اندھیرے میں ہر نقطہ کتاب۔

اس حسن باکمال کی رعنائیوں کے نام۔
اور اپنے ذہن و قلب کی تنہائیوں کے نام۔

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...