Saturday, 26 May 2018

ﮐﻞ ﺭﺍﺕ ﺟﻮ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭧ ﮐﮯ ﮔﺮﺍ ﮨﮯ ﭼﮍﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ ﭘﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺷﺠﺮ ﺳﮯ

ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻠﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ
ﺩﺳﺘﺎﺭ ﭘﮧ ﺑﺎﺕ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺳﺮ ﺳﮯ

ﺑﺮﺳﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺩﺷﺖ ﮐﮯ ﺑﮯ ﻓﯿﺾ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ
ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﻣﺮﮮ ﮐﮭﯿﺖ ﺗﮭﮯ ﺟﺲ ﺍﺑﺮ ﮐﻮ ﺗﺮﺳﮯ

ﮐﻞ ﺭﺍﺕ ﺟﻮ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭧ ﮐﮯ ﮔﺮﺍ ﮨﮯ
ﭼﮍﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ ﭘﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺷﺠﺮ ﺳﮯ


  • ﻣﺤﻨﺖ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ

ﺭﮨﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺑﻂ ﺷﺠﺮ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺛﻤﺮ ﺳﮯ

ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﻮ ﯾﺎﺭﺍ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﮈﺭ ﺳﮯ

ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﮨﯽ ﻣﻘﺪﺭ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻏﻢ
ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﻔﺮ ﺳﮯ

ﭘﺘﮭﺮﺍﯾﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﻢ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﯾﮧ ﺷﮩﺮ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺩﻭ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﺳﮯ

ﻧﮑﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﯽ
ﺳﻮﺭﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﺭﮦ ﮔﺰﺭ ﺳﮯ

بغور دیکھ ! کہ تیرے لبوں کی جنبش سے کسی غریب کا نقصان تو نہیں ھوتا


ذرا بھی تجھ سے پرے ، دھیان تو نہیں ہوتا
تو   کوئی   یوسف   کنعان  تو   نہیں   ہوتا
بھلا میں کس طرح ، اک پل میں تجھ کو ، لوٹا دوں
یہ   دل   دیا    ھوا   سامان   تو   نہیں    ھوتا  !  !
کہیں جو جاتے ہوئے راستے میں مل جائے
وہ شخص حصئہ ایمان تو نہیں ھوتا ! !
گلی گلی میں نہ کہتے پھرو محبت هے
کہ ایسی بات کا اعلان تو نہیں ھوتا
بغور دیکھ ! کہ تیرے لبوں کی جنبش سے
کسی  غریب   کا نقصان   تو نہیں   ھوتا
گری زمین پہ ، گرتے ھی جزو خاک ہوئی
لہو کی بوند میں طوفان تو نہیں ھوتا
بہت سے اور بھی ہیں زاویے تعارف کے
مرا  سخن مری   پہچان تو  نہیں  ھوتا
سنا هے وہ بھی بڑی مشکلوں میں هے غزنی
کسی   کو چھو ڑنا   آسان  تو   نہیں   ھوتا

میرا گھر بھی مری غربت کی گواہی دے گا میری دہلیز سے لپٹے گی جفا روئے گی😓


پھول سوچیں گے مجھے باد صبا روئے گی
موت آئے گی مجھے،مجھ پہ قضا روئے گی

میرا پرسہ میرے یاروں کو محبت دے گی
میری  ویرانی  تربت  پہ  وفا روئے  گی

صحن غربت میں ہے آسودگی میرے دم سے
میرے حالات پہ تقدیر بڑا روئے گی

راستے مجھ سے مسافر کو بہت ڈھونڈیں گے
ریت پر لکھ کے مرا نام ہوا روئے گی

میرا گھر بھی مری غربت کی گواہی دے گا
میری دہلیز سے لپٹے گی جفا روئے گی😓

یاد آئے گی اسے جب بھی کوئی بات مری
میری تصویر کو آنکھوں میں سجا روئے گی

بلآل کہنا اسے سانس ابھی چلتی ھے 
مجھ پہ گر بعد میں روئے گی تو کیا روئے گی

چلو سب مے کشو ! آؤ ! اسی کے شہر چلتے ہیں وہاں اس کی حکومت ہے ,سنا ہے ,واں اجازت ہے


اجازت ہے ؟ سجا لوں  محفلِ یارا ں ! اجازت  ہے ؟؟
مٹا لوں میں اگر ساقی ,غمِ جاناں ,اجازت ہے ؟؟

حسیں زلفیں پریشاں ہیں , اجازت ہو , تو سلجھا دوں ؟؟
وہ جھجکے ,مسکرائے, پھر  کہا ! ہاں ہاں !  اجازت ہے 

چلو سب مے کشو ! آؤ ! اسی کے شہر چلتے ہیں
وہاں اس کی حکومت ہے ,سنا ہے ,واں اجازت ہے

فقط اک بار ہمت کی , کہا ! پلو پکڑ لوں میں ؟؟
وہ اترائے, وہ شرمائے, کہا ! کیا یاں,  اجازت ہے ؟؟

تمہیں اب سب اجازت ہے, جو جی چاہے وہ کر لو تم
تمہیں آزاد کرتے ہیں___ دلِ ناداں اجازت ہے

محبت ہے ، محبت ہے ، محبت ہے ، محبت ہے
کتابِ زندگی کو دوں میں یہ عنواں,  اجازت ہے ؟؟

سنا ہے کہ محبت نے تمہیں یکسر بدل ڈالا ؟؟
جو جی چاہے وہ کرتے ہو ، تمہیں چنداں اجازت ہے؟؟

عجب الجھن رہی دانش! اگرچہ ساتھ تھے دونوں
چلو اچھا ! نہیں چھوڑو ! ارے! ناں ناں ! اجازت ہے

کیسے کیسے سرفروش اُس مہرباں کے ساتھ تھے ایک ایک آخر سر راہ وفا مارا گیا


حشر برپا تھا کہ سبط مصطفی مارا گیا
بے وطن جنگل میں بے جرم و خطا مارا گیا
چشمہ خوں سے بجھاکر لشکر اعدا کی پیاس
بادشاہ کشور صبر و رضا مارا گیا
برگ گل سے کون سا خطرہ کماں داروں کو تھا
پھول کی گردن میں کیوں تیر جفا مارا گیا
گونج کر گم ہو گئی صحرا میں اکبر کی اذاں
اُڑتے اُڑتے طائر صوت و صدا مارا گیا
کیسے کیسے سرفروش اُس مہرباں کے ساتھ تھے
ایک ایک آخر سر راہ وفا مارا گیا
تم نکل کر کس کا استقبال کرنے آئے ہو
شہر والو، دشت میں وہ قافلہ مارا گیا
چھٹ گیا آشفتگاں کے ہاتھ سے دامان صبر
سینہ صد چاک پر دست دعا مارا گیا
پردہ خیمہ تک آنے ہی کو تھی موج فرات
ناگہاں سقائے بیت مرتضیٰ مارا گیا
زندہ ہم سب نوحہ گر بس یہ خبر سننے کو ہیں
لٹ گئے رہزن، گروہ اشقیا مارا گیا

صبر نے موجوں کو زنجیر پنہا دی ورنہ کیسے ممکن تھا کہ خدمت میں نہ آئے دریا


قافلے پھر نہیں جاتے ہیں ورائے دریا
راس آجائے اگر آب و ہوائے دریا
صبر نے موجوں کو زنجیر پنہا دی ورنہ
کیسے ممکن تھا کہ خدمت میں نہ آئے دریا
لب معصوم پہ فریاد کہ ہائے پانی
دشت افسوس کو افسوس کہ ہائے دریا
ایک چلو کا بھی عباس نے احساں نہ لیا
پھینک دی اس کے ہی چہرے پہ عطائے دریا
لب جو تشنہ دہاں آل نبی قتل ہوئے
داغ ہے سینہ گیتی پہ بجائے دریا

سنو، کہ بول رہا ہے وہ سر اتارا ہوا ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا


سنو، کہ بول رہا ہے وہ سر اتارا ہوا
ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا
یہ سرخ پھول سا کیا کھل رہا ہے نیزے پر
یہ کیا پرندہ ہے شاخش شجر پہ دارا ہوا
ابھی زمیں پہ نشاں تھے عذاب رفتہ کے
پھر آسمان پہ ظاہر وہی ستارہ ہوا
میں ڈر رہا تھا وہ خنجر نہ ہو چھپائے ہوئے
ردا ہٹی تو وہی زخم آشکارا ہوا
یہ موج موج کا اک ربط درمیاں ہی سہی
تو کیا ہوا میں اگر دوسرا کنارہ ہوا

تم جو کچھ چاہو وہ تاریخ میں تحریر کرو یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا


اپنے آنگن ہی میں تھا، راہ گزر میں کیا تھا
ایسا تنہا تھا میں باہر بھی کہ گھر میں کیا تھا
سبز پتوں نے بہت راز چھپا رکھے تھے
رُت جو بدلی تو یہ جانا کہ شجر میں کیا تھا
تھا کمیں گاہ میں سنّاٹے کا عالم، لیکن
اِک نیا رنگ یہ ٹوٹے ہوئے پَر میں کیا تھا
تم جو کچھ چاہو وہ تاریخ میں تحریر کرو
یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا
اور کیا دیکھتی دُنیا ترے چہرے کے سوا
کم سے کم رَنگ تھا سُرخی میں، خبر میں کیا تھا
تم یہ دیکھو کہ فقط خاک ہے پیراہن پر
یہ نہ پوچھو کہ مرے رختِ سفر میں کیا تھا
تم نہ ہوتے تو سمجھتی تمہیں دُنیا عرفانؔ
فائدہ عرضِ ہنر میں تھا، ہنر میں کیا تھا

کوئی مشکیزہ سر نیزہ علم ہوتا ہے دیکھئے دشت میں لگتا ہے شجر پانی کا


خشک ہوتا ہی نہیں دیدہ تر پانی کا
یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا
دیکھنے میں وہی تصویر ہے سیرابی کی
اور دل پر ہے کوئی نقش دگر پانی کا
کوئی مشکیزہ سر نیزہ علم ہوتا ہے
دیکھئے دشت میں لگتا ہے شجر پانی کا
آج تک گریہ کناں ہے اسی حسرت میں فرات
کاش ہوتا در شبیر پہ سر پانی کا
تیری کھیتی لب دریا ہے تو مغروز نہ ہو
اعتبار اتنا مری جان نہ کر پانی کا

اُن کا فقیر دولتِ عالم سے بے نیاز کاسے میں کائنات کا ٹکڑا پڑا ہوا



گھٹی میں ہے وِلا کا وہ نشہ پڑا ہوا
ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا
صدیوں سے چاکرِ درِ حیدرؑ ہوں دیکھ لو
گردن میں میری طوق ہے اُن کا پڑا ہوا
اور یہ بھی دیکھ لو اسی نسبت کے فیض سے
پیروں پہ ہے مرے سگِ دُنیا پڑا ہوا
سورج کے بعد ماہِ منوّر ہوا طلوُع
تھا بزمِ چار سوُ میں اندھیرا پڑا ہوا
باطل تمام حق سے الگ ہو کے جا گرا
کیا دستِ ذوالفقار تھا سچا پڑا ہوا
اُن کا فقیر دولتِ عالم سے بے نیاز
کاسے میں کائنات کا ٹکڑا پڑا ہوا
اپنے لہو میں مست ہیں تشنہ لبانِ عشق
صحرا میں چھوڑ آئے ہیں دریا پڑا ہوا
بخشش سو بے حساب، نوازش سو بے حساب
ہے مدح گو کو مدح کا چسکا پڑا ہوا

خدا کا نام لے کر منہ اندھیرے اور پی واعظ صراحی کیوں اُٹھا کر طاق پر وقتِ آذاں رکھ دی


الہی کیا محبت میں یہ شکلِ امتحان رکھ دی
کسک دل میں،جلن آنکھوں میں،ہُونٹوں پر فغاں رکھ دی
بہار آئی تو کچھ اہلِ قفس نے فرطِ حسرت سے
فضاے آتشِ گل پر بناۓ آشیاں رکھ دی
سمجھ میں کچھ نہیں آتا یہ کیسا خواب ھے یارب
مری دنیا زمین و آسماں کے درمیاں رکھ دی
خدا جانے اُن کو مرے بارے میں کیا خیال آیا
اُٹھے اُٹھ کر اٹھائی،اور اُٹھا کر داستاں رکھ دی
نہیں معلوم کیا منظور ھے خلاقِ ہستی کو
مری فطرت کے شانوں پر آساسِ دو جہاں رکھ دی
مرے ذوقِ جراحت پر قیامت سی اک آ ٹوٹی،
جب اُس نے تیر پھینکے،اور جُنھجلا کر کماں رکھ دی
خدا کا نام لے کر منہ اندھیرے اور پی واعظ
صراحی کیوں اُٹھا کر طاق پر وقتِ آذاں رکھ دی،
مذاقِ گفتگُو بخشا تو پھر یہ کیسی بندش ھے
خدا نے کس لئے بتیس دانتوں میں زباں رکھ دی
مری بربادیوں کا کچھ دنوں تو تذکرہ رہتا
چمن والو،،ابھی سے کیوں بھلا کر داستاں رکھ دی
فلک سے رحمتیں نازل ہُوں افشاں چننے والوں پر
کسی کی مانگ میں جیسے کہ لا کر کہکہشاں رکھ دی
نصیر،،اُن کے اِس اندازِ کرم نے مار ہی ڈالا
سُنے اوروں کے آفسانے ہماری داستاں رکھ دی

لاکھ کم ظرف ہوں لیکن مرے یارو پھر بھی اپنے دشمن سے عداوت نہیں ہوتی مجھ سے


اس کے حصے کی ریاضت نہیں ہوتی مجھ سے
عمر بھر ایسی..... عبادت نہیں ہوتی مجھ سے
عشق کا مان جو....... بخشا ہے یہ واپس لے لو
ایسی دولت کی حفاظت نہیں ہوتی مجھ سے
اس کا جانا بھی ہے .......فطرت کا تغیر گویا
اب کسی اور کی چاہت نہیں ہوتی مجھ سے
لاکھ کم ظرف ہوں لیکن مرے یارو پھر بھی
اپنے دشمن سے عداوت نہیں ہوتی مجھ سے
میرے اشکوں کو نہ ..دامن میں سمیٹے کوئی
اپنے اشکوں کی تجارت نہیں ہوتی مجھ سے
آﺅ لوگو مرے احساس........ میں پتھر بھر دو
اب کسی غم کی کفالت نہیں ہوتی مجھ سے
شعر لکھتا ہوں مگر .....خود سے کنارہ کرکے
اپنے جذبوں کی وکالت نہیں ہوتی مجھ سے
سہم کر لفظ لپٹ......... جاتے ہیں مجھ سے 
درد لکھنے کی جسارت نہیں ہوتی مجھ سے..

آپ کے ہاتھ سے نمک کھا کر آپ پر !! کیسے بھونکتا صاحب

کیسے گُزرے گا !! دُوسرا صاحب
تھوڑا چھوڑیں گے !! راستہ صاحب

میں کسی اور سے مخاطب ہوں
ناپیے !! اپنا راستہ صاحب

خود کمایا ہے جو گنواتا ہوں
آپ کا کیا ہے !! واسطہ صاحب

آئینہ توڑنے سے کیا ہوگا
عکس بِکھرے ہیں جا بجا صاحب

ہر گھڑی رُخ بدلنا پڑتا ہے
چھوڑیے !! اب یہ دائرہ صاحب

لیجیے مان لی محبت بھی !!
آپ اپنے !! میں آپ کا صاحب

دُور بھی ہو گا خُوب سب لیکن !!
دیکھیے !! کچھ تو پاس کا صاحب

دُودھ سے روز دُھل کے آتے ہیں
آپ سا !! کون پارسا صاحب

آپ کے ہاتھ سے نمک کھا کر
آپ پر !! کیسے بھونکتا صاحب

دو ہی تو خُوبیاں ہیں عابی میں
کج ادا اور بے حیا !! صاحب

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ



وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ

ہم نے اک عمر بسر کی ہے غمِ یار کے ساتھ
میرؔ دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ

اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
طاق پر عزتِ سادات بھی دستار کے ساتھ

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ
چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجئے گا
ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فرازؔ
سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

ایک میں خاک تو دوجے میں اٹھا کر دولت پھینکنے والے ،ترے ہاتھ ترازو نکلے


جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے
ماں کی تصویر سے بے ساختہ بازو نکلے
آپ کی ترش مزاجی بھی گوارا لیکن
بات جیسی ہو مگر امن کا پہلو نکلے
ایک میں خاک تو دوجے میں اٹھا کر دولت
پھینکنے والے ،ترے ہاتھ ترازو نکلے
میرے سردار نے کچھ ایسے مدینہ چھوڑا
جیسے ٹہنی پہ کھلے پھول سے خوشبو نکلے
میں نے مقتل میں جو یاروں کو صدا دی راکب
سر کہیں سے تو کہیں ریت سے بازو نکلے

ٹکرانے کے شوقیں ہیں تو آئیں بِسمِ اللہ ۔۔ ہاہا۔۔بڑے طاقت ور دِل دہلاۓ ہیں میں نے۔۔


سَر پھرے سارے چوکھٹ پر بیٹھاۓ ہیں میں نے۔۔
سب اپنی ہستی کے درباں بناۓ ہیں میں نے۔۔
تم کچھ بھی کہنا پر سوچ سمجھ کر اے صاحب۔۔
کئی سر اِس تخت کے نیچے دبواۓ ہیں میں نے۔۔
ٹکرانے کے شوقیں ہیں تو آئیں بِسمِ اللہ ۔۔
ہاہا۔۔بڑے طاقت ور دِل دہلاۓ ہیں میں نے۔۔
سب آٶ نفرت کو باہر رکھ کر کونے میں۔۔
بےچاروں کے زخم ابھی سِلواۓ ہیں میں نے۔۔
پاگل جو مجھ کو جھُک کے ملتے ہیں عالی جا۔۔
سب کے سب سر آنکھوں پر بیٹھاۓ ہیں میں نے..
دیکھو دیکھو تو خوشی کا عالم ہے ہر سُو۔۔
اُجڑے دِل جو پِھر سے یہاں پر بساۓ ہیں میں نے۔۔
تم ہوگے شاہ اپنے گھر کے تو ہو گے علوی۔۔
اس گھر پر پنجتنی جھنڈے لگواۓ ہیں میں نے..


صدائے کُن اور فِکاں کا منظر ہو پوچھنا تو اِسی سے پوچھو یہ لامکانی میں رہ چُکا ہے اِس عرش والے وطن سے پہلے



کلامِ حق کا یہی ہے محور ٬ خیال اِس کا سخن سے پہلے
ہے اِس کے دم سے ہی ساری خِلقت٬ وجود اِس کا ہے کُن سے پہلے

خُدا ہی جانے کہ کس لگن سے بنایا خلوت میں اُس نے اِس کو
کہ فرصتوں میں اِسے تراشا مصوری کے بھی فن سے پہلے

طلسم ہے اِس کے اسم میں یہ٬ پُکار  لو تو مِلے ہے ٹھنڈک
خلیل  سالم  گزر  گیا   تھا  جو  ڈر  رہا   تھا  اگن  سے  پہلے

اگر  یہ  کہہ دوں  کہ جسم اِس کا ازل سے بھی قبل تھا ٬ بجا ہے
خُدا نے اُس سے  نبی بنائے  جو  عرق  نِکلا  بدن  سے  پہلے

خُدا نے  چاہا  کہ اِک جگہ ہو جہاں پہ اِس کو مِلا کروں میں
یہ عرش نا تھا٬ براق نا تھی ٬ خُدا کے سوہنے سجن سے پہلے

جو اِس کا طرزِ عمل تھا جگ میں وہ آیتیں بنتی جا رہی تھیں
جہالتوں کا  تھا  اِک اندھیرا ٬ ہدایتوں  کی  کِرن  سے  پہلے

صدائے کُن  اور  فِکاں کا  منظر  ہو پوچھنا تو اِسی سے پوچھو
یہ  لامکانی میں رہ  چُکا ہے اِس عرش  والے  وطن  سے   پہلے

ازل سے  لے کر  ابد تلک  کا   ہے  علم  سارا   فقط   اِسی  کو
یہی ہے مخبر ہر ایک شے کا ٬ ہر اِک زماں کا ٬ زمن سے پہلے

جہاں میں اِس کی نظیر کب ہے کہ جس سے تعبیر اِس کو کر دوں
کہوں  جو عالم  کو  گلستاں تو  یہ گل  کھِلا  ہے  چمن  سے پہلے

ہو شکل و سیرت میں ایک  جیسا ٬ طہارتیں جس کا نقشِ پا ہوں
نا  کوئی آئے  گا  تا قیامت ٬ نا  کوئی  آیا  ہے اِن  سے پہلے

بتاؤ  مجھ  کو  کہاں  ہے  یوسف کہ  وہ حسینوں  میں معتبر ہے
دِکھاؤں  اُس  کو  وہ  خوبرو  جو  ہے  حُسنِ کامل٬ حُسن سے پہلے

نہیں  ہے  کوئی  روشؔ  جہاں میں  سوائے  آقائے  دوسراء کے
کہ  نام  لینے  کے بعد جس   کا٬ درود   نِکلے  دہن  سے  پہلے

Wednesday, 23 May 2018

مجھے معلوم تھا وہ داستاں کے آخر میں ہاتھ سے کھینچ لے گا اپنی کلائی واپس


یار نے گال سے جب زلف ہٹائی  واپس
آنکھ چندھیا سی گئی  ،دیکھ نہ پائی واپس
کاش !میں  پھر سے کبھی چاند پہ چرخہ دیکھوں!
کاش ! لوٹ آئے کبھی "چاند کی مائی" واپس!
چھین لے مجھ سے مرا عیش اور آرام سبھی
مجھ کو دے دے مری" دستارِ گدائی" واپس
اِس میں بھی تیری ہی صحبت کا اثر ہے صاحب!
یاد کب تیری طرح لوٹ کر آئی واپس
مار اِک بار زمانے کی جس نے کھائی ہو
اُس نے پھر مار زمانے کی نہ کھائی واپس
تُو نے بس آگ لگانی تھی، تجھے کیا معلوم؟
کتنے اشکوں کے عوض  آگ بجھائی واپس
تُو نے جو جان عطا کی ہے، خدائی ہے تری
کھیل اب کر دے ختم! لے لے خدائی واپس
وصل میں ہجر کی باتوں سے کہیں بہتر ہے
مانگ لیتے ہیں علیؔ پھر سے  جدائی واپس
مجھے معلوم تھا وہ  داستاں کے آخر میں
ہاتھ سے کھینچ لے گا اپنی کلائی واپس
دیکھ لوقبر میں جی بھر کے علیؔ کا چہرہ!
اب نہ آوے گا کبھی عشق کا داعی واپس
...
علیؔ سرمد

موت کی ٹھنڈی گلی سے بھاگ کر آیا ہوں میں کھڑکیوں کو بند کر ، جلدی سے اور ہیٹر لگا


یہ الگ اس مرتبہ بھی پشت پر خنجر لگا
یہ الگ پھر زخم پچھلے زخم کے اندر لگا
مجھ سے لپٹی جا رہی ہے اک حسیں آکاس بیل
یاد کے برسوں پرانے پیڑ کو کینسر لگا
موت کی ٹھنڈی گلی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
کھڑکیوں کو بند کر ، جلدی سے اور ہیٹر لگا
بند کر دے روشنی کا آخری امکان بھی
روزنِ دیوار کو مٹی سے بھر ، پتھر لگا
کیا بلندی بخش دی بس ایک لمحے نے اسے
جیسے ہی سجدے سے اٹھا ، آسماں سے سر لگا
پھیر مت بالوں میرے ، اب سلگتی انگلیاں
مت کفِ افسوس میرے ، مردہ چہرے پر لگا
ہے محبت گر تماشا تو تماشا ہی سہی
چل مکانِ یار کے فٹ پاتھ پر بستر لگا
بہہ رہی ہے جوئے غم ، سایہ فگن ہے شاخِ درد
باغِ ہجراں کو نہ اتنا آبِ چشمِ تر لگا
اتنے ویراں خواب میں تتلی کہاں سے آئے گی
پھول کی تصویر کے پیچھے کوئی منظر لگا
اک قیامت خیز بوسہ اس نے بخشا ہے تجھے
آج دن ہے ، لاٹری کے آج چل نمبر لگا

روز ہوتی ہے بات پھولوں سے لب ہیں؟ گل دان باندھ رکّھا ہے


یہ جو سامان باندھ رکّھا ہے
ایکــــ امکان باندھ رکّھا ہے

عشق زنجیرکب ہے ، پَیروں نے
تیرا احسان باندھ رکّھا ہے

روز ہوتی ہے بات پھولوں سے
لب ہیں؟ گل دان باندھ رکّھا ہے

اشک سمجھے ہو ، میں نے آنکھوں میں
دل کا نقصان باندھ رکّھا ہے

شعر کہتی ہیں اُس کی آنکھیں یوں
جیسے دیوان باندھ رکّھا ہے

اس کے لہجے کی چاشنی ، آ ہا
گویا ملتان باندھ رکّھا ہے

جان دینے کے سبهی داو سکهائے ہیں اسے میرا شاگرد ہے! ناکام نہیں آ سکتا

تو ہے معصوم، مرے کام نہیں آ سکتا
تجھ پہ تو قتل کا الزام نہیں آ سکتا

جب یہ طے ہے کہ نہیں ہو گا کبھی ذکر ترا
گفتگو میں کوئی ابہام نہیں آ سکتا

پہلے بھجواؤ کوئی رات سی کالی چادر
میرا مہتاب، سرِ عام نہیں آ سکتا

ہائے اب ڈاکیہ بھی فون لیے پھرتا ہے
اب مرے دوست کا پیغام نہیں آ سکتا

مر کے بھی تم کو سکھا پاؤں گا میں کارِ وفا
چار دن میں تو میاں ! کام نہیں آ سکتا

پینے والوں سے گزارش ہے کہ اٹھ کے پی لیں
آج  گردش میں مرا جام نہیں آ سکتا

جان دینے کے سبهی داو سکهائے ہیں اسے
میرا شاگرد ہے! ناکام نہیں آ سکتا

نون غنہ بهی گرانا مجهے منظور نہیں
یعنی اس بحر میں وہ نام نہیں آ سکتا

ٹھہریے! میں ذرا اس دل کو کرا لوں خاموش
اوئے پاگل! تجھے آرام نہیں آ سکتا؟

شاعرو! حسرت دیدار بجا ہے لیکن
عید کا چاند تو ہر شام نہیں آ سکتا

شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا


کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا

وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی
کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا

ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا

شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری
کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا

وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا

کہاں میرے دل کی حسرت، کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا، ترے دوش پر بکھرنا

چلے لاکھ چال دنیا ہو زمانہ لاکھ دشمن
جو تری پناہ میں ہو اسے کیا کسی سے ڈرنا

وہ کریں گے نا خدائی تو لگے گی پار کشتی
ہے نصیرؔ ورنہ مشکل، ترا پار یوں اترنا

میرے سینے میں دل ہی کا پتہ مِلتا نہیں مُجھ کو میں اپنے دل کو ڈھونڈوں یا تُمہارے تیر کے ٹُکڑے

نہ نِکلےہیں نہ یوں نِکلے تُمہارے تیر کے ٹُکڑے
رکھو سینہ پہ زانُو اور نِکالو چیر کے ٹُکڑے

پئے تسکین دل وہ دے گئے ہیں تیر کے ٹُکڑے
بحمداللہ مِلے مُجھ کو میری تقدیر کے ٹُکڑے

میرے سینے میں دل ہی کا پتہ مِلتا نہیں مُجھ کو
میں اپنے دل کو ڈھونڈوں یا تُمہارے تیر کے ٹُکڑے

یہ فرمایا جو آئے اپنے وحشی کے جنازے پر
بجائے چادرِ گُل ڈال دو زنجیر کے ٹُکڑے

میرا قاصد یہ لایا ہے جواب! اور یہ جواب آیا
کہ لا کر دے دیئے مُجھ کو میری تحریر کے ٹُکڑے

متاعِ وحشتِ دل لے کے اُٹھیں گے قیامت میں
ہمارے ساتھ رکھ دو قبر میں زنجیر کے ٹُکڑے

جگر کو کُچھ مِلا کُچھ دل نے پائے کُچھ رگِ جاں نے
ہوئے تقسیم یُوں القصہ اُن کے تیر کے ٹُکڑے

تبرک ہو گئیں کٹتے ہی ساری بیڑیاں میری
کہ مجنوں لینے آیا نجد سے زنجیر کے ٹُکڑے

دمِ آخر تیرا دیوانہ تڑپا ہے کہ زِنداں میں
پڑے ہیں جا بجا ٹوٹی ہوئی زنجیر کے ٹُکڑے

سراپائے شہیدِ کربلا ہے مُصحفِ ناطق
ہیں بیدمؔ پارۂ قُرآں تنِ شبیرؑ کے ٹُکڑے

Sunday, 20 May 2018

کسی کی یاد سے تسکینِ جاں ھے وابستہ کسی کا ذکر چلے اور بار بار چلے


*
اُجڑ گیا ھے چمن لوگ دلفگار چلے
کوئی صبا سے کہو اب نہ بار بار چلے
یہ کون سیر کا ارماں لئے چمن سے گیا
کہ بادِ صبا کے جھونکے بھی سوگوار چلے
یہ کیا کہ کوئی بھی رویا نہ یاد کر کے اُنہیں
وہ چند پھول جو حُسنِ چمن نکھار چلے
نقاب،،اُٹھا کہ پڑے اہلِ درد میں ہلچل
نظر ملا،، کہ چُھری دل کے آر پار چلے
خُوشا کہ در پہ ترے سر جھکا لیا ہم نے
یہ اک قرضِ جبیں تھا جسے اُتار چلے
کہے جو حق وہ کیوں کرے ماألِ حق سے گریز
کوئی چلے نہ چلے ہم تو سُوے دار چلے
اَب اِس کے بعد چمن جانے یا صبا جانے
گزارنے تھے ہمیں چار دن گزار چلے
پلٹ کے دیکھا نہ ایک بار کارواں نے ہمیں
گِرے پڑوں کی طرح ہم پسِ غبار چلے
جو اُن کی یاد میں چمکے کبھی سرِ مژگاں
وہ چار اشک مری عاقبت سنوار چلے
کسی کی یاد سے تسکینِ جاں ھے وابستہ
کسی کا ذکر چلے اور بار بار چلے
تہماری بزم سے تاثیر اُٹھ گئی شاید
بہ حالِ زار ہم آۓ،بہ حالِ زار چلے
غریبِ شہر کی میت کے ساتھ روتا کون
مِرا سلام ہو اُن پر جو اشک بار چلے
قفس میں روز دکھاتا ھے آشیاں صیاد
نصیر آگ لگا دوں جو اختیار چلے
کلام الشیخ پیر سید نصیر الدین نصیرؔ

نسبتیں لاکھ بدل ڈالے زمانہ لیکن ایک دنیا تو مجھے اب بھی ترا جانتی ہے


راز در پردۂ دستار و قبا جانتی ہے
کون کس بھیس میں ہے خلقِ خدا جانتی ہے
کون سے دیپ نمائش کے لئے چھوڑنے ہیں
کن چراغوں کو بجھانا ہے ہوا جانتی ہے
اک مری چشمِ تماشہ ہے کہ ہوتی نہیں سیر
فکرِ منزل ہے کہ رُکنے کو برا جانتی ہے
نشۂ عشق مجھے اور ذرا کر مدہوش
بے خودی میری ابھی میرا پتہ جانتی ہے
یہ کبھی مجھ کو اکیلا نہیں ہونے دیتی
میری تنہائی مجھے تم سے سوا جانتی ہے
آپ ایجاد کریں جور و ستم روز نئے
بھول جانے کا ہنر میری وفا جانتی ہے
دشت منظور ہے لیکن مجھے منظور نہیں
ایسی بستی جو شرافت کو خطا جانتی ہے
کون سے بُت ہیں جنہیں دست ِ پیمبر توڑے
اُمّتِ حرص تو پیسے کو خدا جانتی ہے
نسبتیں لاکھ بدل ڈالے زمانہ لیکن
ایک دنیا تو مجھے اب بھی ترا جانتی ہے
اور کیا دیتی محبت کے سوا ارضِ وطن
ماں تو بیٹوں کے لئے صرف دعا جانتی ہے
میرے الفاظ ہیں دراصل قلم کے آنسو
روشنائی لہو بننے کی ادا جانتی ہے

ناز ہو ننّھی چڑیوں کے خوں پر جنہیں اُن عقابوں سے تُو بال و پر چھین لے


کر کے غاصب کو زیر و زبر چھین لے
تجھ سے چھینے گئے جو گہر، چھین لے
ناز ہو ننّھی چڑیوں کے خوں پر جنہیں
اُن عقابوں سے تُو بال و پر چھین لے
جس کی بنیاد تیرے عرق سے اٹھی
اُس سپھل پیڑ سے برگ و بر چھین لے
نرم خُوئی تلک نرم خُو ہو، مگر
دستِ جارح سے تیغ و تبر چھین لے
حق ملے گا تجھے دشتِ وحشت میں کیا
چھین لے، چھین سکتا ہے گر، چھین لے
جس کا حقدار ہے تو وہ تکریمِ فن
تو بھی اے ماجدِ با ہنر! چھین لے

نو لاکھ سمجھتے تھے کہ شبیر ہے باغی اور وہ تھا کہ سجدے کی جگہ سوچ رہا تھا

وہ درد کی اقصیٰ پہ کھڑا سوچ رہا تھا
خیموں کو بچانے کی دعا سوچ رہا تھا
نو لاکھ سمجھتے تھے کہ شبیر ہے باغی
اور وہ تھا کہ سجدے کی جگہ سوچ رہا تھا
توحید کی مرضی تھی کہ شبیر ہو راضی
شبیر سکینہ کی رضا سوچ رہا تھا
شہہ رگ پہ اترتی ہوئی ضربوں پہ تبسم ؟
خنجر تلے بندہ ہے ؟ خدا سوچ رہا تھا
تھے شامِ غریباں کے سبھی درد نظر میں
پھر بھول کے ضربوں کو وہ کیا سوچ رہا تھا
غازی جو نہیں ہے تو میرا سر ہے سناں پہ
اب کون بچائے گا ردا سوچ رہا تھا
خیرات ہے شبیر کی حیدرؔ یہ زمانہ
پھر کتنی بڑی ہو گی عطا سوچ رہا تھا

یہ اور بات کہ پیاسے کی پیاس لے ڈوبی فرات نے تو بڑے ہاتھ پاؤں مارے تھے

جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے
ہواۓ شام کے جھونکے نہیں تھے آرے تھے

دلاسہ دیتے ہوے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے

مرے کریم کھلی آنکھ سے گزار کبھی
وہ قافلے جو مرے خواب سے گزارے تھے

یہ اور بات کہ پیاسے کی پیاس لے ڈوبی
فرات نے تو بڑے ہاتھ پاؤں مارے تھے

ہمارے پیار کی تفصیل پوچھنے والو
ہم ایک باہمی دریا کے دو کنارے تھے

پھر ایک دن میں منافق بنا تو یار بنے
وگرنہ جان کے دشمن تو ڈھیر سارے تھے

Saturday, 19 May 2018

ناز ہو ننّھی چڑیوں کے خوں پر جنہیں اُن عقابوں سے تُو بال و پر چھین لے


کر کے غاصب کو زیر و زبر چھین لے
تجھ سے چھینے گئے جو گہر، چھین لے
ناز ہو ننّھی چڑیوں کے خوں پر جنہیں
اُن عقابوں سے تُو بال و پر چھین لے
جس کی بنیاد تیرے عرق سے اٹھی
اُس سپھل پیڑ سے برگ و بر چھین لے
نرم خُوئی تلک نرم خُو ہو، مگر
دستِ جارح سے تیغ و تبر چھین لے
حق ملے گا تجھے دشتِ وحشت میں کیا
چھین لے، چھین سکتا ہے گر، چھین لے
جس کا حقدار ہے تو وہ تکریمِ فن
تو بھی اے ماجدِ با ہنر! چھین لے

گھر جو ٹوٹا تو گیے ماں کی طرف ہی بچے، مُڑ کے دیکھا ہی نہیں باپ کی شفقت کی طرف۔۔


دھیان رہتا ہے تیرے غم کی عنایت کی طرف۔۔
کیسے جائیں گے کسی اور کی چاہت کی طرف۔۔
بات نکلے گی تو سب تیری طرف دیکھیں گے،
مجھ کو آنے ہی نہیں دیں گے وضاحت کی طرف۔۔
نا مناسب تھا مگر میں نے مسلسل دیکھا،
تھی جو اک تم سے مشابہ، اُسی صورت کی طرف۔۔
گھر جو ٹوٹا تو گیے ماں کی طرف ہی بچے،
مُڑ کے دیکھا ہی نہیں باپ کی شفقت کی طرف۔۔
جس کی بنیاد میں پتھر نہ کسی جرم کا ہو،
لے چلے کوئی ہمیں ایسی عمارت کی طرف۔۔
ایک عورت کو سمجھنے کے لئے کم ہے حیات،
کس طرح آئے ہو تم دوسری عورت کی طرف۔۔
منزلِ عشق ہے دشوار مگر عزمِ سفر،
دل نے رکھا ہے اُسی کوئے ملامت کی طرف۔۔

Thursday, 17 May 2018

کہیں امکان سے باہر نہ ہو یہ خواہشِ تعمیر میری کہ میں دنیا کو دنیا سے ذرا بہتر بنانا چاہتا ہوں

محبت کے ابد آباد میں اک گھر بنانا چاہتا ہوں
بنانا جس کا ممکن تو نہیں ہے، پر بنانا چاہتا ہوں

یہ لامحدود آزادی مگر میرے مقدر میں نہیں ہے
کہ میں دیوار میں دیوار جتنا در بنانا چاہتا ہوں

یہ آنسو جو بہت شوریدہ سر ہے، ضبط میں رکھا ہوا ہے
میں اس کی پرورش کر کے اسے گوہر بنانا چاہتا ہوں

کہیں امکان سے باہر نہ ہو یہ خواہشِ تعمیر میری
کہ میں دنیا کو دنیا سے ذرا بہتر بنانا چاہتا ہوں

زمیں پیرانہ سالی میں جھکے افلاک سے تنگ آ گئی ہے
نیا سورج، نئے تارے، نیا امبر بنانا چاہتا ہوں

یہ دنیا ان گنت اصنام کا اک بت کدہ لگتی ہے مجھ کو
انہیں مسمار کر کے ایک ہی پیکر بنانا چاہتا ہوں


Wednesday, 16 May 2018

ہے سیاہ پوشوں میں کعبہ اس پہ بھی فتوی لگا کالی کملی کی بھی اس پوشاک سے نسبت تو ہے



کوزہ گر سے نہ سہی پر چاک سے نسبت تو ہے
خاک بھی نجمی نہیں پر خاک سے نسبت تو ہے
خلد سے آیا ہوں میں اس میں تو کوئی شک نہیں
میں زمیں پر ہی سہی افلاک سے نسبت تو ہے
گو نہیں سمجھا مجھےپر شعر سمجھے ہے مرے
کچھ مرے کج فہم کو ادراک سے نسبت تو ہے
میں رجز خوانی کا قائل تو نہیں لیکن مجھے
اپنے پرکھوں کی بھی اونچی ناک سے نسبت تو ہے
ہے سیاہ پوشوں میں کعبہ اس پہ بھی فتوی لگا
کالی کملی کی بھی اس پوشاک سے نسبت تو ہے
صحبتیں پہچان بن جاتی ہیں نجمی سوچ لے
تو نہیں پر تیری اک چالاک سے نسبت تو ہے

وارث شاه سب ہی سو جاندے، بس جاگدا "پروردگار" .راتی.

____________
اک رات دا جاگن بہت اوکھا،
اک جاگدا دکھی بیمار راتی:

یا جاگدا چور تے ٹھگ راتی،
یا جاگدا پہرےدار راتی:

یا جاگدا عشق دی رمز والا،
یا جاگدا یار دا یار راتی:

وارث شاه سب ہی سو جاندے،
بس جاگدا "پروردگار" .راتی.

                                                        *وارث شاہ*

ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﺗُﻮ ﺗﻮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻣﺮﺍ ﺣﺒﯿﺐ ﮨﻮﺍ


ﻭﮦ   ﻣﺮﮮ    ﺍﺱ   ﻗﺪﺭ   ﻗﺮﯾﺐ   ﮨﻮﺍ
ﺍﺱ  ﺳﮯ  ﻣﻠﻨﺎ  ﻧﮧ  ﭘﮭﺮ   ﻧﺼﯿﺐ  ﮨﻮﺍ
ﺟﺲ  ﻗﺪﺭ  ﺳﻮﭼﺘﺎ  ﮨﻮﮞ  ﮨﻨﺴﺘﺎ  ﮨﻮﮞ
ﺁﺝ    ﺍﯾﮏ    ﻣﺎﺟﺮﺍ     ﻋﺠﯿﺐ     ﮨﻮﺍ
ﺁﭖ   ﺳﮯ   ﺍﺏ   ﮐﻮﺋﯽ   ﻣﻼﻝ   ﻧﮩﯿﮟ
ﺷﮑﺮ  ﮨﮯ  ﮐﭽﮫ  ﺳﮑﻮﮞ  ﻧﺼﯿﺐ  ﮨﻮﺍ
ﺩﯾﮑﮫ  ﺁﯾﺎ  ﮨﮯ  ﺁﺝ  ﺧﻮﺩ  ﺑﮭﯽ  ﺍﻧﮩﯿﮟ
ﺁﺝ   ﮐﭽﮫ    ﻣﻄﻤﺌﻦ    ﻃﺒﯿﺐ    ﮨﻮﺍ
ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭼﭗ ﮨﯽ ﺭﮨﻮﻧﮕﺎ ﻣﺤﺸﺮ ﻣﯿﮟ
ﻭﮦ   ﭘﺮﯼ   ﻭﺵ    ﺍﮔﺮ  ﻗﺮﯾﺐ   ﮨﻮﺍ
ﭘﻮﺟﺘﯽ    ﮨﮯ    ﻋﺪﻡ   ﺟﺴﮯ    ﺩﻧﯿﺎ
ﮐﻮﻥ     ﺍﺗﻨﺎ     ﺑﮍﺍ      ﺍﺩﯾﺐ      ﮨﻮﺍ
ﮨﺎﺗﮫ  ﺭﮐﮭﺘﮯ  ﮨﯽ ﻧﺒﺾ   ﭘﺮ    ﻣﯿﺮﯼ
ﮐﺲ  ﻗﺪﺭ   ﻣﻀﻄﺮﺏ   ﻃﺒﯿﺐ   ﮨﻮﺍ
ﺗﺠﮫ  ﺳﮯ  ﮐﯿﺎ  ﭼﯿﺰ  ﻗﯿﻤﺘﯽ  ﮨﻮﮔﯽ
ﺗُﻮ   ﺗﻮ   ﭘﯿﺎﺭﮮ   ﻣﺮﺍ   ﺣﺒﯿﺐ   ﮨﻮﺍ
ﺩﻭ   ﮨﯽ  ﺑﺎ  ﺫﻭﻕ  ﺁﺩﻣﯽ  ﮨﯿﮟ ﻋﺪﻡ
ﻣﯿﮟ    ﮨﻮﺍ    ﯾﺎ   ﻣﺮﺍ   ﺭﻗﯿﺐ   ﮨﻮﺍ
(عبد الحمید عدم)

Tuesday, 15 May 2018

اتنی ہمت کہاں میرے عدو میں تھی میرے مقابل احباب کے لشکر آئے

جب بھی تیرے گھر کے برابر آئے
چار سو میسر ہمیں کتنے پتھر آئے

کل شب ہوا کے ہاتھوں پہ
کچھ سوکھے پھول میرے در پر آئے

چھپ گیا چاند، جب ستارے بجھ گئے
آنکھ میں تجھ سے بچھڑنے کے منظر آئے

ہاتھ بھول گئے، پھر دعا کا ہنر
تیرے در سے خالی جو پلٹ کر آئے       

اتنی ہمت کہاں میرے عدو میں تھی
میرے مقابل احباب کے لشکر آئے

دن بھر ضرورت نے رکھا مصروف
ڈھلی شام تو آنسو اُتر آئے

گھر گھر، ہنگامہ محشر ہے برپا
ہر موڑ پہ مقتل نظر آئے

ہوائیں ہیں حوادث کی اڑا لے جائیں گی سب کچھ اگر میں رہ گئی تنہا تو گھر آباد کیا ہوگا

یہی تو سوچ کر اب خوف آتا ہے مجھے اکثر
ابھی تو ٹھیک ہے لیکن تمہارے بعد کیا ہوگا

ہوائیں ہیں حوادث کی اڑا لے جائیں گی سب کچھ
اگر میں رہ گئی تنہا تو گھر آباد کیا ہوگا

نہ خوشبو ہے نہ سایا ہے نہ اُس کی کوئی آہٹ ہے
اب اس سے بڑھ کے میرا گھر بھلا برباد کیا ہوگا

جہاں اس زندگانی کا آخری اک موڑ آتا ہے
وہاں بھی ہوسکی مجھ سے نہ کچھ فریاد کیا ہوگا

مجھی میں رہ گیا گھُٹ گھُٹ کے میری ذات کا پنچھی
اگر آزاد اب ہوگا تو یہ آزاد کیا ہوگا

ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﺷﺖ ﻭ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ


ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻮ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﺭﻭﮐﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ
ﺩﺷﺖ ﻭ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﺍﯾﮏ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﺎ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮨﺎﮞ ﻧﮕﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ میری ﺗﻮﮨﯿﻦِ ﺍﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﯽ
ﺍﺏ ﮔﺪﺍ ﮔﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﺪﺍ ﮔﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﻣﻮﻟﯽٰ
ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮯ ﮐﮧ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﭼﺎﻧﺪ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ تیرے ﻣﺎﺗﮭﮯ ﮐﺎ ﺟﮭﻮﻣﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺁﻧﮕﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﭧ ﭘﺎﯾﺎ
ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﻨﻮﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ

موت وہ ساقی کہ جس کے کبھی تھکتے نہیں ہاتھ بھرتی جائے گی سدا جام وہ اک جام کے بعد


خواب کیا دیکھے کوئی نیند کے انجام کے بعد
کس کو جینے کی ہوس حشر کے ہنگام کے بعد
عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ اب
وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد
ایک ہی اسم کو بارش نے ہرا رکھا ہے
پیڑ پہ نام تو لکھّے گئے اُس نام کے بعد
ہندسے گِدھ کی طرح دن میرا کھا جاتے ہیں
حرف ملنے مجھے آتے ہیں ذرا شام کے بعد
موت وہ ساقی کہ جس کے کبھی تھکتے نہیں ہاتھ
بھرتی جائے گی سدا جام وہ اک جام کے بعد
تھک کے میں بیٹھ گئی اب مگر اے سایہ طلب
کس کی خیمے پہ نظر جاتی تھی ہرگام کے بعد

میرے ارمان سے واقف نہیں ،شرمائیں گے آپ آپ کیوں کھاتے ہیں ناحق مرے ارماں کی قسم


آؤ بے پردہ! تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم
ہم نہ چھیڑیں گے ،ہمیں زلف پریشاں کی قسم
چاک داماں کی قسم ،چاک گریباں کی قسم
ہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسم
میرے ارمان سے واقف نہیں ،شرمائیں گے آپ
آپ کیوں کھاتے ہیں ناحق مرے ارماں کی قسم
نیند آئے نہ کبھی تجھ سے بچھڑ کر ظالم
اپنی آنکھوں کی قسم، تیرے شبستاں کی قسم
لب جاناں پہ فدا ،عارض جاناں کے نثار
شام رنگیں کی قسم، صبح درخشاں کی قسم

Monday, 14 May 2018

قامت بھی ہماری ہے ، لبادہ بھی ہمارا مانگی ہوئی دستار و قبا میں نہیں رہتے


پندار کی ویران سرا میں نہیں رہتے
ہم خاک پہ رہتے ہیں خلامیں نہیں رہتے
قامت بھی ہماری ہے ، لبادہ بھی ہمارا
مانگی ہوئی دستار و قبا میں نہیں رہتے
ہم کشمکشِ دہر کے پالے ہوئے انسان
ہم گریہ کناں کرب و بلا میں نہیں رہتے
خاشاکِ زمانہ ہیں ، نہیں خوف ہمیں کوئی
آندھی سے ڈریں وہ جو ہوا میں نہیں رہتے
ہم چھوڑ بھی دیتے ہیں کُھلا توسنِ دل کو
تھامے ہوئے ہر وقت لگامیں نہیں رہتے
روحوں میں اتر جاتے ہیں تیزاب کی صورت
لفظوں میں گھلے زہر صدا میں نہیں رہتے
احساس کے موسم کبھی ہوجائیں جو بے رنگ
خوشبو کے ہنر دستِ صبا میں نہیں رہتے
اونچا نہ اُڑو اپنی ضرورت سے زیادہ
تھک جائیں پرندے تو فضا میں نہیں رہتے
دستار بنے جاتے ہیں اب شہرِ طلب میں
کشکول کہ اب دستِ گدا میں نہیں رہتے
اس خانہ بدوشی میں خدا لائے نہ وہ دن
جب بچھڑے ہوئے یار دعا میں نہیں رہتے

مناؤ جشن مے نوشی، بکھیرو زلف مے خانہ عبادت سے تو ساغر دہر کے شیطان جلتے ہیں



تیری دنیا میں یارب زیست کے سامان جلتے ہیں
فریب زندگی کی آگ میں انسان جلتے ہیں
دلوں میں عظمت توحید کے دیپک فسردہ ہیں
جبینوں پر ریا وکبر کے فرمان جلتے ہیں
حوادث رقص فرما ہے،، قیامت مسکراتی ہے
سنا ہے ناخدا کے نام سے طوفان چلتے ہیں
شگوفے جھولتے ہیں اس چمن میں بھوک کے جھولے
بہاروں میں نشیمن تو بہر عنوان جلتے ہیں
کہیں پازیب کی چھن چھن میں مجبوری تڑپتی ہے
ریا دم توڑ دیتی ہے سنہرے دان جلتے ہیں
مناؤ جشن مے نوشی، بکھیرو زلف مے خانہ
عبادت سے تو ساغر دہر کے شیطان جلتے ہیں

نظر اُٹھا کے دیکھ لو منظور نظر کو پیشِ خدمت ٹوٹا ہُوا #شخص لایا ہوں


لفظوں کا آج میں #رقص لایا ہوں
دریچہِ دل کا میں اک #عکس لایا ہوں
نظر اُٹھا کے دیکھ لو منظور نظر کو
پیشِ خدمت ٹوٹا ہُوا #شخص لایا ہوں
رسوا تو ہوں گے یہ جان کر بھی میں
خواب توقعات کے #برعکس لایا ہوں
پانی سے پانی پر تو پانی لکھ لیا ہوگا
میں #سمندر کو مقیدِ قفس لایا ہوں
خوش نما صورت پہ خود کو وار دیتے ہیں
میں بہک کر بھی قابو میں #نفس لایا ہوں
#جہاں رچا بسا ہوں تری یاد میں اتنا
کہ اپنی غزلوں میں تیرا لمس لایا ہوں

Thursday, 10 May 2018

مری متاعِ تخیل پہ اک نگاہ کہ میں ابو تراب کی صف سے دورد بھیجتا ہوں

نعت سید لولاک احباب آپ سب کی نذر!

طلوعِ صبح کی صف سے درود بھیجتا ہوں
میں چشمِ اشک بکف سے درود بھیجتا ہوں

مرے شعور کی لکنت انھی کے دم سے کھلی
انھی کے فیض و شرف  سے  درود بھیجتا ہوں

یہ مجھ پہ خاص کرم ہے کہ نعت کہنے لگا
وہ یوں کہ حرفِ ردف سے درود بھیجتا ہوں

خدا کی حمد تو قربت سے متّصل ہے مگر
فراق و ہجر کے لف سے درود بھیجتا ہوں

رگوں میں اذنِ خدا سےتھرک رہا ہے الاپ
میں اک خیال کے دف سے درود بھیجتا ہوں

مدینے حاضری لگتی ہے پیش گاہِ رسول
جب اپنے دل کے نجف سے درود بھیجتا ہوں

مجھے روا ہی نہیں کچھ مگر شکستِ انا
نگہ الگ ہے کلف سے، درود بھیجتا ہوں

مری متاعِ تخیل پہ اک نگاہ کہ میں
ابو تراب کی صف سے دورد بھیجتا ہوں



کنیزِ  فاطمہ زہرا سلام بھیجتی ہے
سومیں بھی ماں کی طرف سےدرودبھیجتا ہوں

دعا کا طالب!۔۔

عقیل ملک۔۔۔

کہتے ہیں اُس سے بچ کے گزرتی ہیں آندھیاں. جس قبر پر چراغ نہ جلتا ہو شام کو.


دریا    مچل    رہا   ہے    اگر    انتقام   کو.
میں بھی لکِھوں گا ریت پہ اب اپنے نام کو.

کہتے ہیں اُس سے بچ کے گزرتی ہیں آندھیاں.
جس  قبر   پر  چراغ  نہ  جلتا  ہو  شام  کو.

ساحل  بھگو  رہی  تھی سخاوت  فُرات کی.
گھیرا   ہُوا  تھا   آگ  نے  میرے  خیام  کو.

بیدارئی     ضمیرِ    کفِ   خاک   حشر   ہے.
سورج   اُتر   رہا   ہے   زمیں   کے سلام کو.

تنقید   کر   کے   میرے   ہُنر   کی  اُڑان پر.
تسلیم   کر   رہا   تھا   وہ  میرے مقام کو.

جو تیری منتظر تھیں وہ آنکھیں ہی بجھ گئیں.
اب  کیوں   سجا   رہا   ہے  چراغوں سے بام کو.

رُوٹھی  ہوُئی  ہوائیں  کہاں  ہیں کہ دشت میں.
محسن   ترس   گئے   ہیں   بگولے.  خرام   کو

محسن نقوی

ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے ساقی ترے میخوار بڑی دیر سے چپ ہیں


انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں
کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں
آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل
روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں
اب کوئی اشارہ ہے نہ پیغام نہ آہٹ
بام و در و دیوار بڑی دیر سے چپ ہیں
ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے
ساقی ترے میخوار بڑی دیر سے چپ ہیں
یہ برق نشیمن پہ گری تھی کہ قفس پر
مرغان گرفتار بڑی دیر سے چپ ہیں
اس شہر میں ہر جنس بنی یوسف کنعاں
بازار کے بازار بڑی دیر سے چپ ہیں
پھر نعرۂ مستانہ فراز آؤ لگائیں
اہل رسن و دار بڑی دیر سے چپ ہیں
جو داد نہ ملی تو گلہ کیا ہے غیر سے۔
میرے تو اپنے یار بڑی دیر سے چپ ہیں

واعظ ! میں کوئی چور ہوں جو تجھ سے دبوں گا؟ منہ توڑ کے رکھ دوں گا اگر تلخ ہوا تو .



واعظ ! میں کوئی چور ہوں جو تجھ سے دبوں گا؟
منہ  توڑ  کے  رکھ  دوں  گا  اگر  تلخ  ہوا  تو
.
حیران نہ ہو خستہ تنی دیکھ کے میری
میں ٹھیک ہوں ،سب خیر ہے ،بس اپنی سنا تو
.
میں جانتا ہوں کس نے کہاں گرد اڑائی
یہ قصے میاں اور کہیں جا کے سنا تو
.
گلیوں میں پھرا بھی ہے کبھو چاک گریباں ؟
تو ؟ اور کہے میر سا خود کو ؟ ابے جا تو
.
جو خود سے ملا ،سچ ہے ،ملا عین خدا سے
ملنا ہے خدا سے تو خودی اپنی گنوا تو
.
سالک ہے تو کیا راہ کی سختی کی شکایت
عاشق ہے تو پھر کیوں نہیں راضی بہ رضا تو ؟
.
صورت پہ مجھے اپنی کیا خلق جو تو نے
پھر پہلا طلب گار بتا میں ہوا یا تو؟

اس نے __پیشے کی رعایت سے مرا نام لیا شہر کا شہر___ بلانے لگا توہین کے ساتھ


تونے وہ کچھ کیا میرے دل غمگین کے ساتھ
حکمراں جیسے کیا کرتے ہیں آئین کے ساتھ
اس نے __پیشے کی رعایت سے مرا نام لیا
شہر کا شہر___ بلانے لگا توہین کے ساتھ
آسمانوں پہ_____ دھواں لے گیا فریاد میری
میں تیرے ہجر میں جلتا رہا تسکین کے ساتھ
کوئی_____ وعدہ پئے تسکین ِ دل ِ غم زدگاں
جیسے قدرت کیا کرتی ہے مساکین کے ساتھ
اس نے بچھڑے ہوئے لوگوں کی دعا جب مانگی
ہم تو مسجد میں بھی رونے لگے آمین کے ساتھ

وہ جانتے ہیں دیا میں جلانے والا ہوں مرے حبیب یونہی سب ہوا بنے ہوئے ہیں


کوئی رسول تو کوئی خدا بنے ہوئے ہیں
یہ خاکی لوگ تھے اور کیا سے کیا بنے ہوئے ہیں

وہ جانتے ہیں دیا میں جلانے والا ہوں
مرے حبیب یونہی سب ہوا بنے ہوئے ہیں

خوشامدی لگے ہیں جوتے صاف کرنے میں
جو خود پرست ہیں وہ خاک پا بنے ہوئے ہیں

زوال اس سے بڑا اور کیا یہاں آئے
کہ اندھے اندھوں کے اب رہنما بنے ہوئے ہیں

جو بادشاہ تھے کل آج وہ بھکاری ہیں
وہ کل جو منگتے تھے حاجت روا بنے ہوئے ہیں

جو ان کے خول اتاروں تو بھیڑیے نکلیں
یہ جتنے لوگ یہاں پارسا بنے ہوئے ہیں

جو اس جہاں میں کسی کام کے نہ تھے باقرؔ
وہ گونگے بہروں کے اب پیشوا بنے ہوئے ہیں

تتلیوں کا جو تعاقب کرے ، چالان بھرے زُلف میں پھول سجانے پہ سزا دی جائے

اَبر کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے
مفت بارِش میں نہانے پہ سزا دی جائے

سانس لینے کا بھی تاوان کیا جائے وُصول
سب سِڈی دُھوپ پہ کچھ اور گھٹا دی جائے

رُوح گر ہے تو اُسے بیچا ، خریدا جائے
وَرنہ گودام سے یہ جنس ہٹا دی جائے

قہقہہ جو بھی لگائے اُسے بِل بھیجیں گے
پیار سے دیکھنے پہ پرچی تھما دی جائے

تجزیہ کر کے بتاؤ کہ منافع کیا ہو
بوندا باندی کی اَگر بولی چڑھا دی جائے

آئینہ دیکھنے پہ دُگنا کرایہ ہو گا
بات یہ پہلے ، مسافر کو بتا دی جائے

تتلیوں کا جو تعاقب کرے ، چالان بھرے
زُلف میں پھول سجانے پہ سزا دی جائے

یہ اَگر پیشہ ہے تو اِس میں رِعایت کیوں ہو
بھیک لینے پہ بھی اَب چنگی لگا دی جائے

کون اِنسان ہے کھاتوں سے یہ معلوم کرو
بے لگانوں کی تو بستی ہی جلا دی جائے

حاکمِ وَقت سے قزاقوں نے سیکھا ہو گا
باج نہ ملتا ہو تو گولی چلا دی جائے

کچی مِٹّی کی مہک مفت طلب کرتا ہے
قیس کو دَشت کی تصویر دِکھا دی جائے

دامن دل کی لاکھوں ہوئیں دھجیاں. کیجیے کیجیے اب رفو کیجیے.

ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیے.
پوری دل کی یہی جستجو کیجیے.

آپ کی دشمنی کا میں ہوں معترف.
وار  کیجے   مگر  دو بدو   کیجیے.

دامن دل کی لاکھوں ہوئیں دھجیاں.
کیجیے   کیجیے   اب   رفو  کیجیے.

پھول موسم میں کانٹوں کے بیوپار سے.
جسم و جان و جگر مت لہو کیجیے.

زندگی  ہو  مگر. درد  ہجراں  نہ ہو.
ایسے  جینے  کی  کیا  آرزو کیجیے.

آپ  کتنے  حسیں  ہیں نہیں جانتے.
آئینے   کو   ذرا   روبرو   کیجیے.

فرحتؔ جاں کی کیوں جستجو کیجیے.
بجھتے جیون کی کیا اب نمو کیجیے.

زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور، عادلِ شہر ترے عدل کے معیار پہ تُھو


جِس کے پلّو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بُوٹ،
ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تُھو

جو فقط اپنے ہی لوگوں کا گلا کا ٹتی ہو،
ایسی تلوار مع صاحبِ تلوار پہ تُھو

شہر آشوب زدہ، اُس پہ قصیدہ گوئی،
گنبدِ دہر کے اس پالتو فنکار پہ تُھو

زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور،
عادلِ شہر ترے عدل کے معیار پہ تُھو

کاٹ کے رکھ دیا دنیا سے تری راغب نے،
اے عدو ساز، تری دانش بیمار پہ تُھو

Wednesday, 9 May 2018

میں گداگروں کے دیار میں ہوں جو زندہ دفن مزار میں مرا شوق میرا زوال ہے مرا گیان میرے خلاف ہے


نہ زمین میری حریف ہے نہ زمان میرے خلاف ہے
میں اک ایسا سچ ہوں جو تلخ ہے سو جہان میرے خلاف ہے
یہ عدالتوں کاہے معجزہ کہ گداگری کاشعورِ نو
سو مرے گواہِ عزیز ہی کابیان میرے خلاف ہے
اک اداس عہد کی حسرتیں اک عجیب دور کی حیرتیں
مرے دل میں کیسے سما گئیں مرادھیان میرے خلاف ہے
میں گداگروں کے دیار میں ہوں جو زندہ دفن مزار میں
مرا شوق میرا زوال ہے مرا گیان میرے خلاف ہے
میں زیاں کی رت کاچراغ تھا مگر عہد سود میں جل اٹھا
یہ سیاہ رات کا ہمنوا یہ جہان میرے خلاف ہے

ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر جا ،خدا میرے طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے


ہرکوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرارکھے
کس کو سیراب کرے ہے کسے پیاسا رکھے
عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا
اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے
ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا
کوئی تجھ سا ہو تو نام بھی تجھ سا رکھے
دل بھی پاگل ہے اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے  نہ اپنا رکھے
ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر
جا ،خدا میرے طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے
یہ قناعت ہے، اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

آسمانوں پہ اڑو ذہن میں رکھو کہ جو چیز خاک سے اٹھتی ہے وہ خاک پہ آ جاتی ہے


گندھ کے مٹی جو کبھی چاک پہ آ جاتی ہے
بات بے مہریٔ افلاک پہ---- آ جاتی ہے
آسمانوں پہ اڑو ذہن میں رکھو کہ جو چیز
خاک سے اٹھتی ہے وہ خاک پہ آ جاتی ہے
رنگ و خوشبو کا کہیں کوئی کرے ذکر تو بات
گھوم پھر کر تری پوشاک --پہ آ جاتی ہے
بکھرا بکھرا سا ہے---- انداز تکلم ان کا
اور تہمت مرے ادراک۔۔۔۔۔- پہ آ جاتی ہے
نخل محفوظ رہیں۔۔۔۔۔۔ باد حوادث جو چلے
ایک آفت خس و خاشاک۔۔۔۔ پہ آ جاتی ہے
چھوڑ جائے جو کوئی ۔۔۔۔چاہنے والا فرتاشؔ
زندگانی رہ سفاک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہ آ جاتی ہے

مجھے نہ طیش دلاؤ میں وہ قلندر ہوں کہ پتھروں کو بھی میں باکلام کر دُوں گا



میں اب کی بار کوئی ایسا کام کر دُوں گا
کہ حاسدین کی نیندیں حرام کر دُوں گا

دوبارہ پھر کہیں بَک بَک نہ کر سگیں گے وہ
مُنافقین کے مُنہ میں لگام کر دُوں گا

اگر اے شاہو بغاوت پہ میں اُتر آیا
تو تخت و تاج کا قِصّہ تمام کر دُوں گا

اے شہر والو دِیے مُجھ سے چھینو مت ورنہ
میں شہر بھر میں اندھیرے دوام کر دُوں گا

نہ میں خُدا ہُوں نہ مُرسل مگر زمیں والے
سبھی خُداؤں کو اپنا غلام کر دُوں گا

مجھے نہ طیش دلاؤ میں وہ قلندر ہوں
کہ پتھروں کو بھی میں باکلام کر دُوں گا

اِس ایک جُرم میں مَیں مارا جاؤُں گا لیکن
زمانے بھر میں محبت کو عام کر دُوں گا

میں قیدِ مذہب و مسلک سے بس نکل آؤُں
تو جو بھی سامنے آیا سلام کر دُوں گا

مجھے خبر ہے کہ باقرؔ بس ایک سچ کہہ کر
میں اپنے قتل کا خود انتظام کر دوں گا

زمیں پہ پہلے تو ایجاد کی گئی حیرت فلک سے خاک پہ پھر بوتراب لایا گیا


کبھی چراغ کبھی آفتاب لایا گیا
ہماری نیند میں یوں اضطراب لایا گیا
تراشِ جسم ہے گویا کہ اس بھکارن پر
شباب آیا نہیں تھا شباب لایا گیا
ہمارے حکم کی تعمیل بعد میں کی گئی
ہماری میز پہ پہلے حساب لایا گیا
زمیں پہ پہلے تو ایجاد کی گئی حیرت
فلک سے خاک پہ پھر بوتراب لایا گیا
کسی کے دل پہ اتارا گیا تمہارا وصل
کسی پہ ہجر کی صورت عذاب لایا گیا
تمہارے جسم کو خوشبو سے غسل دینا تھا
سو نورِ خلد سے دھو کر گلاب لایا گیا
کسی کی آنکھ میں صحرا کی پیاس رکھی گئی
کسی کی آنکھ سے جامِ شراب لایا گیا
مجھے بٹھایا گیا آخری نشستوں پر
مرے خیال پہ یوں انقلاب لایا گیا

پھر تو مضراب جنوں ساز انا لیلیٰ چھیڑ ہائے وہ شور انا القیس کہ محمل سے اٹھا


بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھا
مل کے پلٹی تھیں نگاہیں کہ دھواں دل سے اٹھا

جلوہ محسوس سہی آنکھ کو آزاد تو کر
قید آداب تماشا بھی تو محفل سے اٹھا

پھر تو مضراب جنوں ساز انا لیلیٰ چھیڑ
ہائے وہ شور انا القیس کہ محمل سے اٹھا

اختیار ایک ادا تھی مری مجبوری کی
لطف سعی عمل اس مطلب حاصل سے اٹھا

عمر امید کے دو دن بھی گراں تھے ظالم
بار فردا نہ ترے وعدۂ باطل سے اٹھا

خبر قافلۂ گم شدہ کس سے پوچھوں
اک بگولہ بھی نہ خاک رہ منزل سے اٹھا

ہوش جب تک ہے گلا گھونٹ کے مر جانے کا
دم شمشیر کا احساں ترے بسمل سے اٹھا

موت ہستی پہ وہ تہمت تھی کہ آساں نہ اٹھی
زندگی مجھ پہ وہ الزام کہ مشکل سے اٹھا

کس کی کشتی تہ گرداب فنا جا پہنچی
شور لبیک جو فانیؔ لب ساحل سے اٹھا

Tuesday, 8 May 2018

وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں اُن کے سینے میں بھی شہکار ہُوا کرتے ہیں

مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں
سائے بھی راہ کی دیوار ہُوا کرتے ہیں

وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں
وہ عدالت میں گُنہگار ہُوا کرتے ہیں

صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خود دار ہُوا کرتے ہیں

وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں
اُن کے سینے میں بھی شہکار ہُوا کرتے ہیں

صبح کی پہلی کرن جن کو رُلا دیتی ہے
وہ ستاروں کے عزا دار ہُوا کرتے ہیں

جن کی آنکھوں میں سدا پیاس کے صحرا چمکیں
در حقیقت وہی فنکار ہُوا کرتے ہیں

شرم آتی ہے کہ دُشمن کِسے سمجھیں محسن
دُشمنی کے بھی تو معیار ہُوا کرتے ہیں

کسی کی راہ سے خدا کی خاطر ، اٹھا کے کانٹے ، ہٹا کے پتھر ۔ پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔*

*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔*
ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔*

ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے۔
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔*

کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے۔
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔*

خیال اپنا ، مزاج اپنا ،  پسند اپنی ، کمال کیا ہے ؟
جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔*

کسی کی راہ سے خدا کی خاطر ، اٹھا کے کانٹے ، ہٹا کے پتھر ۔
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔*

وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی  لڑکھڑائے ، شکست کھائے۔
لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔*

ہزار طاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے۔
ادب کی لذت، دعا کی خوشبو بسا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔*

Monday, 7 May 2018

تو میری آنکھ کے حجرے میں لوٹ آئے گا... میں تجھکو دونوں جہاں کی حدود سونپتا ہوں...

حدوں سے بڑھ کے مکمل حدود سونپتا ہوں...
تری تھکن کو میں اپنا وجود سونپتا ہوں...

رگوں میں خون کی حدت سے خشک سالی ہے...
میں اس روانی کو رسم_جمود سونپتا ہوں...

وہ مجھ سے دور تو میں اس سے دور ہونے لگا...
میں برگزیدہ اذیت کو سود سونپتا ہوں...

میں سونپ دینے کی منزل تلک نہیں پہنچا...
مگر کسی کو قیام و سجود سونپتا ہوں...

وہ بے زبان خدا کر رہا تھا سرگوشی...
میں معرفت کے تناسب سے جود سونپتا ہوں...

تو کیا یہ لفظ بھی خالی ہیں معنویت سے...
زبور_جسم کو روح_داؤد سونپتا ہوں...

مرا وجود مدینہ شمار ہوتا ہے...
میں جب بھی دل سے دہن کو درود سونپتا ہوں...

نبی کا بیٹا ہوں نسبت ہے معتبر میری...
کسی کو فقر کسی کو نمود سونپتا ہوں...

عیاں بھی ہونا ہے لیکن نہاں بھی رہنا ہے...
سو غائبانہ ادا کو ورود سونپتا ہوں...

مجھے ہے خوف زمانہ نہ نیچے دب جائے...
میں اپنے سر کا فلک کو عمود سونپتا ہوں...

تو میری آنکھ کے حجرے میں لوٹ آئے گا...
میں تجھکو دونوں جہاں کی حدود سونپتا ہوں...

تو، دیکھنے کا ارادہ تو باندھ اے کاظم...
میں تیری آنکھ کو رمز_شہود سونپتا ہوں

Sunday, 6 May 2018

خدا کا نام لے کر منہ اندھیرے اور پی واعظ صراحی کیوں اُٹھا کر طاق پر وقتِ آذاں رکھ دی،

الہی کیا محبت میں یہ شکلِ امتحان رکھ دی
کسک دل میں،جلن آنکھوں میں،ہُونٹوں پر فغاں رکھ دی

بہار آئی تو کچھ اہلِ قفس نے فرطِ حسرت سے
فضاے آتشِ گل پر بناۓ آشیاں رکھ دی

سمجھ میں کچھ نہیں آتا یہ کیسا خواب ھے یارب
مری دنیا زمین و آسماں کے درمیاں رکھ دی

خدا جانے اُن کو مرے بارے میں کیا خیال آیا
اُٹھے اُٹھ کر اٹھائی،اور اُٹھا کر داستاں رکھ دی

نہیں معلوم کیا منظور ھے خلاقِ ہستی کو
مری فطرت کے شانوں پر آساسِ دو جہاں رکھ دی

مرے ذوقِ جراحت پر قیامت سی اک آ ٹوٹی،
جب اُس نے تیر پھینکے،اور جُنھجلا کر کماں رکھ دی

خدا کا نام لے کر منہ اندھیرے اور پی واعظ
صراحی کیوں اُٹھا کر طاق پر وقتِ آذاں رکھ دی،

مذاقِ گفتگُو بخشا تو پھر یہ کیسی بندش ھے
خدا نے کس لئے بتیس دانتوں میں زباں رکھ دی

مری بربادیوں کا کچھ دنوں تو تذکرہ رہتا
چمن والو،،ابھی سے کیوں بھلا کر داستاں رکھ دی

فلک سے رحمتیں نازل ہُوں افشاں چننے والوں پر
کسی کی مانگ میں جیسے کہ لا کر کہکہشاں رکھ دی

نصیر،،اُن کے اِس اندازِ کرم نے مار ہی ڈالا
سُنے اوروں کے آفسانے ہماری داستاں رکھ دی

ہم ایسے بے سروساماں جہانِ امکاں میں ہزار سال بھی رہتے، تو بے نشاں رہتے

زمیں پہ بوجھ تھے، کیا زیرِ آسماں رہتے
یہ کائنات پرائی تھی، ہم کہاں رہتے

ہم ایسے بے سروساماں جہانِ امکاں میں
ہزار سال بھی رہتے، تو بے نشاں رہتے

جو ہم لہو کی شہادت بھی پیش کر دیتے
جو بدگماں تھے، بہرحال بدگماں رہتے

کوئی فریبِ وفا ہی میں مبتلا رکھتا !
تو اُس کے جور و جفا پر بھی شادماں رہتے

پُکارتا جو کوئی سُوئے دار بھی دل سے
تو نقدِ جان لئے، سر بہ کف رَواں رہتے

کسی کے ایک اشارے پہ جل بُجھے ہوتے
بَلا سے بعد کے منظر دُھواں دُھواں رہتے

مگر، یہ سود و زیاں کا جہان تھا عاجزؔ
یہاں خلوص کے سجدے بھی رائیگاں رہتے

Wednesday, 2 May 2018

ہم نے مدت سے الٹ رکھا ہے کاسہ اپنا دستِ دادار ترے درہم و دینار پہ خاک

جب یہ عالم ہو تو لکھیے لب و رخسار پہ خاک
اڑتی ہے خانۂ دل کے در و دیوار پہ خاک

تو نے مٹّی سے اُلجھنے کا نتیجہ دیکھا
ڈال دی میرے بدن نے تری تلوار پہ خاک

ہم نے مدت سے الٹ رکھا ہے کاسہ اپنا
دستِ دادار ترے درہم و دینار پہ خاک

پتلیاں گرمیِ نظارہ سے جل جاتی ہیں
آنکھ کی خیر میاں‘ رونقِ بازار پہ خاک

جو کسی اور نے لکھا ہے اسے کیا معلوم
لوحِ تقدیر بجا‘ چہرۂ اخبار پہ خاک

چار دیوارِ عناصر کی حقیقت کتنی
یہ بھی گھر ڈوب گیا دیدۂ خوں بار پہ خاک

پائے وحشت نے عجب نقش بنائے تھے یہاں
اے ہوائے سرِ صحرا تری رفتار پہ خاک

یہ غزل لکھ کے حریفوں پہ اڑا دی میں
جم رہی تھی مرے آئینہ اشعار پہ خاک

یہ بھی دیکھو کہ کہاں کون بلاتا ہے تمہیں
محضرِ شوق پڑھو‘ محضر سرکار پہ خاک

آپ کیا نقدِ دو عالم سے خریدیں گے اسے
یہ تو دیوانے کا سر ہے سر پندار پہ خاک

سمجھو گے دل کی رمز مُجھی سے مگر ابھی تُم شوق پُورا کرلو، ذھینوں سے پُوچھ لو

لعل و گُہَر کہاں ھیں، دفینوں سے پُوچھ لو
سینوں میں کافی راز ھیں، سینوں سے پُوچھ لو

جَھیلا ھے مَیں نے تین سو پینسٹھ دُکھوں کا سال
چاھو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پُوچھ لو

قبروں کے دُکھ سے کم نہیں کچّے گھروں کے دُکھ
تم زندہ لاشوں یعنی مکینوں سے پُوچھ لو

چوتھا گواہ اندھا ھے، حد کس طرح لگے ؟؟؟
عینی گواہ تین ھیں، تینوں سے پُوچھ لو

مَیں جُونہی بوئے بیج، شجر پُھوٹنے لگے
مُجھ پر یقیں نہیں تو زمینوں سے پُوچھ لو

ایک آدھ تو کرے گی ھی اقرار لازماً
دو تین چار پانچ حسینوں سے پُوچھ لو

سمجھو گے دل کی رمز مُجھی سے مگر ابھی
تُم شوق پُورا کرلو، ذھینوں سے پُوچھ لو

چِھن جائے گھر تو کیسے رُلاتی ھے بےگھری
ٹُوٹی انگوٹھیوں کے نگینوں سے پُوچھ لو

سچ سچ بتائیں گے وہ تمہیں ڈُوبنے کا لُطف
دریا کی تہہ میں غرق سفینوں سے پُوچھ لو

اپنے گُرو کے طور پہ لیں گے سب ایک نام
تُم شہر بھر کے سارے کمینوں سے پُوچھ لو

نیچے اُترتے وقت اُسے موچ آگئی
آگے کا سارا واقعہ زینوں سے پُوچھ لو

پوچھو نہ سجدہ گاہ سے سجدوں کی چاشنی
ھاں پوچھنا ھی ھے تو جبینوں سے پُوچھ لو

ڈستے ھیں کس ترنگ میں، پُھنکارتے ھیں کیوں
سانپوں کی نفسیات خزینوں سے پُوچھ لو

جو بات اھلِ عرش بھی بتلا نہیں سکے
 فارس ! وہ بات خاک نشینوں سے پُوچھلو

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...